ہمسفر 270

کورونا کا آغاز انڈیا سے ہوا

دنیا بھر میں کوروناوائرس کے شکار سے دوچار ہے اس بات کو طے کرنامشکل ہے کہ کورونا وائرس کی ابتدا کسی ملک سے ہوئی تھی۔ پوری دنیا کےسامنے کورونا وائرس کے کیسز کا آغاز چین سے ہوا ہے۔ پر اس سائنس دانوں کے نئے نظریہ پر آنے والی تصویری کو یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ اب ہی تک ایسے کوئی ٹھوس دلائل نہیں ملے۔ جو اس بات کا ثابت ہوں کہ کورونا وائرس جیسی خوفناک وبا کا جنم چین سے ہی ہوا ہے۔ کورونا وائرس کے مطابق اب تک بہت سی رپورٹ سامنے آئی ہیں پر اب تک یہ تمام تر رپورٹ ٹھوس دلائل سے بے بنیاد ہے۔ اس ہی طرح چین کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انڈیا وہ ملک ہے۔ جہاں سے کورونا وائرس پوری دنیا میں پھیلاہے۔
انڈیا میں ہندی زبان میں شائع ہونے والے اہم اخبار ”نوبھارت ٹائمز“ نے برطانوی اخبار دی ڈیلی میل کے حوالے سے یہ انکشاف شائع کیا ہے۔ اس خبر کے مطابق چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے سائنس کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس 2019ءمیں گرمیوں کے موسم میں انڈیا میں پیدا ہوا تھا۔
چینی سائنس دانوں کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس جانوروں کے ذریعے گندے پانی سے انسانوں تک پہنچا ہے۔ اس کے بعد یہ انڈیا سے چین کے ووہان پہنچا ہے۔ جہاں اس کی پہلی بار شناخت کی گئی تھی۔
چینی سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈیا کے صحت کے خراب نظام اور نوجوان مہینوں تک تشخیص کے لوگوں کو متاثر کرتا رہا ہے۔
تاہم دوسرے ممالک کے سائنس دانوں نے چینی سائنس دانوں کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ برطانیہ میں گلاسگو یونیورسٹی کے ماہر ڈیوڈرابرٹسن نے کہا ہے کہ چینی سائنس دانوں کی تحقیق ناقص ہے اور اس سے کورونا وائرس سے متعلق معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔
فی الحال عالمی ادارہ صحت چین میں کورونا وائرس کا ذریعہ تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اس کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم چین بھیجی ہے۔
کورونا وائرس کے انفیکشن کا پہلا کیس گذشتہ سال دسمبر میں چین کے صوبہ ووہان میں سامنے آیا تھا۔ دوسری طرف امریکہ چین پر کورونا وائرس پھیلانے کا الزام لگاتا رہا ہے۔ جس کی چین تردید کرتا رہا ہے۔ کورونا وائرس کی ابتدا کسی ملک سے ہوئی یہ بات ایک نہ ایک دن مثبت دلائل کے ساتھ سامنے آ ہی جائے گی۔ اگر ہم انڈیاکے انسانی صحت کے مطابق موجودہ حالات پر جائزہ کرے تو چینی سائنس دانوں کا دعوہ درست بھی ہوسکتا ہے۔ انڈیا میں انسانی زندگی صحت کے خراب نظام سے سخت مشکلات کا شکار ہے۔ اس
کی اہم وجہ انڈیا میں مذہبی حوالے سے بھی ہے جو انڈیا کے کچھ انتہا پسند ہندو اپنی مذہبی رسم روارج کے سبب ایک عیجب وغریب معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں۔ جسے گائے کا پیشاب پینا اور گائے کے گوبر اپنے جسم میں لگانا ان کے نظریہ کے مطابق انسانی صحت کے لیے یہ کام بہت فائدہ مند ہے حالانکہ دنیا بھر کے کسی بھی سائنسی نظریہ نے اس کو درست نہیں کہا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق یہ عمل انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔ اس عمل سے بہت سی بیماری انسانی جسم میں پیدا ہوسکتی ہیں۔ انڈیا بہت سی چیزوں میں جہالت کے معاملات میں ڈوب ہوا ہے۔ ایسی جہالت جو انسان اور حیوان میں فرق کو کھو دیتی ہیں۔ کورونا وائرس کی آڑ میں کبھی مسلمانوں پر تشدد کبھی دوسرے مذہب کے لوگوں کو پریشان کرنا۔کبھی کوئی اور بے بنیاد چیزوں کی وجہ سے معاشرے میں تصادم کرنا یہ سب عمل انڈیا میں آج ایک عام سی بات ہے۔ انڈین حکومت پوری دنیا کے سامنے اپنا منفی چہرہ زیادہ وقت تک نہیں چھپا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں