لمبے ہاتھوں اور گہری جیبوں والے 68

پاکستان۔فاشزم، فسطائیت، آئینی اداروں پر حملے

اب سے پہلے کی ایک تحریر میں ہم نے مغربی دنیا میں بڑھتے ہوئے فاشزم یا فسطایئت ، شخصی حکمرانی کے عروج، اور جموریت کے زوال پر گفتگو کی تھی۔ اس تحریر میں ہم نے پاکستان کا ذکر صرف سرسری کیا تھا۔ اس کی وجہہ یہ تھی کہ قیامِ پاکستان سے اب تک وہاں جمہوریت نہ جڑ پکڑ سکی ہے اور نہ ہی پروان چڑھ سکی۔ جب جڑ ہی نہ ہوتو پروان کا سوال بھی کیسے ہو۔
پاکستان کی جمہوری تاریخ کی صورتِ حال یہ ہے کہ وہاں پہلی بار آئین ساز اسمبلی سنہ اننچاس، 49 ، میں بنائی گئی۔ جس نے سنہ چون ، 54، میں آئین منظو کرنے کی کوشش۔لیکن آئین کی منظوری سے پہلے ہی اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے اسمبلی توڑ دی۔ جس پر اسپیکر مولوی تمیز الدین نے اعلیٰ عدالت میں اس کو چیلنج کیا، جہاں انہیں کامیابی ہوئی۔ لیکن اس پر حکومت نے وفاقی عدالت میں اپیل کی۔ اس پر اس وقت کے چیف جسٹس منیر نے اپنے بدنام زمانہ تاریخی فیصلہ میں نظریہ ضرورت کی بنیاد پر اسمبلی کی برخواستگی کو جائز قرار دیا، یہاں سے پاکستان کو غیر جمہوری اور بلا آئین رکھنے کی بنیاد پڑی۔
اس کے بعد ان ہی گورنر جنرل غلام محمد نے ایک نئی آئین ساز اسمبلی نامزد کردی۔ جس نے سنہ چھپن ، 56، میں پہلا آئین بنایا۔ لیکن تقریباً دو ہی سال کے بعد جنرل ایوب خان ، نے ایک فوجی انقلاب پرپا کیا ، اور آئین کو معطل کردیا جو تقریباً منسوخی تھا۔ اس کے بعد پاکستان سے اقلیتی صوبے بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد سنہ تہتر ، 73 ، میں ایوان کی اکثریت نے نیا آئین منظور کیا۔ اسمبلی کے ایک سو اٹھاایئس اراکین میں سے صرف تین اس پر رضا مند نہیں تھے۔
لیکن چارہی سال بعد پاکستان کے جنرل ضیا نے سنہ ستتر ، 77، میں ایک اور فوجی انقلاب برپا کیا، اور آئین کومعطل کر دیا۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم بھٹّو کو پھانسی دی گئی۔ انہوں نے بعد میں سنہ تہتر کے آئین کو دوبارہ ایک مسخ صورت میں نافذ کیا۔ اس لنگڑے لولے آئین کے تحت کچھ نیم جموری حلومتیں قائم کی گیئں جو بہر صورت فوجی حکمرانوں ہی کے طابع تھیں۔ ان نیم جمہوری حکومتوں کو بھی سنہ دو ہزار ایک، 2001میں جنرل مشرف نے رخصت کیا۔جنرل مشرف کے سنہ دو ہزار آٹھ 2008 میں رخصت ہونے کے بعد پاکستان کے سیاست دانوں نے متفقہ طور پر آئین کی اٹھارویں ترمیم ، سنہ دو ہزار دس ، 2010 میں منظور کی جو اب تک چل رہی ہے۔
یہی وہ تاریخ ہے جس کے تحت پاکستان اب تک ایک مستحکم جمہوری ملک نہیں بن پایا۔ آپ نے غور کیا ہو گا کہ اس سارے عرصہ میں عسکری اجارہ داری مستحکم ہوتی چلی گئی۔ فوجی یا شخصی آمریتوں کا ایک خاصہ یہ ہے کہ ان میںکسی بھی جماعت کے سیاست دانوں یا عوامی نمائندوں کو مطعون اور بدنام کیا جاتاہے۔ ابلاغِ عاامہ کے ہر وسیلہ کے ذریعہ سیاست دانون، عوامی نمائندوں، آئینی اداروں کے سرکردہ افراد، عدلیہ کے منصفین ، اور شہری حقوق کی بات کرنے والوں پر سب و شتم ، اور دشنام طرازی کی جاتی ہیے۔ ان کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ اور موقع بے موقع اداروں کو معطل کرنے یا انہیں ناکارہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسی عمل کو فاشزم کہتے ہیں۔ اس کی ایک خوفناک شکل یہ ہوتی ہے کے آئینی اداروں پر جن میں مقننہ ، اور عدالتیں بھی شامل ہوتی ہیں، باقاعدہ ہجوم کشی کے ساتھ حملے کیئے جاتے ہیں۔ ان کی تازہ ترین مثال آپ نے امریکی صدر ٹرمپ کی شکست کے بعد وہاں کی کانگریس پر ان کے حواریوں کی شکل میں ضرور دیکھی ہوگی۔
پاکستان میں یہ عمل بارہا دہرایا گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال وہ ہے جب نواز شریف کے حامیوں نے ایک اعلیٰ عدالت پر لشکری حملہ کیا تھا۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک تاریخ وہ ہے جب عمران خان نے اپنے حواریوں کے لشکر کے ساتھ پاکستان کی پارلیمان کا گھیراﺅ کیا تھا۔ اداروں پر حملوں لی اس زیادہ واضح مثالیں اور کیا ہو سکتی ہیں۔ جب یہ سلسلہ چل پڑتا ہے تو اس کے دہرانے کے امکانات باقی رہتے ہیں۔
اداروں پر حملہ وہ بھی ہے کہ جب سیاسی انتخابات میں دھاندلی کی جائے۔ جعلی ووٹ ڈالے جایئں۔ امیدواروں پر حملہ کیا جائے۔ اور انتخابی نتائج تبدیل کیئے جایئں۔ پاکستان میں ایسا مسلسل ہے۔ ہمیشہ یہ قیاس کیا جاتا رہا ہے کہ ایسی ہر کوشش کے پیچھے پاکستان کے ان عسکری طبقات کا ہاتھ ہوتا ہے جو یا تو جمہوریت پر یقین نہیں کرتے ، یا اداروں کو اس طرح نیم جمہوری رکھنا چاہتے ہیں کہ آئینی اداروں کا ہر فیصلہ ان کے حق میں ہو اور ان کی عسکریت مضبوط رہے۔
حال ہی میں پاکستان میں قومی اسمبلی کے ایک ضمنی انتخابات میں ڈسکہ کے بیسیوں پولنگ اسٹیشنوں سے ووٹوں کے ڈبوں سمیت خود انتخابی عملہ غائب ہو گیا۔ او ر کئی گھنٹوں کے بعد واپس آیا۔ اس افراتفری کے بعد الیکشن کمیشن نے پورے حلقہ میں نئے انتخابات کروانے کا اعلان کر دیا ، جسے عمران خاان کے حواری پسند نہیں کر رہے۔ اس کے فورا ً بعد سینیٹ کے چیئر مین کے سخت مقابلہ میں امیدوار گیلانی کے سات ووٹ رد کر کے عمران خان کے امیدوار سنجرانی کو ایک ووٹ سے منتخب کروایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ سنجرانی کو عسکری اداروں کے لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ اب یوں سینیٹ میں غلبہ حاصل کرکے کوشش کی جائے گی کہ پاکستان کے آئین میں ایسی ترامیم کی جایئں جو عسکریتی اداروں کے حق میں ہوں۔اس کے علاوہ اٹھارویں ترمیم میں حاصل صوبائی اختیارات پر قابو کیا جائے۔۔ یہاں یہ کہنا بھی اہم ہے کہ فی الوقت عمران خان اور ان کے حواری الیکشن کمیشن پر دشنام طرازی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ سپریم کورٹ کے محترم جسٹس قاضی عیسیٰ کے خلاف صدر کے صدارتی ریفرنس چلوا چکے ہیں۔ جسے اعلیٰ عدالت نے رد کر دیا۔ لیکن اس بہانے عمران خان کے حمایتیوں کو جسٹس عیسیٰ کی کردار کشی کا موقع ملا۔
ہم نے اب سے پہلے عرض کیا تھا کہ فاشزم کیا ہوتا ہے۔ آئینی اداروں کو مستحکم نہ ہونے دینے اور آئینی اداروں پر ہر خفیہ اور علانیہ ، ہر حملہ ہی فاشزم ہے۔ فاشزم آئینی اداروں کو کمزور، شخصیت پرستی کو مضبوظ، اور شخصی آمریت کی حفاظت کرتا ہے۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ آپ پاکستان کو جمہوری کہیں گے یا فسطائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں