Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 165

پاور

پاکستان کی سیاست بہت ہی عجیب و غریب قسم کی سیاست ہے، کوئی بھی سیاست دان جب چاہے کوئی بھی بڑی سے بڑی بات کہہ دے، کسی پر کوئی الزام لگا دے، کوئی شہادت کوئی ثبوت کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، آج کل پی ڈی ایم کا سرکس لگا ہوا ہے، شہروں شہروں گھوم کر کرتب دکھا رہے ہیں، امریکا میں ہر سال سمندری طوفان آتے ہیں، بعض خطرناک بھی آئے ہیں، جیسے کٹرینا، ڈورین، ارما وغیرہ۔ جنہوں نے کافی تباہی مچائی لیکن اکثر ایسا ہوا ہے کہ جب یہ طوفان سمندر میں بننا شروع ہوتے ہیں تو بڑی خطرناک خبریں آتی ہیں کہ بہت خوفناک طوفان آرہا ہے، بہت تباہی پھیلے گی لیکن ہوتا یہ ہے کہ یہ طوفان ساحل تک آتے آتے اپنی طاقت کھو دیتا ہے اور نہایت کمزور ہو کر ساحلی شہر میں بارش برسا کر چلا جاتا ہے، پی ڈی ایم بھی بہت شور شرابے سے آئے تھے، لیکن ساحل تک آتے آتے دم توڑ چکے ہیں، پہلے سنا تھا گجرانوالہ جلسے کے بعد حکومت چلی جائے گی پھر ملتان کے بعد پھر کہا گیا بس لاہور کا جلسہ آخری ہے اور اب حکومت کو گھر بھیج دیں گے لیکن یہ وہی طوفان ہے جو ساحل تک آتے آتے دم توڑ گیا۔ اب وہ لوگوں کو جھانسا دے رہے ہیں کہ جنوری کے آخری لانگ مارچ کے بعد حکومت کا بوریا بستر گول ہو جائے گا اور میرا خیال ہے کہ جنوری کے آخر تک گیارہ پارٹی اتحاد چار حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے اور پھر واپس اپنے اپنے تخریب کے راستے پر چل پڑیں گے۔
لاہور جلسے میں بلاول گلا پھاڑ پھاڑ کر چلائے کہ ہم سے رابطہ کیا جارہا ہے، اب یہ رابطہ نا کیا جائے، ہمیں فون نا کیا جائے، کوئی اس سے پوچھے بے وقوف آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کوئی فون کال، کوئی ملاقات چھپی رہ سکتی ہے؟ اگر ثبوت مانگا جائے گا تو بغلیں جھانکنے لگیں گے۔
ہمارے ملک کے عوام کی ایک بڑی تعداد غلامانہ ذہنیت رکھتی ہے، پاکستان بن جانے کے بعد ان کو آزادی کے بارے میں بتایا بھی گیا لیکن اس آزادی پر وہ حیران اس لئے تھے کہ ان کے علاقے میں وہی جاگیردار، وہی ذمیندار، چوہدری، وڈیرہ، خان، سردار موجود تھا جو ان کے آباﺅ اجداد کا آقا تھا، وہ بھلا کیسے آزاد ہو سکتے تھے، اس بات پر ایک کہانی سنانا چاہتا ہوں، یہ کہانی تو کسی اور ملک کی ہے لیکن یہ بالکل ہماری قوم پر پوری اترتی ہے۔
ایک شخص کہیں جارہا تھا اس نے چند ہاتھی کھڑے دیکھے، جب وہ ہاتھیوں کے قریب پہنچا تو اس نے محسوس کیا کہ ہاتھیوں کے پیر میں ایک معمولی سی رسی بندھی ہوئی ہے جسے وہ ایک جھٹکے سے توڑ سکتے ہیں، رسی کا دوسرا سرا ایک کھونٹے سے بندھا تھا اس نے حیرانی سے ہاتھی سدھانے والے سے پوچھا بھائی یہ ہاتھیوں کے پیر میں رسی کیوں باندھی ہوئی ہے؟ ہاتھیوں کے نگران نے جواب دیا اس لئے کہ یہ ہاتھی بھاگ نہ جائیں، اب تو وہ اور بھی حیران ہوا اور کہنے لگا بھائی یہ رسی تو اتنی کمزور ہے کہ یہ ہاتھی ایک جھٹکے میں توڑ سکتے ہیں، ہاتھی کے نگران نے مسکرا کر کہا مجھے معلوم ہے لیکن یہ ہاتھی اسے نہیں توڑیں گے۔ اس لئے کہ یہ رسی ہم نے ان کو اس وقت باندھی تھی جب یہ بچے تھے اس وقت انہوں نے کوشش کی لیکن توڑ نہ سکے اس کے بعد ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ اس رسی کو کبھی بھی نہیں توڑ سکتے لہذا ان کے مرتے وقت تک یہ رسی بندھی رہتی ہے اور یہ کہیں نہیں جاتے۔
اگر کسی قوم کے ذہن میں خوف ڈالنا ہو، غلام بنانا ہو تو بچپن سے ہی ان کو یہ احساس دلا دو کہ وہ کبھی غلامی سے نہیں نکل سکتے، پھر وہ کتنے بھی جسمانی طور پر طاقتور ہوں، اپنے آقا کے کمزور سے بچے کے سامنے بھی ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں، یہ مثال صرف عوام پر ہی صادق نہیں آتی، بڑے بڑے پرانے سیاست دان اس وقت بلاول زرداری، آصفہ زرداری اور مریم صفدر کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں، کیوں کہ ان کے پیروں میں بچپن سے ہی غلامی کی رسی باندھ دی گئی تھی۔ یہ کبھی بھی اس غلامی سے نکل نہیں سکتے۔ اسی طرح سے عوام کی ایک بڑی تعداد ہے جو اپنے سیاست دانوں، جاگیرداروں اور وڈیروں کے اشارے پر ناچ رہے ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کے گھروں میں جھاڑو لگانے بھی وزیر اعظم کو آنا چاہئے، وہ تمام کام وہ تمام فرائض جو قوم کے کسی فرد کے ذمہ ہیں وہ اس کا ذمہ دار صرف حکومت اور خاص طور پر صدر یا وزیر اعظم کو سمجھتے ہیں، ایک بہت پرانی کہانی ہے کہ ایک مرتبہ ایک بادشاہ کو انوکھی ترکیب سوجھی، اس نے ایک ایسے راستے پر جسے سڑک تصور کرلیں ایک بہت بڑا پتھر بیچ میں رکھ دیا، اب ہر شخص اس پتھر سے بچ کر نکل رہا ہے اور بادشاہ اور اس کے وزراءکو برا بھلا کہہ رہا ہے، کافی لوگوں کے جانے کے بعد ایک شخص آیا جو لکڑیوں کا ایک گٹھر سر پر رکھے چلا جارہا تھا، اس نے جو یہ پتھر دیکھا تو گٹھر کو نیچے رکھا اور اس پتھر کو سڑک سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگا اور آخرکار کنارے کردیا۔ جب وہ پلٹا تو اسے ایک تھیلی نظر آئی جو شاید اسی پتھر کے نیچے تھی اس شخص نے جب اس تھیلی کو کھولا تو وہ سونے کی اشرفیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اگر قوم اپنے فرائض ایمان داری سے انجام دے تو اسے حکومت سے فائدہ ہی ملے گا، نقصان نہیں ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں