ایران دنیا میں طاقت کے توازن کے حالے سے ”گیم چینجر“ ثابت ہونے جارہا ہے۔ دنیا میں چوہدراہٹ کے لحاظ سے لگامیں تیزی سے امریکہ کے ہاتھ سے نکلتی چلی جارہی ہے کس ملک میں کس کی حکومت بنے گی؟ اور کس کی نہیں؟ یہ اختیار اب امریکہ کے پاس نہیں رہا ایران نے اپنے عوام کی دلیری بہادری ثابت قدم اور یکجہتی سے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر آپ کی اپنی صفوں میں کوئی غدار نہ ہو تو امریکہ کیا اس کا باپ بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ آپ کے عوام اپنی حکومت کا اپنے حکمرانوں کا انتخاب خود کر سکتے ہیں امریکہ کو اس میں دلالی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔
امریکہ کا سارا غرور، سارا تکبر اور ساری غنڈہ گردی ایران نے نکال دی اپنا حکمراں خود اپنی مرضی سے منتخب کرنے کی صورت میں۔۔۔ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اب امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ ایران کا نیا سپریم کمانڈر زیادہ نہیں چل سکے گا۔ سوائے گیڈر بھبکی کے اور کچھ بھی نہیں اس سلسلے میں خود چین کی جانب سے بہت زبردست بیان جاری کیا گیا ہے کہ جو جمہوری طور طریقوں کی پوری طرح سے عکاسی کررہا ہے چین کا یہ کہنا کہ ایران میں جس طرح سے نئے سپریم کمانڈر کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے وہ جمہوری اور اس ملک کے طور طریقوں کے مطابق درست ہے جس کی وہ حمایت کرتا ہے اور کسی بھی دوسرے کو کسی ملک کے اندرونی معاملے میں کسی بھی طرح کا جواز پیش کرکے مداخلت کرنے یا دراندازی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ اخلاقی اور قانونی لحاظ سے اور اقوام متحدہ کے قوائد کی بھی خلاف ورزی ہے اور دوسروں کی خودمختاری پر ایک طرح سے حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملے کو دس روز سے زائد گزر چکے ہیں اور اب جنگ کی تباہی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور یہ جنگ اب معاشی اور مذہبی شکل اختیار کرتی چلی جارہی ہے اور یہ اب صرف ایران پر حملے کی جنگ باقی نہ رہی بلکہ عالمی طاقت کے دوسرے بڑے کھلاڑی بھی بالواسطہ یا پھر براہ راست اس جنگ کا حصہ بن گئے ہیں اور یہ جنگ اب ایران سمیت بہت سارے ملکوں کی بقاءکی جنگ بن گئی ہے اس وجہ سے اس جنگ میں ایران طاقت کے توازن کا گیم چینجر بننے جارہا ہے اب یہ جنگ طے کرے گا کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کس طرح سے کسی بھی ملک پر اپنی ذاتی کاروباری فائدے آئل اور دوسرے قدرتی وسائل کو لوٹنے کے لئے حملے کر سکتے ہیں؟ اور کس طرح سے یہ ممالک کسی بھی ملک کی حکومت ختم کرواسکتے ہیں؟ بنوا سکتے ہیں؟ اب اس جنگ کے نتیجے میں نیا ورلڈ آرڈر سامنے آنے والا ہے کہ کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں کہ وہ اٹھ کر دوسروں پر حکمرانی کرے ہر ایک کو جینے کا حق حاصل ہے یہ دنیا ہے کوئی جنگل نہیں کہ جس میں ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ یعنی جنگل کا قانون چلے۔ ایران نے جرات مندی سے ایک منہ زور اور بے لگام ملک کو اچھی طرح سے سبق سکھایا، مہذب اور پرامن کے ساتھ ساتھ انصاف پسند معاشروں کو تو ایران کا ممنون اور شکر گزار ہونا چاہئے کہ کوئی تو ہے سر پھرا ملک اس دنیا میں جس نے وقت کے فرعونوں سے ٹکر لینے کی ہمت اور جات کی، کوئی تو ہے جس نے ان فرعونوں کا غرور توڑا، وینزویلا کے صدر کو ان کے ہی محل اور ملک سے اغوا کرنے کے بعد دنیا کی مجرمانہ خاموشی نے انہیں اور شیر بنا دیا تھا جس کا بالاخر توڑ قدرت نے ایران کی شکل میں پیدا کرکے جلد ہی ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا اب یقیناً اس جنگ کے نتیجے میں ایران کا نقشہ تو تبدیل نہیں ہو گا البتہ طاقت کا محور ضرور ادھر ادھر ہو گا اور دنیا سے ”ون مین شو“ کا خاتمہ ہو گا اور طاقت کا توازن برقرار ہو جائے گا۔ جلد ہی ایران کی طرف سے کوئی بڑا سرپرائز دنیا کو مل سکتا ہے، عالم اسلام کو اس جنگ کا حصہ بننے کی بجائے اپنے اصل دشمن سے نہ صرف خود کو بچانے بلکہ ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی میں عالم اسلام کی فلاح، سلامتی اور بقاءمضمر ہے۔
6











