بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟ 53

یہ جھنڈا کیک نہیں ہے!

یہ جھنڈا کسی طور پر بھی کیک نہیں ہے اس کا کیک بنا کے مت کاٹئے۔
جب جھنڈے والا کیک ہو اور اس پہ پاکستان بھی لکھا ہو تو کیک کو کٹتے دیکھ کے جانے کیوں دل کو کچھ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت جھنڈے والے درجنوں کیک کٹتے دیکھنے کے بعد دل بیچارہ خاموش ہوکے بیٹھ گیا۔ ہمیشہ کی طرح ڈھیروں ڈھیر رنگارنگ تقریبات۔ عشائیے، گانے، ڈانس، سفید ہرے کپڑے ، نعرے، پینڈیمیک کے باوجود زندہ دلانِ پاکستان کے بڑے بڑے ہجوم۔ اور میں یہ سوچ رہی تھی یہ سب کرکے ہم پاکستان کو کیا دے رہے ہیں۔ یہ رنگ برنگ بھڑکیلے کپڑے ، یہ ڈانس، لاو¿ڈ میوزک کیا ہمارے ان بزرگوں کیلئے خراجِ عقیدت ہے جنہوں نے رات و رات خالی ہاتھ ، جانیں دیتے ہوئے ، خون سے لت پت ٹرینوں میں اپنی سرزمین کی جانب سفر کیا۔ تہتر سال پہلے جو جانیں ،مال لٹا کے آئے تھے ان سے ہم نے کیا سیکھا۔ جسمانی طور پر آزاد ہونے کے باوجود ہم آج بھی ذہنی طور پر غلام ہیں۔
کیا یہ پوں پوں والے باجے، بغیر سائلینسرکے موٹر سائیکل ان شہدا کو خراج پیش کرنے کیلئے سڑکوں پر لائے جاتے ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز کی مٹی کو اپنے خون سے نم بخشی۔ جن کے خاندان لاواثوں والی زندگی بسر کرتے ہیں کیا یومِ آزادی پہ ہونے والی رنگارنگ محفل سے نکل کر کوئی اس فوجی کی بیوا کے پاس جاکے چند گھڑی بیٹھا ہے جس کے شوہر نے شہید ہونے سے پہلے یہ بھی نہ سوچا کہ جس مٹی میں اس کا خون جذب ہونے جارہا ہے اس کے بچوں اور بیوی کو یہ عرض پاک بدلے میں تین وقت کی روٹی بھی دے پائے گی یا نہیں؟ کوئی اس کے بچوں کی تعلیم کی یقین دہانی کرائے گا یا نہیں۔ آج جب ہر کوئی ہرے سفید کپڑوں میں ملبوس گانے گارہا ہے کسی شہید کی بیوہ کے سفید کپڑوں کی بے بسی کو ہرے دن کی نوید سنانے کا خیال تو کسی کو نہ آیا ہوگا
ہمیں بچپن میں ابو جھنڈیاں نہیں لگانے دیتے تھے۔ ہم بہت اداس ہوتے تھے کہ آس پاس کے سب گھروں میں جھنڈیاں لگتی ہیں تو ہم کیوں نہیں لگا سکتے ؟ ابو بہت پیار سے ہمیں سمجھاتے تھے کہ ایک بھی جھنڈی ٹوٹ کے گرے گی تو پاکستان کے جھنڈے کی بے حرمتی ہوگی۔ بچپن میں یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی مگر آج سمجھ آتی ہے۔ جب جھنڈے والا کیک بار بار کٹتے دیکھتی ہوں تو لگتا ہے پاکستان تہتر سال سے یونہی کٹ رہا ہے اپنوں کی چھریوں سے۔ اور پھر سب لوگ مل بانٹ کے کیک کھا جاتے ہیں اور ادھر دل بیٹھ جاتا ہے کہ اتنے سالوں میں حقیقتاً یہی ہوا ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ محض کاٹا اور کھایا ہی گیا ہے۔ آج جسے ہم نے کیک بنا ڈالا ہے اس کے پیچھے کتنی دہائیوں کی کٹھن اور سخت جدوجہد تھی۔ کسی کا خواب تھا تو کسی کی دن رات کی محنت۔ کسی کی زیرک اور دانشمندی تو کسی کی جرات۔
اتنے گئے سالوں میں ہم حساب کتاب کے چھوٹے سےفارمولے بھی نہ سیکھ پائے کہ ہمارے ہی ملک میں جہاں آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی اوسط لائن سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہے وہاں محض ایک دن کے شغل کیلئے جھنڈیوں اوع ڈیکوریشنز کے نام پر کتنے پیسے ضائع ہوتے ہیں اس سے کسی ایک بچے کی ایک مہینے کی سکول فیس ادا ہوسکتی ہے۔ بچوں کو کتابیں خرید کردی جاسکتی ہیں۔ صد شکر کہ ہم آزاد ہیں لیکن بہت سارے خاندان بھوک اور بیماری کی قید میں دن رات پریشاں ہیں۔ ہم تہتر سالوں میں یہ جو جشن منارہے ہیں یہ آخر ہے کس چیز کا۔ ہم نے آزادی اور غلامی کے بیچ کے فرق سے کیا سیکھا۔ یا صرف آزادی کو کیک سمجھ کے کاٹے چلے جارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں