تم کوئی تازہ سا رکھ لو اپنے پکوانوں کا نام 52

ہم سب کالے ہیں!

امریکہ ، کینیڈا ، اور مغرب میں آج کل ہر طرف ہنگامہ ہے۔ اس کی وجہہ یہ ہے کہ تقریباً دو ہفتہ پہلے امریکی ریاست مینیا پولِس کے ایک شہر میں ایک سفید فام پولیس والے نے ایک سیاہ فام شخص کو گرفتار کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہونے کے باوجود اس کی گردن کو آٹھ منٹ اور اکتالیس سیکنڈ تک گھٹنے سے دبا کر ہلاک کردیا۔ویڈیو میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دو دیگر پولس والے اس شخص کی ٹانگیں پکڑے ہوئے تھے۔ اور اس شخص کی مدد کی درخواست پر کسی پولس والے کے کان پر جون تک نہیں رینگی۔ اس وقت بھی جب وہ شخص اپنی سانس گھٹتے ہوئے اپنی ماں کو آوازیں دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس واقعہ کی انتہائی درد ناک اور روح فرسا ویڈیو چشمِ زدن میں دنیا بھر میں پھیل گئیں۔ کئی امریکی ریاستوں میں مظاہروں اور تشدد کی لہر پھیل گئی۔ مظاہرے اتنے شدید تھی کہ پہلے تو امریکی صدر اوٹ پٹانگ بیانات دیتے رہے اور تشدد کو مزید اکسانے کا سبب بنے۔ ساتھ ہی انہوں نے ریاستوں کے گورنر کی درخواست کے بغیر کئی جگہوں پر نیم فوجی اور اپنے دارلحکومت میں فوجی دستے طلب کر لیئے۔ ان کے اس اقدامات کی کئی سابق عہدیدارو ں اور خود موجودہ جنرلوں نے مذمت کی۔
بعد میں ان تین پولس والوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف سخت مقدمات درج کیئے۔ غیر جانبدار مبصرین کو اس ضمن میں انصاف کی توقع کم کم ہی ہے۔ اس واقعہ کے فوراً بعد کچھ اور ریاستوں میں پولس کے ہاتھوں سیاہ فام انسانوں کی ماورائے عدالت اموات کی خبریں بھی پھیلیں۔ مظاہر ے اب بھی جاری ہیں اور دنیا بھر میں پھیل رہے ہیں۔ کینیڈا میں بھی ایسی اموات کی خبریں عام ہیں۔ اب ہر جگہ ایک ہی مطالبہ ہے کہ پولس کو سر سے پاﺅں تک مسلح کرنے کے اخراجات میں کمی کی جائے، اور اس بچت کو اقلیتوں کی معیشت میں حصہ لینے کی تربیت کا ایک ذریعہ بنایا جائے اور ہر جگہ سب عوام کی ذہنی بہبود پر اخرجات بڑھائے جایئں۔ تاکہ پسماندہ طبقات کی محرومیوں میں کمی ہو سکے۔
یہاں اس حقیقت پر غور کرنا ضروری ہے کہ جب ساری دنیا اس ظلم کے خلاف احتجاج کر رہی تھی تو پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں خال خال ہی ردِ عمل ہو رہا تھا۔ اس کی وجہہ صرف یہ ہے کہ ہم اپنے تعصبات اور خود اپنی نسل پرستی کے عادی ہیں۔ ہمارے ہاں اس نسل پرستی کے نتیجہ میں بنگلہ دیش الگ ہوا۔ خود کراچی میں ہم پسماندہ طبقوں اور سیاہ رنگت والے انسانوں سے تعصبات بر تتے رہے۔ یہ تعصبات کہیں نسل پرستی اور کہیں طبقاتی اور جاگیردارانہ برتریوں کی بنیا د پر ہوتے ہیں۔ سیاہ فاموں اور اپنے سے مختلف قوموں سے تعصب ہماری جبلتوں میں بسا ہے۔
ممکن ہے کہ لوگ ہم پر اعتراض کریں کہ ہم صرف اپنوں ہی کو کیوں دیکھتے ہیں۔ سو جواباً عرض ہے کہ دوسرے ملکوں ، مذہبوں اور ملکوں میں ہم سے کہیں زیادہ ضمیر پرست اور قابل لوگ سے کام میں مصروف ہیں۔ بھارت کی ارون دتی رائے، بھارتی امریکی نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین، اور امریکہ کے نوآم چوسکی کی کوشش کو کون نہیں جانتا۔ پاکستان میں جو یہ کام کرتا ہے وہ اکثر اپنی جان سے جاتا ہے۔ کیا آپ کو سبین محمود، اور اسما جہانگیر یاد نہیں۔ آج یہ خبر بھی عام ہے کہ ضمیر پرست اور انسان دوست پرویز ہدبھائی کو ملازمت گنوانی پڑی۔ ایسے میں ہم جیسی کمزور آوازوں پر لازم ہے کہ ہم اپنے تیئں جو ہوسکے وہ کریں۔
جو بات ہمیں مایوس کرتی ہے وہ امریکہ اور کینیڈا میں بسے ہوئے پاکستانیوں کی بے حسی ہے۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ سفید فام معاشر خود ان کے اور دیگر غیر سفید فام شہریوں کے ساتھ ایک منظم اور زیریں طور پر دائمی موجود تعصب برتتا ہے۔ ان کے لیئے ہر امکان کی ایک حد ہے۔ اکڑ کچھ مراعات سرجھکا کر زندگی گزارنے پر ہی ملتی ہیں۔ اس میں بھی عام طور پر مستفید لوگوں کا خود مراعات یافتہ طبقوںمیں شامل ہونا یا ان طبقوں کی خوشامد شامل ہے۔ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ سفید فام طبقوں کی نظر” میں ہم سب کالے ہیں!“
ہم نے اس تحریر میں ”کالے “کی اصطلاح اس لیئے استعمال کی ہے کہ گزشتہ دنوں فیئر اینڈ لولی کریم یا اسی طرح کی رنگ گورا کرے والی کریم والے ایک شخص نے (یہ ہمارا قیاس ہے)، انتہائی مضحکہ خیز انداز میں یہ سوال اٹھایا کہ، Black Lives Matter کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ تو صاحبو اس کا آسان ترین ترجمہ ہے کہ ” کالوں کی زندگی بھی اہم ہے “۔ اس اصطلاح کی توضیح ضروری یوں نہیں ہے کہ ہم سب روزانہ ہی اپنی گفتگو میں ، کالا، کالی، کلّو، کلوا ، کالا جادو ، کالا بھوت، کالی رات ، جیسی اصطلاح روز ہی استعمال کرتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں اور خود اپنی شادیوں میں گورا دولہا اور گوری دلہن ڈھونڈتے ہیں کیونکہ کالے رنگ والے ہماری نظر میں کم تر ہیں۔ آپ ایمانداری سے خود سے یہ سوال کریں کہ آپ اپنے قریب کی آبادیوں میں کالے لوگوں اور ان کی بستیوں کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں۔
امریکہ میں تو کالوں سے بنیادی نفرت چار سو سال سے قائم ہے۔ امریکہ کی ترقی وہاں کے سیاہ فاموں کی محنت سے ہی ممکن ہو سکی ہے۔ وہاں اب سے چارسو سال پہلے کالی رنگت والے افریقی غلاموں کے طور پر لائے گئے تھے۔ وہ نسلاً در نسل غلام رہتے تھے۔ اب سے ڈیڑھ سو سال پہلے حاصل کردہ آزادی کے بعد بھی یہ غلامی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔ اب بھی ان کے ساتھ شدید ترین تعصب برتا جاتا ہے۔ اگر آپ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کی توجہہ کیمبرج میں ہونے والے ایک تاریخی مباحثہ کی طرف دلائیں گے جو ایک ممتاز سیاہ فام ناول نگار اور انسانی حقوق کے عمل پرست، James Bladwin اور سفید فام قدامت پرست William Buckley کے درمیاں ہوا تھا۔ آپ اسے انڑنیٹ پر یہاں دیکھ سکتے ہیں:
https://aeon.co/videos/the-legendary-debate-that-laid-down-us-political-lines-on-race-justice-and-history
خود اپنے تعصبات سمجھنے کے لیئے ہم آپ کی توجہہ ممتاز دانشور Annemarie Schimmel کے اہم مضمون Turk and Hidu کی طرف دلائیں گے جو ان کی کتاب A Two Colour Brocade میں شامل ہے۔ اس کو پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ فارسی اور ترکی ثقافت میں سیاہ رنگ یا کالا رنگ کیوں برا تھا۔ انہوں نے فارسی شاعری سے کئی مثالیں دی ہیں۔ اس حقیقت سے تو آپ واقف ہوں گے کہ ہم سب کی نفسیات اور جبلت پر فارسی، ترکی، عربی روایات کا کتنا گہرا اثر ہے۔ اور یہ ہمارے تعصبات کو کیسے فروغ دیتی ہیں۔ چلتے چلتے ہم پھر کہتے چلیں کہ ، ہم سب کالے ہیں۔جب تک ہم اس کا اقرار نہیں کریں گے، ہم کہیں بھی پسماندہ طبقوں کے درد کو محسوس نہیں کر پایئں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں