غورو فکر 151

کراچی میں سیاست اب گیس پر بھی۔۔۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گیس کا بحران دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔۔ کراچی کے متعدد علاقوں میں گیس پریشر کی کمی کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔۔ جب کہ صنعتوں میں پیداواری عمل بھی ٹھپ ہوکررہ گیا ہے۔۔
سردیوں سے قبل ہی شہر کے بیشتر علاقوں میں شہریوں کو گیس پریشر میں کمی کا سامنا ہے جب کہ بعض علاقوں میں گیس بالکل غائب ہے۔
لیاری اورنگی ٹاون سمیت اولڈ سٹی ایریاز میں صورت حال زیادہ خراب ہے اور گھروں میں کھانانہیں بنا سکتے اور شہری ہوٹلوں سے کھانا خریدنے پر مجبور ہیں۔۔ دوسری جانب گیس کی قلت کے باعث پہلے سے مشکلات کا شکار صنعتیں مزید مشکل میں آگئی ہیں۔ صنعتوں میں مال نہیں بن رہا اور پیداواری عمل ٹھپ ہو کررہ گیا ہے۔
چیئرمین سی این جی اسٹیشنز اونزا یسوسی ایشن کے مطابق کراچی میں 30 فیصد سی این جی پمپس گیس پریشرنہ ہونے کے سبب بندہیں جب کی بعض علاقوں میں گیس پریشر کبھی کم اور کھبی زیادہ ہورہا ہے۔۔ ذرائع کے مطابق پرانی گیس فلیڈز کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے جس کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سوئی سدرن کے نظام میں گیس کمی کا حجم 100 سے بڑھ کر 150 ملین مکعب فٹ ہوگیا۔۔ جس کے باعث رواں موسم سرما میں گیس قلت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ لیکن کراچی سندھ میں گیس کی بندش اور قلت کے خلاف سپریم کورٹ میں گیس کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی گئی جس نے کراچی میں موجود کریشن کے نظام کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔۔۔ جس کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں سوئی گیس کی مجموعی پیداوار کا 68 فیصد نکال جاتا ہے۔ پنجاب میں مجموعی پیداوار کا 4 فیصد، بلوچستان 19 فیصد، خیبر پنخوا صرف 9 فیصد گیس پیدا کرتا ہے اور آئین کے آراٹیکل 158 کے تحت جس صوبے سے زیادہ گیس نکالی جائے گی۔ اس کو دیگر صوبوں پر زیادہ ترجیح دی جائے گی۔ اس لیے سندھ پر حکومت کرنے والوں سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔۔
ملک میں سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے کے باوجود صوبہ بھر میں گیس کی شدید قلت کیوں ہیں۔۔۔ اس وقت سندھ کے زیادہ تر علاقوں میں گیس کی قلت ہے۔۔ اور انڈسٹریز نظام بھی بہت متاثر ہے۔۔ پہلے کراچی جو پاکستان کی معیشت کے حوالے سے اہم کردار ادا کررہا ہے۔۔یہ شہر بجلی کی کمی کا شکار ہوا اور پھر پانی اور اس کے بعد گیس ان سب چیزوں کی کمی کی وجہ معدنی وسائل میں کمی نہیں ہیں۔۔ بلکہ کریشن ہیں۔۔ جس کی وجہ سے کراچی دن بہ دن بنیادی مسائل کا شکار ہورہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی کا پانی کسی سوسائٹی کو دیا جارہا ہے۔ اور اب گیس بھی اس ہی سوسائٹی کے خدمات انجام دے رہی ہے۔۔۔۔ یہ خدمت کریشن سبب کی عروج پر جارہی ہے جس کو روکنے والا کوئی نہیں۔ موجود حکومت بھی کراچی کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں