ہمسفر 62

ہمسفر

اللہ پاک نے جب دنیا بنائی تو اس میں سب سے پہلے رشتہ میاں بیوی کا بنایا اور اس رشتے کی خوبصورتی ہمارے پیغیروں کی زندگی کے ذریعے بتائیں ہے۔ اسلام اس دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے اس رشتے میں موجود طاقت کو اپنی تعلیمات سے بتایا اس رشتے میں عورت کو مرد کے ساتھ ایک تحفظ بھری زندگی عطا کی۔ اگر ہم پہلے کے زمانے کا جائزہ کریں۔ تو اس رشتہ کو دو خاندان کو مضبوط بنانے کا زریعہ سمجھا جاتا تھا۔۔ اور وہ ایک خوشحال گھرانے کو تشکیل بھی دیتے تھے۔ جو آگے جا کر ایک مثبت ماحول کو جنم دیتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے وقت تبدیل ہوتا گیا قدرت کے بنائے ہوئے رشتوں میں ایک تبدیلی رونما ہونے لگی اور اس تبدیلی کا اثر سب سے پہلے میاں بیوی کے رشتے میں نظر آیا۔ آج کے وقت کا جائزے کریں تو طلاق کی شرح دن با دن بڑھتی جا رہی ہے پاکستان میں ایک وقت ایسا تھا جب طلاق کی شرح 1% تصور کی جاتی تھی لیکن آج یہ شرح 50% تصور کی جارہی ہے۔ جس کو فکروغور کرنے کی اہم ضرورت ہے۔ اس بڑھتی ہوئی شرح کے پیچھے ایک تو رشتوں میں کمزوری رونما ہونا ہے اور دوسری اہم وجہ قانونی اقدامات میں کوئی ٹھوس عملی کا وجود میں نہ ہونا ہے۔
اگر ہم بات کریں ان دو فرد کی جو ازواجی زندگی کے لیے کن شرائط کو مدنظر رکھتے ہیں۔ تووہ دو فرد سب سے پہلے ایک دوسرے کی چیزوں پر انحصار کرتے ہیں۔۔ جیسے ایک سودا ہو رہا ہوں۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر افراد سامنے والے کے کردار کو کم اس کے آس پاس موجود چیزوں کو زیادہ دیکھتے ہیں۔۔ اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ بے جان چیزیں میاں بیوی جیسے خوبصورت رشتہ کو کھا جاتی ہیں۔۔ جب اس خوبصورت کا آغا ہی لڑکا لڑکی کی مال ودولت دیکھ کر ہوگا تو کیسے اس رشتہ میں ایک مخلص رشتہ وجود میں آئے گا۔ آج ہمارے معاشرے میں میاں بیوی کے رشتے سے سیاست کھیلی جاتی ہے۔ اس رشتہ کو ایک عجیب انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ شادی اس لیے کی جاتی ہے کہ معاشرے کے سامنے بتاسکے کہ اب شادی شاہ ہیں لیکن اس رشتہ میں موجود ایک سچی محبت اور طاقت کو میاں بیوی کا ایک دوسرے کے لیے حقیقی لباس کوکم ہی سمجھا جاتا ہے۔۔ اگر ہم صرف اسلامی تعلیمات کا جائزہ کریں تو وہ ایک بہترین مثال پیش کرتی ہیں جس پر عمل کرکے ایک عورت اعلی شخصیت کی مالک بن جاتی ہے اور اس ہی طرح ایک مرد بھی معاشرے میں ایک نئے خاندان کی مضبوظ دیوار کی طرح پیش کرتا ہے۔ بات اگر کی جائے ایک مخلص ہمسفر تو ایک مخلص ہمسفر کا ہونا اللہ پاک کی بڑھی نعمتوں میں سے اہم نعمت ہیں۔۔ جس کے پاس ایک مخلص ہمسفر ہے وہ ایک خوش نصیب انسان تصور کیا جاتا ہے۔۔ ایک مخلص ہمسفر کا تصور عورت اس طرح کرتی ہے۔ ہر عورت کو اپنے خاندان سے بہت محبت ہوتی ہے اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا ہمسفر بھی ان کے خاندان کی عزت کرے۔۔ہمارے معاشرے میں %90 خواتین یہ چاہتی ہیں۔ کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ لوگوں کی باتیں شیئر کر سکے۔ اور ان سے رائے لے سکے۔ ان کا شوہر ان کے ساتھ بہترین دوست بن سکے۔۔ وہ اپنے شوہر کو قابل اعتماد ساتھ سمجھتی ہیں۔ ازواجی زندگی میں ہر عورت چاہتی ہے کہ اس کے شوہر کا سلوک اس کے ساتھ اچھا ہوں۔ خواتین بہت سختی برداشت نہیں کرتیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا ہمسفر لچک کا مظاہرہ کرے۔۔ ہر بات پر پابندی لگانا نہیں پسند کرتی ہیں۔۔ ہر عورت چاہتی ہیں کہ شوہر ان پر اعتماد کرتے ہوئے نرمی کریں۔
ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے اس کا ہمسفر احساس ذمہ داری باخوبی جانتا ہوں۔ اس ہی طرح ہر ہم اگر مردوں کی خواہشات کو ازاوجی زندگی مدنظر رکھیں تو %90 مردوں کی پہلی خواہش یہ ہوتی ہے ان کی بیوی ان کی عزت کریں اور ہر طرح کے حالات میں ساتھ دینے والی ہوں۔۔ صبروشکر ادا کرنے والی ہوں۔ اپنے شوہر کے آرام کا خیال کرنے والی ہوں اپنے شوہر کے گھر والوں کی عزت کریں۔ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرے۔۔۔ گھر کو ایک اچھا ماحول دے۔۔ گھر کی صفائی کا خیال کریں۔۔ اور ساتھ اپنا بھی خیال کرے جس سے اس کے چہرے پر ایک مثبت احساس رونما ہوں۔۔۔۔ اپنے شوہر کے لیے اچھا اچھا کھانے بنائے۔ اگر مرد اور عورت کی دونوں کی خواہشات کو مدنظر کریں تو یہ پوری کرنا دونوں کے لیے بالکل مشکل نہیں ہیں۔۔ لیکن بات آجاتی ہے دونوں کے سوچنے کی ہمارے معاشرے میں شادی کے وقت زیادہ تر لڑکوں کی یہ ہی سوچ ہوتی ہے کہ آنے والی لڑکی سب سے زیادہ لڑکے کے گھر والوں کا خیال کریں اور یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک گھر میں رہنے والا ہر شخص ایک مثبت سوچ کا مالک ہو ں۔ اب جب لڑکے کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ آنے والی لڑکی اپنے مضبوظ رشتے کو خوش کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اپنے شوہر کے حقوق پورے کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔۔ جس سے میاں بیوی کی ازاوجی زندگی پر منفی اثر ضرور پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات کا جائزہ کریں تو سب سے پہلے حقوق شوہر کے ہیں جس کو ادا کرنے کے بعد ایک عورت اچھی بیوی تصور کی ہے۔۔ اور میاں بیوی کے رشتہ کی ایک مضبوط بنیاد وجود میں آتی ہے۔۔ ہماری اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک عورت کا پہلا فرض یہ ہے کہ اپنے شوہر کی خدمت کریں۔ اور اگر وہ اپنے شوہر کے ماں باپ کا خیال کرتی ہے تو اس کا ثواب بہت ہے لیکن یہ خدمت فرض نہیں ہیں۔۔ اور سسرال والے ان چیزوں پر اگر ایک عورت پر زور زبردستی کرتے ہیں۔۔ تو یہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔۔ ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات کی پیروی کرنے والے کم ہیں۔۔ ازاوجی زندگی میں ہونے والے اختلافات صرف اسلامی تعلیمات سے دور ہونا نظر آتا ہے۔۔ ہمارے معاشرے میں شادی کو ایک سودا سمجھ کر کیا جارہا ہے جو ایک خطرے کی علامت ہے اس بات کو طے کرنا مشکل ہے کہ آخر اس مسئلہ کا حل کسی طرح ممکن ہے لیکن شادی کرنے سے پہلے بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل ہو اور بعد میں بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کیا جائے۔ تو اس بڑھتے ہوئے مسئلہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔۔ اللہ پاک ہم سب کو اسلامی تعلیمات کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں