سانحات یا حادثات ماہ و سال گزرنے کا حصہ ہوا کرتے ہیں کبھی قدرتی آفات کی شکل میں سامنے آتے ہیں اور کبھی انسانی غفلت کے باعث اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ان کی پرورش دانستگی سے کی جاتی ہے بے حسی کی لپیٹ میں رہتے ہوئے اور حادثے کی پرورش ذمے داران کو احتساب کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہے
………… ریاست ذمے دار ہوتی ہے حکومت وقت کو پابند کرنے کی کہ اسکے دور میں امن و امان قائم رہے اور عوام کی ہر طور سے حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے ، ریاست کے اہم ترین ستون عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ آئینی طور پر ہر فرد کی حفاظت پر مامور کئے جاتے ہیں ، یہ ہی وجہ ہے کہ ہر جمہوری نظام میں ان تینوں کی آزادانہ طور پر فرائض انجام دینے کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے ا نکی طرف سے جو اپنے حق رائے دہندگی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے نمائندوں کے ہاتھوں میں اپنے تحفظ سونپتے ہیں
….گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے سرکاری اسپتال ” پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز PIMS“ میں جو اندوہناک حادثہ رونما ہوا ہے اس نے ان تمام انسانی رویوں کو جو کسی بھی طور انسانیت کے ذمرے میں آتے ہیں کو جس ہزیمت اور شرمندگی سے دوچار کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔نومولود جانوں کا ضیاع اور والدین کا ناقابل تلافی نقصان انتہائی تلخ اور افسوسناک حقیقت ہے ۔ کسی دوسرے ملک میں اگر اس قسم کا کوئی واقعہ رونما ہوتا تو ریاست قومی سطح پر سوگ کا اعلان کرتی اور متاثرین کے غم وانووہ میں برابر کی شریک ہوتی وہ والدین جنہوں نے ریاست کے تعمیر کردہ اسپتال اور اسکے نظام پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے لخت جگر ان کے حوالے کئے وہ اسوقت کس اذیت سے گزر رہے ہیں اسکا اندازہ لگانا بھی مشکل ترین ہے ۔
…………حکومت کے پاس اس سے متعلق کوئی جواب نظر نہیں آتا ،خبروں کے مطابق اسپتال کی نگہداشت کی مد میں اسپتال کی انتظامیہ کڑوڑوں روپے وصول کرچکی ہے مگر اسکے باوجود کسی قسم کا کوئی بھی حفاظتی آلہ سامنے نہیں آسکا ، کسی قسم کا کوئی انتظام موجود نہیں تھا ، گویا اس حادثے کی پرورش میں تمام متعلقہ اکابرین اور ادارے شامل رہے ، حکومت وقت حسب عادت اپنے کارناموں کو تحفظ دینے میں مصروف ہے جس طرح اس سے قبل پاکستان میں ہونیوالے کئی دوسرے حادثوں میں طرز عمل اختیار کیا گیا ، کمزور اور نااہل قیادت کے زیر انتظام جو نظام مروج کیا جاتا ہے اس میں اسی قسم کے لائحہ عمل اختیار کیے جاتے ہیں جبکہ درپردہ تمام مقتلین آگاہ ہوتے ہیں اس امر کے کہ ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے ۔
……..یہ اسپتال پاکستان کے کسی دور درازی علاقے میں واقع نہیں بلکہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ہے جہاں ریاست کے تمام اہم ادارے اور اکابرین کے دفتر موجود ہےں ،۔ اسی شہر سے تمام امور ریاست کیلئے پالیساں تشکیل پاتی ہیں ۔یہی سے تمام انتظامی امور مرتب کیے جاتے ہیں ۔ حادثہ کے بعد ہونیوالی تحقیقات کے مطابق اس ” عظیم “ اسپتال کے اندر کبھی حادثاتی امور پر توجہ نہیں دی گئی اس سلسلے میں کبھی کوئی پیش رفت نہیں کی گئی ۔ کچھ ماہ قبل آتشزدگی کا واقعہ ہونے کے باوجود حفاظتی اقدامات اختیار نہیں کئے گئے ۔ عوام کا اعتبار ریاست کے اداروں پر سے اٹھا لینے کا فریضہ حکومت اکابرین خود انجام دیتے نظر آتے ہیں ۔
صدیوں سے طب اور مسیحا کو ایک ایسا پیشہ گردانا جاتا رہا ہے جس کی بنیاد انسانی ہمدردی پر رکھی جاتی رہی ، طبیب یا مسیحا کا رتبہ معاشرہ میں امتیازی تسلیم کیا جاتا رہا ۔ وقت بدلنے کے ساتھ اس پیشے نے اپنی نوعیت کے کئی مراحل طے کئے مگر اس کے باوجود طبیب اور شفا دینے والا مسیحا ہی کہلاتا رہا ، صحت مند افراد ایک صحتمد معاشرہ تشکیل دیتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ریاست ذمہ دار ہوتی ہے کہ اسکے افراد اپنی روز مرہ کی زندگی میں صحت سے متعلق آسانیاں حاصل کرسکیں ۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر دارالحکومت میں واقع اسپتال کی یہ دگروں حالت ہے تو ان گاو¿ں اور دیہاتوں میں شہر کن مصیبتوں سے گزرتے ہونگے ، صحت سے متعلق مسائل سے ۔
……..وزارت صحت جب صحت کے شعبے سے غیر متعلق ایک سیاستدان کے ہاتھوں میں سونپی جائیگی تو ریاست میں صحت کے امور پر تشویشتو ہونی چاہیے ۔ وزیر صحت اسوقت اس سارے معاملے سے متعلق اور اپنی محدود اختیارات پر اپنی لاچاری پہ گرفت بہ گریئہ نظر آتے ہیں مگر درحقیقت ان کی وزارت نے بلا شبہ اس حادثے کی پرورش میں کردار ادا کیا ہے ۔ اور یہ ایک واحد وزارت نہیں ہے جو عوام الناس کی فلاح سے عاری ہے ۔ پاکستان میں اسوقت ایک عام آدمی روز مرہ جس اذیت سے گذر رہا ہے ۔ یہ صرف اسکی ایک مثال ہے ۔ حکومتی نظام کے تحت چلنے والے ایسے کئی محکمے ہیں جو تنزلی کی گہرایوں میں غرق ہوچکے ہیں ۔ وفاقی خزانے سے ان شعبوں پر خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے مگر جسکا کوئی احتساب نہیں ہوتا ۔ صحت کے شعبے سے جو اعلامات اب سامنے آرہی ہیں وہ انتہائی حیران کن ہیں ۔پمز کے علاوہ بھی کئی اسپتالوں میں اب اندرون اسپتال شعبے ٹھیکے پر دے دیے جاتے ہیں ۔ اسپتال کی اور اب دیگر گذشتہ کئی حادثوں اور سانحوں کیطرح اس سلسلے میں بھی طویل پریس کانفرنس کی جائینگی ۔ ذمہ داریاں ایک دوسرے پر ڈالی جائیگی ۔ بڑے اعلان کئے جائینگے ۔ کئی تحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جائینگی ۔ چند نچلے درجے کے ملازمین کو اس واقعے کی زمہ داری دیتے ہوئے فارغ کردینا اور والدین کیلئے خطیر رقوم عنایت کردینا اس مسئلہ کے گھمبیر ہونے کا اثر زائل نہیں کرسکتا ۔ حقیقی ذمہ داران کا احتساب اہم ترین عمل ہے ۔ عدلیہ کو اپنے فرائض سے روگردانی کا مرتکب نہیں ہونا چاہیے ۔اگر غور کیا جائے تو ہر فرد جو اس معاشرہ کا حصہ ہے ان حادثوں کا ذمہ دار پڑتا ہے کیونکہ ہم سب نے بے حسی کی ایک چادر اورٹھ رکھی ہے اور ہر زیادتی اور ناانصافی پر خاموشی کا وطیرہ اختیار کرلیا ہے ۔ ہر ناجائز عمل کو درگذر کا راستہ پکڑلیا ہے۔ احتساب تو سبکا ہونا چاہیے اور خود احتسابی تو ایسے ماحول پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر وجود میں آیا تھا ۔ جسکے نظریہ کے تحت یہاں کسی کو بھی احتساب سے استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے ۔
11













