تم کوئی تازہ سا رکھ لو اپنے پکوانوں کا نام 48

پاکستان کی دوہری شہریت کا قضیہ

گزشتہ کئی سالوں سے ہم پاکستان اور بعض دیگر ممالک کی دوہری شہریت رکھنے والے شہریوں کے بارے میں قضیے اور مسائل سنتے رہے ہیں۔ اب سے چند سال پہلے عزت مآب جسٹس افتخار چودھری کی عدالت کا وہ تاریخی فیصلہ دیکھ چکے ہین جس میں قوم کے منتخب نمائندوں کی دوہری شہریت والے اراکین ِ اسمبلی کی رکنیت منسوخ کی گئی تھی۔ یہ ایک حیران کن حکم تھا جوخود پاکستان میں لازم انسانی حقوق کے قوانین سے سے متصادم تھا۔ اس پر کئی ماہرینِ قانون نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
اس ضمن میں پاکستان کی ایک جامعہ LUMS میں شایع ہونے والا یہ مضمون توجہہ کا مستحق ہے۔
https://tinyurl.com/yxn8kbrn
اب مناسب ہے کہ ہم پاکستان میں دہری شہریت کے قانون پر نظر ڈال لیں۔ آئین کی شق کے مطابق پاکستان کے شہریوں کو دوسرے ملکوں کی شہریت حاصل کرنے کی ممانعت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ۔پاکستان کے قوانین کے مطابق اس کے لیئے ان انیس ممالک کو استثنا دیا گیا ہے جہاں پاکستانی دوسری شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
Australia, Bahrain, Belgium, Canada, Denmark, Egypt, Finland, France, Iceland, Ireland, Italy, Jordan, Netherlands, New Zealand, Sweden, Switzerland, Syria, Turkey, United Kingdom or United States
سنہ دو ہزار تیرہ میں ایک قانون کے ذریعہ سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ آج تک حکومت نے اس قانون کو باقاعدہ نافذ نہیں کیا ہے ، اس کے باوجود شہریوںکو حکومت میں ملازمت کرنے کے بنیادی حق سے محروم رکھا جارہا ہے۔
اسی طرح سپریم کورٹ نے جس حکم کے ذریعہ اراکین ِ اسمبلی کی رکنیت منسوخ کی اس میں آئین میں شہریت کے تحت پابندیوں کاقانونی جواز کمزور تھا۔ آئین یہ کہتا ہے کہ جن شہریوں نے اپنی شہریت منسوخ کر والی ہو ، وہ پاکستان میں منتخب نمائندگی کا حق نہیں رکھتے۔ جب کے دوہری شہریت کی محدود اجازت کے ذریعہ شہری پاکستانی شہریت کا حامل رہتا ہے،۔یہاں اس فیصلے میں ایک اور حقیقت کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ وہ یہ کہ دوہری شہری کے حامل پاکستانی ،انتخابات میں ووٹ دینے کا حق رکھتے ہیں۔ جس کے لیئے بارہا یہ مطالبہ بھی ہوتارہا ہے کہ ایسے پاکستانیون کے لیئے بیرونِ ملک پولنگ اسٹیشن قائم کیئے جایئں۔ حال ہی میں حکومت نے ایسی سہولت فراہم کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔
جب سپریم کورٹ نے اراکین ِ اسمبلی کی رکنیت منسوخ کی گئی تھی تو اس پر سوال اٹھے تھے۔ آئین کے تحت اسمبلی کے اسپیکر کو یہ استحقا ق حاصل ہے کہ وہ کسی رکن پر شبہ کے طور پر الیکشن کمیشن کو نظرِ ثانی اور تفتیش کی ذمہ داری دے۔ سپریم کورٹ نے یہ نکتہ نظر انداز کر دیا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ موجودہ وزیرِ اعظم ان فیصلوں پر تالیاں بجارہے تھے۔ سپریم کورٹ نے ا س معاملہ پر غور کرنے کا حق قومی اسمبلی اور سینیٹ کو دیا تھا۔ جس کے بعد اس کو حل کرنے کے لیئے آئین میں اکیسویں ترمیم تیار کی گئی۔ لیکن اس میں کچھ ایسے دیگر لا یعنی متنازعہ معاملات بھی ڈال دیئے گئے جن پر منتخب نمائندوں میں اتفاق نہیں ہوا۔ اور وہ ترمیم یوں ہی دھری کی دھری رہ گئی۔ ضروری ہے کہ قانون میں ہر تبدیلی بغیر کسی جبر کے، منتخب اداروں اور نمائندوں کے ذریعہ کی جایئں۔ عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ آئین کی کن شقوں میں تبدیلی ضروری ہے۔
پاکستان کی دوہر ی شخصیت کے حامل شہری یا بیرونِ پاکستان مقیم شہری پاکستان کا اہم اثاثہ ہیں۔ جن کی طرف سے پاکستان کو رقم کی فراہمی، پاکستان کے منصوبوں میں سرمایہ داری، اور ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کر کے پاکستان بہت ترقی کر سکتا ہے، ایسا منظم طریقہ ہی سے ممکن ہے۔ صرف وقتاً فوقتا ہنگامی سرمایہ کاری اس کے لیئے کافی نہیں ہے۔
ہمیں اچھا نہیں لگتا ہے کہ ہم اس ضمن میں بھارت سے تقابل کریں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے کم ازکم گزشتہ چالیس سالوں میں اپنے بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے لیئے خصوصی پروگرام ترتیب دیئے ہیں۔ جن میں حکومتی اور پرائیویٹ منصوبوں میں ایماندانہ اور محفوظ سرمایہ کاری نہایت اہم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بیرونِ ملک مقیم بھارتی ہر سال تقریبا ستّر ارب امریکی ڈالر بھارت بھیجتے ہیں، جن میں سے ایک خطیر رقم سرمایہ کاری میں مختص ہوتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں پاکستانی تقریباً تیرہ یا چودہ ارب ڈالر ارسال کرتے ہیں۔ جو زیادہ تر صارفانہ اخراجات میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ اگر محفوظ سرمایہ کاری ممکن ہو تو اس میں خطیر اضافہ ہو سکتا ہے۔
بیرون ِ ملک مقیم پاکستانیوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے میں بھی پاکستان ناکام رہا ہے۔ اس نے اگر ایسی کوئی کوشش کی بھی ہے تو وہ سیاسی مصلحتوں ، تعصبات اور نفاق کا شکار ہوئی ہے۔ اب سے پہلے عالمی شہرت کے حامل ماہرِ معیشت ، عاطف میاں کے ساتھ کیا ہوا ، یہ سب جانتے ہیں۔ حال ہی میں ایک قابل خاتون، تانیہ آئیدروس ، اور صحت کے مشیر ظفر مرزا کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی۔ تانیہ ہماری اس نوجوان نسل کی نمائندہ ہیں جو ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے پاکستان آئیں تھیں، جس کے نتیجہ میں انہیں خاصا مالی نقصان بھی ہوا تھا۔ اسی طرح ظفر مرزا، وزیرِ اعظم کی بد انتظامی اور غیر عاقلانہ فیصلوں کے باوجود کووِ ڈ کی متعدی وبا کا بہتری سے دفاع کر رہے تھے۔ دونوں کو ملازمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔
ان دونوں کو نکالنے کی کوئی وجہ کوئی جواز نہیں پیش کیا گیا، ان کی دوہری شخصیت پر صرف قیاس آرائی تھی جب کہ اب بھی کابینہ میں نو اور دہری شخصیت والے بیٹھے ہیں۔ ان دونوں کے بارے میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ، نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں