Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
امریکہ کی طاقت اور پاکستانیوں کی خام خیالی 660

سوڈان کی زبوں حالی

ہمیں یقین ہے کہ آپ ایک با خبر قاری ہیں۔ لیکن ہمارا قیاس یہ بھی ہے کہ آپ آج کل سوڈان میں پھیلی زبوں حالی اور وہاں سالہا سال سے پھیلی طوائف لملوکی سے پوری طرح آگاہ نہ ہوں۔ اس کی وجہ آپ کی بے خبری نہیں ہے ، بلکہ یہ ہے کہ وہاں کی خبریں آپ تک پہنچنے میں بہت اڑچنیں ہیں۔ مثئلاً آپ نے شاید ہی کینیڈا کے کسی بڑے اخبار میں گزشتہ ہفتہ خود کینیڈا میں سوڈان کے مظلوم شہریوں کی حمایت میں ہونے والے بڑے مظاہروں اور امن جلوسوں کی خبر پڑھی ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ اتوار کو ٹورونٹو کے سٹی ہال کے سامنے سوڈانی شہریوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا جس میں سینکڑوں افراد، مرد ، عورتیں، بوڑھے ، اور بچے شامل تھے۔ پھر یہ اجتماع ایک جلوس کی شکل میں، صوبہ کی مقننہ کی طرف روانہ ہوا جہاں پہنچتے پہنچتے اس میں دو سے تین ہزار افراد شامل تھے۔ ہم اس سے اس لیئے آگاہ ہیں کہ ہمارے قریبی خاندانی عزیزوں کا تعلق سوڈان سے ہے۔ ان میں سے ایک کا نوجوان بچہ گزشتہ ماہ وہاں کے عسکری حکمرانوں کی گولی کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ جہاں تک کینیڈا کے میڈیا کی بد دیانتی کا تعلق ہے، وہ یہ ہے کہ کینیڈا کے ایک نشریاتی ادارے نے، اپنی پہلی خبر میں یہ کہا کہ سوڈان کے شہریوں کی حمایت میں ٹورونٹو میں ہونے والے مظاہرہ اور جلوس میں سینکڑوں افراد شامل تھے۔ انہوں نے اس رپورٹ میں مظاہرہ کی ایک منتظمہ کا انٹرویوںبھی نشر کیا۔ لیکن چند ہی گھنٹوں بعد اسی رپورٹر کی رپورٹ جو پہلے نشر ہوئی تھی بدل دی گئی۔ اور یہ خبر دی گئی کہ اس مظاہرہ میں درجنوں افراد نے شرکت کی۔ اس بعد کی رپورٹ میں منتظمہ کے انٹرویو کو بھی کاٹ دیا گیا۔ سو، اس طرح آپ کو حقائق سے بے بہرہ رکھا جاتا ہے۔ یہ صرف کینیڈا ہی کا مسئلہ نہیں ہے۔ اکثر مسلمان ملک کا میڈیا بھی یہ خبریں دباتا رہا ہے۔ پاکستان کا ڈان اخبار اپنے الیکترونی ایڈیشن میں کچھ خبریںدے رہا ہے۔ لیکن باقی میڈیا مجرمانہ طور پر خاموش ہے۔
سوڈان ہم سب کے لیئے کیوں اہم ہے ؟ یہ جاننے کے لیئے ہم سوڈان کے بارے کچھ حقائق پیش کرتے ہیں۔ سوڈان مشرقی افریقہ میں واقعہ ہے، اور رقبہ کے اعتبار سے یہ افریقہ کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ موجودہ سوڈان کی آبادی تقریباً چار کروڑہے۔ اب سے تقریباً آٹھ سال قبل اس کا جنوبی حصہ آزاد ہوگیا تھا۔ اس وقت سوڈان کی مجموعی آبادی سے تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ تھی۔ سوڈان کچھ بڑے نسلی قبائل پر مشتمل ہے۔ ان میں سب سے بڑا گروہ عرب نڑاد سوڈانیوں کا ہے۔ دیگر اہم اور با اثر قبائل میں ’النوبی‘ یا نوبی قبیلہ ہے جسے انگریزی میں Nubian کہتے ہیں۔ سوڈان سنہ ِ پچپن 55 میں برطانیہ سے آزاد ہوا۔ پھر وہاں سنہ 69 تک مختلف مخلوط جماعتیں حکومت کرتی رہیں۔ ان میں ہمیشہ یہ اختلاف رہا کہ وہاں کی حکومت اسلامی ہونا چاہیے یا سیاست کو مذہب سے آزاد ہونا چاہیے۔ یوں سوڈان کی سیاست میں سالہا سال انتشار رہا۔ اور وسائل ہونے کے بعد وہاں معاشی بد حالی پھیلی رہی۔ جس میں مالی بد عنوانیوں کے الزامات بھی شامل ہیں۔ سنہ میں نوبی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے جعفر النمیری نے ایک فوجی انقلاب برپا کیا، اور سوڈان سوشلسٹ یونین یا SSU نام کی جماعت قائم کرکے حلومت شروع کی۔ اول اول انہوں نے وہاں صنعتوں اور وسائل کو قومیانے کا سلسلہ شروع۔ پھر مذہبی گروہوں کے دباﺅ میں آکر رفتہ رفتہ ان کی حمایت میں قانون نافذکیئے۔
انہوں نے اپنی حلومت میں سوڈان کے ملک بدر مذہبی رہنما، حسن ترابی کو بھی شامل کیا اور انہیں وزیرِ قانون بھی بنایا گیا۔ حسن ترابی، اوسامہ بن لادن کے ذہنی استاد بھی جانے جاتے ہیں۔اس حکومت کے آخری مرحلہ میں سوڈان میں شریعی قوانین کا نفاذ کر دیا پھر انہیں بھی ایک فوجی انقلاب میں حکومت سے ہٹایا گیا، اور مذہب پرست صادق المہدی کو جن کا تعلق ’انصار‘ گروہ سے تھا وزیرِ اعظم بنا دیا گیا۔ صادق المہدی ، سوڈان کے معروف مذہبی مجدد ’مہدی سوڈانی ‘ کے پوتے تھے۔ سنہ چھیاسی 86 میں فوج نے صادق ا لمہدی کو بھی حلومت سے ہٹایا۔ اس کے بعد سے جنرل بشیر عمر سوڈان کی حلومت پر قابض تھے۔ ان ہی کے دور میں دارفور میں عرب قبائل نے نسل کشی کی۔ اس نسل کشی کو روکنے کے لیئے اقوامِ متحدہ نے کینیڈا کی سربراہی میں وہاں قیامَِ امن کی فوج بھیجی۔ جو زیادہ کامیاب نہیں رہی۔ اس نسل کشی کے سلسلہ میں عالمی عدالت میں جنرل بشیر عمر پر جنگی جرائم کی بنیاد پر مقدمہ کیا گیا۔ وہ پہلے حکمراں ہیں جن پر دورانِ حکومت ایسا مقدمہ قائم کیا گیا۔ ان ہی کی حکومت میں جنوبی سوڈان ، آزاد ہو گیا۔ جنرل بشیر نے یمن کی خانہ جنگی میں سعودی حکومت کی حمایت میں پندرہ ہزار نیم فوجی دستے روانہ کیئے۔ یہ وہی نیم فوجی دستے ہیں جن کا تعلق ڈارفور کی خانہ جنگی سے بھی تھا۔ سالہا سال کی اس طوائف المکوکی، معاشی بد حالی، اور انتشار کے خلاف سوڈنی عوام نے گزشتہ چند ماہ سے پر امن احتجاجی مظاہر ے شروع کیے۔ ان میں سوڈانی لیبر یونینوں پر مشتمل جماعت سوڈان پرفیشنل ایسوسی ایشن Sudanese Professional Association شامل ہے۔ لیکن اس مخلوط گروہ میں اکثریت ان جماعتوں کی ہے جو قدامت پرست اور مذہب پرست ہیں۔ان مظاہروں میں سخت گیر فوجی اور نیم فوجی گروہوں نے سینکڑوں شہری ہلاک کیئے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ اس احتجاج کے نتیجہ میں فوج نے جنرل بشیر کو بھی اقتدار سے ہٹا دیا۔ نئے فوجی حکمراں حزبِ اختلاف کی شرائط تسلیم نہیں کر رہے۔ ان کا اصرار ہے کہ کسی بھی عارضی حکومت میں فوجی نمائندوں یا ان کے چنیدہ حامیوں کا پلہ بھاری رہے۔ سو ڈان میں بدحالی اور ظلم جاری ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ موجودہ حکومت کو بھی عرب ممالک میں سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے۔
سوڈان کے بعض شہری حلقے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہاں بالاخر کو ئی معتدل مزاج اور مذہبی اثرات سے آزا د جمہوریت قائم ہو جائے گی۔ یہ توقع اور امید ان کا جائز حق بھی ہے۔ لیکن سوڈان ، عرب دنیا ، اور مسلمانوں کی تاریخ یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ شاید وہاں ایسا نہ ہو پائے۔ اور مصر کی Arab Spring کی طرح جس پر مذہب پرست قدامت پرستوں کا غلبہ تھا، یہ کوشش اور قربانیاں بھی رائیگاں جایئں۔۔ یہی ہماری تاریخ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں