امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور بحری راستے کی بحالی کے حوالے سے ایران کے ساتھ اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکا کی ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی ختم کی جا رہی ہے۔ وہاں پھنسے جہازوں اور ان کے عملے کو اب اپنے گھروں کو واپسی کی تیاری کرنی چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو بدلے اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بلا تعطل روانی یقینی بنائی جائے گی اور وہاں کسی بھی قسم کا ٹول یا اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی متعدد بحری بارودی سرنگیں امریکی مائن سوئپرز پہلے ہی تباہ کر چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ سرنگوں کو ایران فوری طور پر ہٹائے گا یا تباہ کرے گا۔
انہوں نے امریکی بحریہ کی آبنائے ہرمز میں کارروائی کو عظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے یہ اقدامات ضروری تھے۔
اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بھی بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 11 ماہ قبل امریکی B-2 بمبار طیاروں کے حملے میں زیرِ زمین پہاڑوں کے نیچے موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ دب گیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا، چین، ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے تعاون سے اس نیوکلیئر ڈسٹ کو زمین سے نکال کر مکمل طور پر تباہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ تاحکمِ ثانی کوئی مالی لین دین نہیں ہوگا تاہم ایران کے ساتھ کم اہمیت کے حامل دیگر معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق وہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے وائٹ ہاو¿س کے سچوئیشن روم میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لیے وہ وائٹ ہاو¿س کے سچوئیشن روم میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے۔













