Latest Column, Latest Urdu Column hina m aslam 116

کراچی سب کا ہے پر کراچی کا کوئی نہیں ہے

قیام پاکستان سے پہلے کراچی کی آبادی 12 سے 13 لاکھ تھی۔ مگر جب برصغیر تقسیم ہوا تھا۔ تو کافی لوگ ہجرت کرکے یہاں آئے۔۔ جس کے بعد اس شہر میں تقریبا مزید 30 لاکھ لوگ آکر بس گئے۔۔ اس کے بعد1971میں بنگلہ دیش قائم ہوا۔ تو ایک بار پھر بڑی تعداد میں لوگوں نے اسی شہر کا رخ کیا۔ اور پھر اس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ کراچی پہنچ گئے۔ جبکہ اس کے ساتھ پورے پاکستان سے لوگ روزگار کے لیے تقریبا روزانہ ہی کراچی منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ جیسے اس شہر کے لیے کرنے کی ضرورت تھی۔ ماضی میں کبھی کراچی کی صورتحال اتنی خراب نہیں تھی۔ جو حال اب ہے۔ پہلے کے وقت کا جائزہ کرو تو معلوم ہو گا کہ کبھی زیادہ بارش کراچی کی رو نقوں کے آگے نہیں آئی تھی۔۔ جیسا آج کی زیادہ بارش نے کراچی کی رونقوں کو بجھا دیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ درست وقت پر منصوبہ بندی نہ کرنا اہم سبب ہے۔۔ آج کراچی کے شہری کی حالت جنگل کی زندگی سے بھی بدترین ہوتی جارہی ہے۔ نہ سڑکیں اچھی ہیں۔ نہ ہی پانی ہے، نہ گیس ہے اور نہ ہی بجلی ہے۔ اوپر سے زیادہ بارش کا مطلب ہے۔۔ جیسے اس شہر پر ایک قیامت آگئی ہو۔ کراچی پاکستان کا وہ شہر تھا۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے۔۔اس شہر میں کوئی خیالی پیٹ نہیں سوتا ہے۔۔ پر افسوس اس بارش نے اس بات کو بھی ایک خواب ثابت کردیا ہے۔۔ گزشتہ روز کراچی میں طوفانی بارش کے سبب بڑا علاقہ زیرآب ہوگئے۔ جس کی وجہ سے سندھ میں رین ایمر جنسی نافذ کردی گئی۔منگل کو ہونے والی طوفانی بارش نے سیاسی حکمران کی کراچی کے ساتھ مخلصی کا احساس پوری دنیا کو دیکھا دیا ہے۔۔ کراچی اور صوبہ سندھ کے دیگر شہروں میں بارش کا سلسلہ منگل کی صبح شروع ہوا تھا۔ اور کئی گھنٹے تک جاری رہا تھا۔۔جس کے بعد کراچی شہر کے شہریوں کو شدید نقصان پیش آیا۔۔۔ زیادہ بارش کے سبب کراچی بہت سی مشکلات سے دو چار ہے۔۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاھ نے صوبے بھر میں رین ایمرجنسی نافذکردی ہے۔۔اگر سندھ کے دیگر علاقوں کی بات کی جائے تو منگل کو ہونے والی بارش حیدرآباد میں 134 ملی میٹر ریکاڈ کی گئی جب کے میر پور خاص میں 127 ملی میٹر، چھور میں 122 ملی میٹر ،ٹھٹہ میں 82 ملی میٹر، مٹھی میں 147 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے۔۔ ان جگہوں کے لحاظ سے کراچی کو بارش کے پانی سے زیادہ نقصان پیش آیاہے۔۔۔ بارش کی وجہ سے کراچی شہر کے زیادہ تر رہائشی اور کاروباری علاقوں میں بارش کا پانی پانچ سے دس فٹ تک کھڑا ہوگیا ہے۔ جبکہ نشیبی علاقے کئی کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے ہیں۔۔ شہر کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں گلشن حدید، سرجانی ٹائون، ملیرندی سے ملحقہ علاقے کورنگی، لانڈھی ،ڈیفنس، منظور کالونی، ملیر شاہ فیصل کالونی، اورنگی ٹائون آئی آئی چند ریگر روڈ ،صدر کھارادر ، نارتھ کراچی، ناگن چورنگی، گلبرگ ،بفرزون، غریز آباد اور لیاقت آباد شامل ہیں۔۔ ان کے علاوہ ڈیفنس سوسائٹی گزری کمیاڑی سعدی ٹائن قائد آباد اور گلستان جوہر کے علاقے بھی متاتر ہوئے ہیں۔ گلستان جوہر میں منور چورنگی کے قریبی علاقے میں منگل کو بارش کے بعد مٹی کا تودہ گرنے سے منتعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی تباہ ہوئی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کو کراچی میں سب سے زیادہ بارش پی اے ایف فیصل بیس کے علاقے میں ہوئی۔ جہاں 118 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے اعداد دوشمار کے مطابق کراچی میں ماہ رواں کے دوران اب تک 345 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ جو اب تک شہر میں اگست کے مہینے میں ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے۔ اس سے پہلے اگست کے مہینے میں سب سے زیادہ بارش اگست 1984 میں ہوئی تھی۔ سیاسی حکمران نے صرف اپنی باتیں میڈیا تک رکھیں بالآخر لوگوں کی مدد کے لیے پاک فوج نے ساتھ دیا۔ پاک فوج نے مصیبت میں گرفتار عوام کی ہر طرح سے مدد کی۔
پاکستانی فوج کے مطابق طوفانی بارش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج اور سندھ رنیجرز کے 70 سے زیادہ اہلکار امدادی کارروائیوں کے لیے شہری انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔ 21 اگست کو ہونے والی بارشوں کا پانی ابھی تک جمع ہوا ہے۔ اور ان کے گھر کا تقریبا سارا سامان اور فرنیچر تباہ ہو چکا ہے۔۔ حالت ایسی ہے کہ بال بچوں کے ہمراہ گھر کی چھت پر دن رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان لوگوں کے گھر رہائش کے قابل ہی نہیں رہا ہے۔ 21 اگست کی رات کئی علاقوں کے لوگوں نے بھوکی گزاری۔ صبح کے وقت ایدھی الخدمت او چھپیا کے رضاکاروں نے کھانے پینے کا کچھ سامان فراہم کیا تھا۔ اب ہی تک کراچی کے کچھ علاقوں کے خاندان گھریلوزندگی دوبارہ نہیں شروع کر پائی ہیں۔
پاک فوج کے اہلکار لوگوں کی مدد کر رہے ہیں مگر امداد کے منتظر لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔کراچی کے بہت سے علاقوں میں پانی، بجلی ،گیس موجود نہیں ہیں۔ کئی گھروں میں عورتیں بچے بزرگ بھوک اور پیاس سے متاثر ہیں۔۔
کراچی میں 500 سے زائد برساتی نالے ہیں جو بحیرہ عرب میں جا گرتے ہیں مگر آبادی بڑھنے کے باعث درست کام نہیں کیا گیا۔ کراچی کی ندی نالیوں پر بھی آبادیاں قائم ہو گئیں ہیں۔ اب نہ تو کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا موثر انتظام پے۔ نہ نکاسی آپ کی کا کوئی انتظام ہے۔ جس وجہ سے اب اگر کراچی میں معمول کی بارشیں بھی ہوں گی تو صورتحال نارمل نہیں رہے گی مگر اب تو معمول سے زائد بارشیں ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث کراچی میں اربن فلڈنگ اور اس کے نقصانات کا خدشہ پہلے سے زیادہ ہوچکا ہے۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی شہر کا ماسٹر پلان دوبارہ بنایا جائے جس میں اس شہر کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے یہ ایک طویل مدتی کام ہے جب کہ فوری طور پر کرنے کی اہم ضرورت ہے کہ تمام ندی نالوں پر سے تجاوزات ختم کی جائیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس ندی نالوں پر تجاوزات پر کام کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے کراچی کے کچھ علاقے اس طوفانی بارش میں بھی محفوظ رہے تھے۔۔جیسے گارڈن ویسٹ کی طرف حب ندی پر، جنرل مشرف کے دور میں درست کام انجام دیا تھا۔ پر اس کام کے خلاف بھی کچھ سیاسی لوگ نے احتجاج کیا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ کام روک دیا گیا تھا حالانکہ اس وقت ان اقدامات پر کام کرنے سے آج کراچی کے کچھ علاقوں کو فوائد ہوا ہے۔ جس کے سبب گارڈن ویسٹ اور اس کے ساتھ والے علاقے بہت محفوظ رہے ہیں۔ گارڈن ویسٹ میں اس طوفانی بارش میں بھی لوگوں اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق گارڈن ویسٹ کے علاقے میں لوگوں کو بجلی کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور یہاں کے لوگوں کو میڈیا سے ذریعہ کراچی میں ہونے والی زیادہ بارش کے سبب نقصان کا معلوم ہواتھا۔ اس لیے کراچی میں ندی نالوں پر تجاوزات پر کام کرنے کی اہم ضرورت ہے تاکہ گارڈن ویسٹ ، اور اس کے ساتھ والے علاقوں کی طرح کراچی کا ہر علاقہ زیادہ بارش میں بھی محفوظ رہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں