تیری نظر پہ چھوڑا ہے فیصلہ 295

کرکٹ کا ارطغل ۔۔۔ فواد عالم

عمران خان نے پاکستان ٹیلی ویژن کو ہدایت دی کہ وہ ترک ڈرامہ سیریل کا ردو ڈبنگ کے بعد ٹی وی چینل میں نمائش کا انتظام کریں جیسے ہی ارطغل کو پاکستان میں مقبولیت حاصل ہوئی تو دنیا بھر کی توجہ اس کی طرف بڑھتی چلی گئی یہ ترکی کی سچی داستان تھی جس میں ایک ترک ہیرو ارطغل نے کس طرح اپنوں کی سازشوں میں ان سے لڑتے ہوئے مخالفین پر فتح حاصل کی۔ اس نے اپنے عزم استقلال سے اپنے اندر کے حاسیدین کی سازشوں کو ناکام بنا کر دشمن پر فتح پائی اور عزم استقامت کی داستان رقم کی۔
یہ ہی کمال پاکستان میں کرکٹ کے ارطغل فواد عالم نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے اپنے مخالفین کو شکست دے کر منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ساتھ ساتھ اپنے اندر کے مخالفین کے منہ پر جس طرح اپنی سنچریوں کے تماچہ رسید کئے ہیں۔ ارطغل اور فواد عالم کا کردار ایک ہی جیسا ہے ان دونوں کا تعلق ایک ایسے قبیلے سے تھا جہاں پر ان کے اندر کے ساتھی ان کے خلاف دشمنوں سے مل کر سازشیں کرکے ان کے راستہ میں رکاوٹیں ڈالتے رہے اور قدم قدم پر سازشوں کے جال بناتے رہے اس طرح دشمن ان پر باہر سے حملہ آور ہوئے اور اپنے ان کو اندر سے نقصان پہنچانے کے درپے رہے مگر یہ دونوں وقت کے ساتھ ساتھ ان سے مقابلہ کرتے رہے اور آہستہ آہستہ کامیابیاں سمیٹتے رہے انہوں نے اپنے اندر بھی مخالفین کو پچھاڑا اور باہر کے مخالفین کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جس طرح ارطغل کے چند ساھی جانباز بھی اس میدان میں مخالفین کے سامنے شیشہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ان کا ساتھ دیتے رہے، کرکٹ میں بھی فواد عالم کے ساتھ ان ہی جیسی سازشوں کا شکار طابش خان، خرم منظور، سرفراز جیسے جانباز ہوتے رہے مگر مسلسل مخالفین کا موثر جواب دیتے رہے اور اس ہی طرح فواد عالم بھی اپنے کھیل سے مخالفین کا منہ توڑ جواب دیتے رہے اپنی شاندار غیر معمولی کارکردگی کے جوہر دکھاتے رہے
جب سے کمال فن میرا معیار ہو گیا
اپنی دوکان پہ آپ خریدار ہو گیا
اس کے برخلاف اور پاکستان کرکٹ کے حکمران مخالفین کے بجائے اپنوں کے خلاف سازشیں کرتے رہے
اپنے کسی حریف سے واقف نہیں ہوں میں
اپنے سوا کسی کا مخالف نہیں ہو میں
اپنا نقصان پہنچانے کا مقابلہ کیا جائے تو دنیا کی تمام قوموں میں مقابلہ ہمیشہ پاکستان جیتا۔ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا نقصان پہنچانے میں پاکستان کا کوئی ثانی نہیں۔
پاکستان کی کرکٹ کے ناخداﺅں نے پاکستان کا نقصان پہنچانا۔ پاکستان کے مخالف اتنا نقصان نہیں پہنچا سکے جتنا پاکستان کے عہدے داروں نے پہنچایا۔ پاکستان کو خود پاکستانیوں نے ہرایا۔ مخالفین نے کم۔ پاکستان کو شکست اپنوں نے ہی دی، مخالف ٹیموں کے مقابلے میں۔ فواد عالم کے دس سال ضائع کروا دیئے پاکستان کی ٹیم کو دنیا کی ٹیموں کے آخری نمبروں تک پہنچا دیا اس ہی سرفراز کو نقصان پہنچانے کے بجائے نقصان پاکستان کی نمبر ون ٹیم کو آخری نمبروں تک پہنچا دیا۔
اس دور میں میرٹ کے قتل عام میں آج صرف میڈیا نے کھڑے ہو کر اس قتل عام کو رواکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میڈیا نے پہلے سرفراز کے لئے آواز اٹھائی اور وقار کو عبرت دلائی تو پھر سرفراز نے آتے ہی پاکستان کی کرکٹ کونمبر ون پر پہنچا دیا۔
اب فواد نے بھی وہ کام کر دکھایا جو سرفراز نے ان لوگوں کا منہ توڑ جواب دے کر ٹیم کو نمبر ون بنایا اور اب فواد نے پاکستان کی بیٹنگ کو حوصلہ مندبنا دیا۔ کرکٹ کے میڈیا کے بزرگ راشد لطیف کا کردار حق طلفی کے خلاف شاندار ہے میڈیا کے ذریعہ حق تلفی کے خلاف جہاد کرنے والا مجاہد بھی راشف لطیف ہے۔
راشد لطیف کا کردار کرکٹ کی خدمات کے حوالے سے وہی ہے جو ارطغل میں شیخ ابن عربی کا رہا ہے جنہوں نے ہر مشکل صورت حال میں ارطغل کا راستہ صاف کرنے میں بھرپور مدد کی اور ارطغل کو متعدد مواقعوں پر رہنمائی کرکے دشمنوں پر فتح حاصل کرنے میں رہنمائی کی۔ اس طرح ارطغل کو اپنے قبیلہ والوں کی سازشوں سے محفوظ رکھا اور دشمنوں پر ہمیشہ فتح مبین دلائی۔ یوں ایک چھوٹا سا اکائی قبیلہ جس کی قیادت ان کے والد سلیمان شاہ کررہے تھے جنہوں نے اپنی اولاد کی غیر معمولی تربیت کی جس کے باعث ان کا قبیلہ ایک وقت دنیا کی بڑی سپر پاور بن کر حکومت کرنے میں کامیاب رہا اس طرح ارطغل کا نام سلطنت عثمانیہ کے ابتدائی بانیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ان کے خاندان میں جب عثمان نے اپنی سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی تو وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقتور حکومت بن کر ابھری اس ہی طرح پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں بھی راشد لطف نے کھڑے ہو کر سٹے بازی کے خلاف آواز اٹھائی پھر میڈیا کے ذریعہ حق داروں کے لئے بھی بڑی موثر جدوجہد کرکے فواد عالم جیسے کھلاڑیوں کے حق میں آواز اٹھائی۔
اس طرح ماضی میں سرفراز احمد کو بھی مسلسل نظر انداز کرکے کرکٹ میدان سے دور رکھا گیا اس موقع پر بھی راشد لطیف اور میڈیا کے باضمیر صحافیوں نے سرفراز کے حق کے لئے آواز اٹھائی جب میڈیا کے مسلسل مطالبہ پر سرفراز کو ٹیم میں شامل کیا گیا تو سرفرازنے اپنی شاندار خدمات سے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو دنیا کی صف اول کی ٹیموں میں شامل کروادیا۔ سرفراز نے نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کرکے ملکی ٹیم میں بہت سے نوجوان با صلاحیت کھلاڑیوں کو لڑ لڑ کر ٹیم میں شامل کروایا۔ یوں پاکستان کی ٹیم کو دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل کیا گیا۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی اور سرفراز کی یہ کامیابی دیکھ کر کرکٹ کے ٹھیکیدار حسد میں مبتلا ہو گئے لیکن سرفراز ان کی پرواہ کئے بغیر پاکستان کرکٹ ٹیم کو مسلسل کامیابیوں سے ہمکنار کرواتا رہا اور اس کے خلاف مسلسل سازشیں بھی جاری رہیں اور سرفراز بھی ان کا مقابلہ کرتا رہا اور جب اس کو موقع ملا تو اس نے اپنے ملک کے لئے مسلسل کامیابی حاصل کرکے کرکٹ میدان دنیا بھر میں اپنے جھنڈے گاڑ دیئے اب پھر اس کے خلاف سازشیں کرکے اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جارہا ہے جیسا کہ فواد عالم کے ساتھ روا رکھا گیا ہے، نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے ہمارے ملک کی کرکٹ کا موازنہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں سے کیا جارہا ہے یہ ہی حالات رہے تو ہم ان ملکوں سے بھی پیچھے رہ جائیں گے جس طرح ہاکی کے میدان میں یا اسکوائش کے کھیل کا حال ہے۔
ظاہر جو ان پہ مرتبہءآدمی کریں
جتنے بنے ہوئے ہیں خدا بندگی کریں
آج کرکٹ کے ناخداﺅں کی آنکھیں فواد عالم نے کرکٹ میں واپسی سے کھل گئیں ہیں اس فواد عالم نے اپنی جگہ بہت محنت اور غیر معمولی کارکردگی سے بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے یوں پاکستان کو ایک بار پھر کامیابی نصیب ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
فواد عالم نے اب تک بارہ ہزار رنز کا ڈھیر لگا چکے ہیں تقریباً چھبیس سنچریوں کے تمغہ اپنے سینے پر سجائے کرکٹ کے ہر انداز فارمیٹ میں چالیس سے اوپر کا اوسط قائم کرکے سرفہرست رہے ہیں وہ اب سے کافی عرصہ پہلے تک حنیف محمد کے بعد پاکستان کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن چکے تھے اس ہی طرح ان کا موازنہ بھارت کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی امر لال سے کیا جاتا رہا ہے جس نے بھی بارہ ہزار رنز بنا کر دنیا میں اپنا مقام بنایا یہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 2003ءسے رنز کے ڈھیر بناتے رہے اور یاد دلاتے رہے، عاصم کمال کی جو ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے باوجود شامل ہونے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے۔
فواد عالم کو بھی اگر وقت کے مطابق پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں شامل کیا جاتا تو وہ بھی اب تک جاوید میانداد کی طرح پاکستان کا ایک لیجنڈ بن چکے ہوتے۔ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بلندیوں تک پہنچا چکے ہوتے پاکستان کی کرکٹ جو اب کرکٹ کی دنیا میں نام پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے وہ اب فواد عالم کی وجہ سے دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی پوزیشن حاصل کر چکی ہوتی اس موقع پر ہمیں خرم منظور کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بھی ازالہ کرنا چاہئے کیونکہ اب تک پاکستان کو اوپننگ بیٹسمین کے مسئلے کا بھی سامنا ہے خرم منظور کے ساتھ بھی زیادتی کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے اور اس کو بھی فواد عالم کی طرح ٹیم میں واپس لا کر پاکستان کی اوپننگ کی پوزیشن کو بہتر بنانا چاہئے جس طرح ارطغل کے ساتھیوں نے ارطغل کے ساتھ مل کر دشمنوں پر فتح پائی اس ہی طرح فواد کے ساتھ خرم منظور طابش خان اور سرفراز بھی مل کر دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیموں کے مقابلہ کرکے فتح کے جھنڈژ گاڑتے چلے جائیں گے۔ جس طرح ارطغل نے ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کیا اور اب ساﺅتھ افریقہ کے ساتھ سیریز جیت کر پانچوں نمبر کے حامل ہو چکے ہیں۔
پاکستان کی شاندار فتوحات کا جو سلسلہ کراچی میں فواد عالم کی غیر معمولی کارکردگی سے شروع ہوا ہے وہ اب پنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں اس اسپرٹ کا نتیجہ ہے جو فواد عالم کی موجودگی سے اس ٹیم میں کامیابی حاصل کرکے اس سیریز کو افریقہ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ میچ جیت کر کرکٹ ٹیسٹ میں پانچویں پوزیشن حاصل ہو سکی اور کلین سوئپ حاصل کی۔ اس ٹیم میں جو نئی روح پھونکی گئی ہے اس کا سہرا پوری ٹیم کے ساتھ ساتھ فواد عالم کے سر بھی باندھا جانا چاہئے۔ رضوان، حسن علی، شاہین شاہ، فہیم اشرف بھی اس فتح کے برابر کے حق دار ہیں۔ جس طرح فواد عالم کو اس کا حق دیا گیا ہے اس ہی طرح تمام حق داروں کو ان کا حق حاصل ہو جائے تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم پانچویں سے پہلے نمبر تک پہنچ سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں