کورونا وائرس کی دوسری لہر 325

ڈیم کی اہمیت

آج دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے لیےبجلی گیس پانی جیسا اہم مسئلہ صفر کے برابر ہے۔ ان لوگوں کا جدید ٹیکنالوجی میں آگے ہونے کی اہم وجہ صرف یہ ہے۔۔ ان لوگوں نے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے سے وابستہ بنیادی مسائل پر درست وقت پر کام کیا۔ اپنے معاشرے کی بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھ کر ڈیم تعمیر کرے۔۔کسی بھی ملک میں موجود عوام کے لیے ڈیم کتنے ضروری ہیں۔۔ یہ بات پاکستانی 50 فیصد عوام کو معلوم ہی نہیں۔۔ جب ہی ڈیم کے اوپر کرپٹ حکمران آسانی سے سیاست کرلیتے ہیں۔۔ پاکستان میں ڈیم بنانا یا ان کی جگہ کا انتخاب ایک متنازعہ مسئلہ رہاہے۔۔ کالاباغ ڈیم کا منصوبہ خاص طور پر سیاسی اور علاقائی وجوہات کی بناپر کافی متنازع رہا۔۔ پاکستان میں ڈیم کا بننے کا مطلب ہے ہمیشہ کے لیے بجلی کا مسئلہ حل ہوجانا۔۔ پر یہ کیسے ممکن ہوگا۔۔اس مسئلہ کو ہی حل کرنا بڑا مسئلہ ہے۔۔ 1940 میں امریکہ شدید مالیاتی بحران کا شکار تھا۔۔ امریکی صدر روز ویلٹ نے معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے پورے ملک میں میگاپروجیکٹس شروع کئے۔۔صدر کے دوست لیلین تھال کو امریکہ میں ڈیم بنانے کی ذمہ داری دی گئی۔۔لیلین تھال نے دریائے ٹینیسی پر درجنوں ڈیم بنائے۔۔ ڈیموں کی تعمیر کے دوران لیلین کو معلوم ہوا۔ کہ جوہری توانائی سے بجلی حاصل کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔۔ وہ یہ منصوبہ لیکر امریکی صدر کے پاس گیا۔۔جس نے لیلین کو اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ بنادیا۔۔ اور اس طرح لیلین تھال امریکہ میں جدید ڈیموں اور اٹامک انرجی کا بانی کہلانے لگا۔۔
اس وقت قیام پاکستان کے بعد بھارت نے پاکستان کا پانی بند کردیا۔۔ لیلین تھال 1950کی دہائی میں سرکاری افسروں کو لیکچردینے پاکستان آیا تھا۔۔ پاکستان کی خوبصورتی اور پاکستان کے لوگوں کی محبت سے بہت متاثر ہوا تھا۔۔ لیلین نے پاکستان کے میں پانی اور بجلی جیسے اہم مسائل دیکھے تو پاکستان کو پانی اور بجلی میں خودمختار بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ ورلڈبینک کے صدر یوجین رابرٹ بلیک لیلین کا دوست تھا۔ وہ اسے پاکستان لے آیا۔ اور اس وقت کے وزیراعظم ملک قیروز خان نون تھے۔۔ انہوں نے 1958 میں صرف تین ملین ڈالر میں سلطنت عمان سے گوادر خرید کر پاکستان میں شامل کیا تھا۔۔ جو آج سی پیک کا محور ہے۔
1958 میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان پاکستان کے صدربن گئے۔۔ بھارت بار بار پاکستان کا پانی روک لیتا تھا۔ جس پر ورلڈ بینک کے صدر نے ایوب خان کو مشورہ دیا۔ کہ وہ پاکستان میں متعدد ڈیم بنائیں۔ بصورت دیگر بھارت سے جنگ کی منصوبہ بندی کرلیں۔۔اس طرح عالمی بینک نے 1960 میں بھارت پر دباﺅ ڈال کر سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستان کو کچھ اہم کام کرنےتھے۔۔پہلا جلد از جلد ڈیموں کی تعمیر ، دوسرا بھارت کے حصے میں آنے والے تین دریا?ں بیاس راوی اور ستلج کے زیر کاشت علاقوں تک دریائے سندھ کا پانی نہروں کے ذریعے پہچانا۔ صدر ایوب خان نے اس وقت ملک کے دوبڑے بیوروکریٹس غلام اسحاق اور غلام فاروق کے ذمہ یہ کام دیا۔ غلام فاروق امریکہ گئے اور ورلڈ بینک کے صدر یوجین رابرٹ سے ڈیم ڈیزائن کرنیوالی دس کمپینوں کی فہرست لی۔ اور ان سے تیسری کمپنی کے ساتھ معاہدہ ہوا۔جس کے بعد غلام فاروق نے کمپنی کے سی ای او سے ملاقات کی۔اور پہلی میٹنگ میں ہی اسے منگلاڈیم کی ڈیزائننگ کا کام سوپ دیا گیا۔ معاہدہ کے مطابق کمپنی 270 امریکہ انجینٹرز پاکستان لائیگی اور ہر امریکی انجینئر دو پاکستانی انجینئرکو تربیت دیگا۔
پاکستان نے 1962 میں منگلاڈیم کی تعمیر کا عالمی معاہدہ کیا جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سول انجین?رنگ کنٹریکٹ تھا۔ پاکستان کے پاس ڈیم کی تعمیر کے لیے مجموعی لاگت کا صرف 15 فیصد تھا۔ جبکہ باقی 80فیصد رقم ہیمں 17ممالک نے گرانٹ کی شکل میں دی 2 سال بعد تربیلا ڈیم پر بھی کام شروع ہوگیا۔ جو منگلا ڈیم سے دگنا بڑا منصوبہ تھا۔۔جس کا 3 ممالک کی کمپنیوں نے مل کر ٹھیکہ لیا۔ امریکہ دنیا کی سب کے MIT سے بڑے انجینئرنگ یونیورسٹیوں نے اس پر مقالے لکھے۔ منگلا اور تربیلا ڈیم اپنی مدت سے کم وقت میں مکمل ہوئے اور دنیا پاکستان کے جدبے شفافیت اور قوت فیصلہ کی معترف ہوگئی۔۔ اس وقت ورلڈ بینک نے پاکستان کو منگلا اور تربیلا ڈیم کے علاوہ کالا باغ ڈیم بنانے کی بھی تجویزدی تھی جو منگلا اور تربیلا کے مقابلے میں نسبتا آسان تھا۔۔چنانچہ واپڈا نے فیصلہ کیا۔ کہ ہم امریکہ انجینئرز سے منگلا اور تر بیلا ڈیم بنوالیتے ہیں اور اس دوران ہمارے تربیت یافتہ انجینئرز خود کالاباغ ڈیم بنالیں گے۔۔ یہ ہماری وہ غلطی تھی جس کا قوم آج تک خمیازہ بھگت رہی ہے۔ 1958 سے 1971 پاکستان نے تیزی سے ترقی کی۔۔ جس میں بہترین ترقی یافتہ کام بھی ہوئے۔۔ اس دور میں ملک کو جتنے ایماندار اور سفارتکار اور سیاستدان ملے دوبارہ نصیب نہیں ہوئے۔۔ اس دور کے بیوروکریٹس ریاست کے لیے ہر فیصلہ ملکی مفاد میں اللہ کا حکم سمجھ کرکرتے تھے۔۔ آج پاکستان ڈیموں بنانے کے لحاظ سے دوسرے ملکوں سے بہت پیچھے ہے۔۔ اور یہ ہی وجہ ہے پاکستان کی بڑتی ہوئی آبادی کے ساتھ بڑتے ہوئے مسائل کی۔ پاکستان میں 72سال کے دوران چھوٹے بڑے صرف 155 ڈیمز تعمیر کیے گئے ہیں۔ جبکہ جاپان میں 3116، بھارت میں 5102, چین میں 23842, امریکا میں 9265, ڈیمز پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کے پاس 900, مصر کے پاس 1000,پاکستان کے پاس 30, دن پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔۔ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران پاکستان نے ایک بھی بڑا آبی ذخیزہ تعمیر نہیں کیا۔ واپڈا کے ذرائع یہ دعوہ کرتے ہیں کہ پاکستان ہر سال 25 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع کردیتا ہے۔۔ ارسال کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان اوسطا 30 ایم اے ایف پانی سالانہ سمندر میں بہا دیتا ہے جبکہ کوٹری ڈائن اسٹریم کی ماحولیاتی بقاءکے لیے 8 ایم اے ایف سے بھی کم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیم نہ بنانے کی وجہ سے ہر سال سونے جیسے قیمتی پانی کا ضائع ہو جاتا ہے۔۔ دوسرے جانب پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر آنے والی ایک رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جٹسں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو حکم دیاتھا۔۔ ڈیموں کی تعمیر جلد سے جلد عمل میں لائی جائے۔۔ باآخر عمران خان نے 15جولائی کو دیا مربھاشا ڈیم کے تعمیراتی منصوبے کی افتتاح کی۔۔پاکستان چین کی مدد سےیہ منصوبہ بنارہاہے۔۔ ماضی میں ڈیموں کی تعمیر پر توجہ نہ دینا پاکستان کی غلطی ہے۔۔یہ فیصلہ 40-50 سال پہلے کیا گیا ہوتا تو پاکستان کی معیشت بہترین سطح کے جانب ہوتی اور یہ ہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہم ترقی نہیں کر سکے۔۔
حکومت پاکستان کو امید ہے کہ اس منصوبے سے 4500میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور 16000سے زائد افراد کو روزگار ملے گا۔۔ انڈیا کو خرشہ ہے کہ چین اور پاکستان مل کر انڈیا کے پانی کے بارے کوئی پالیسی بناسکتیں ہیں کیونکہ اس وقت لداخ میں تنازع اور ندیاں لداخ ہی سے گزرتی ہیں۔۔ انڈیا ہر طرف سے بےبس نظر آرہا ہے۔۔ انڈیا کو معلوم ہے پا کستان میں مزید ڈیم تعمیر ہونے کا مطلب ہے پاکستان کے لیے مثبت تبدیلی آنا جس سے پاکستان کی معیشت پر بہت گہرا اثر پڑے گا۔۔ اور پاکستان کی معیشت کا پہیہ ترقی کے جانب چلانے لگے گا۔۔ لیکن اس کے لیے پاکستانی عوام کو بھی ملک کی ترقی کے لیے مزید اور ڈیموں کی تعمیر کے حق میں آواز بلند کرنی ہوگی۔۔ اللہ پاک پاکستانی عوام کو اپنے حقوق کے لیے عقل و شعور کی روشنی سے نوازے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں