ایران سے پنگا لینے کی وجہ سے دنیا کے اکلوتے سپرپاور امریکہ کا ڈاﺅن فال شروع ہو گیا ہے اور عالمی کرنسی ڈالر کا بھی زوال شروع ہو گیا ہے۔ تیل بیچنے اور خریدنے والے دونوں ملکوں نے اب کاروبار ڈالروں کے بجائے اپنی کرنسی یا پھر چائنیز کرنسی میں کاروبار شروع کردیا ہے جس سے جہاں امریکہ کی چوہدراہٹ کو دھچکہ پہنچا ہے وہیں اس کی اکنامی بھی ہچکولے کھا رہی ہے۔ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ پوری دنیا میں اپنا وقار اپنا اعتبار اور بھروسہ کھو چکا ہے کوئی بھی ملک ان کے کسی بات پر اس وقت یقین کرنے کو تیار ہیں ہر کسی کو ان کے عہد و پیماں کے لئے کسی ضامن وہ بھی اسے جو معتبر ہو اس کی ضرورت پیش آرہی ہے خود ایران سے ہونے والے مذاکرات میں ایران کو ضامن کی ضرورت ہے۔ ضامن کے بغیر یہ مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے کیونکہ ٹرمپ کو اپنی زبان پر قابو نہیں وہ صبح کچھ کہتے ہیں دوپہر کو کچھ اور شام کو کچھ اور رات کو بالکل ہی کوئی الگ سی بات۔۔۔ ایک ہی دن میں ان کا بیان پانچ مرتبہ تبدیل ہو جاتا ہے جو کسی بھی ملک کے صدر کے شایان شان نہیں اور نہ ہی ان کے منصب کا یہ تقاضہ ہے کہ وہ ہر بات جھوٹ ہی بولے۔ وہ ایک ملک کی نمائندگی کررہے ہیں ان کا جھوٹ پورے ملک کا جھوٹ بن رہا ہے اس لئے اب کوئی امریکہ پر اور اس کے ڈالر بھی اعتبار نہیں کررہا ہے اسے صرف ایک ردی کا ٹکڑا سمجھ رہے ہیں یہ کسی ملک کی بہت ہی بڑی بے عزتی ہے کہ اس ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک والے دھتکار لے۔ گلف کے ممالک تو خریداروں سے امریکی ڈالر کبھی چوم چوم کر لیا کرتے تھے اور اب ایران جنگ کے بعد صورت حال اتنی بدل گئی ہے کہ وہی گلف کے ممالک امریکی ڈالر کو چومنا تو کجا دیکھنے کے بھی روادار نہیں بلکہ وہ دھتکار رہے ہیں۔ صاف طور پر منع کررہے ہیں کہ وہ امریکی ڈالر میں کوئی ٹریڈ نہیں کریں گے اب کیا ہوا کہ خود امریکہ کو بھی ریال اور چائنیز کرنسی خریدنا پڑ رہی ہے، وقت اور حالات اس ایک جنگ کی وجہ سے کتنے تبدیل ہو گئے کہ امریکہ کی ہیبت اور دہشت کا اثر یورپی ممالک کے بعد اب ان خلیجی ممالک کے دلوں سے بھی نکل گیا جو اپنی دفاع کے لئے امریکی فوج پر انحصار کیا کرتے تھے اب ہر کسی نے نعم البدل تلاش کرنا شروع کردیئے ہیں ہر کسی کا جھکاﺅ روس، چین اور فرانس کی جانب ہو گیا ہے ہر کوئی اب اپنے دفاع کے لئے امریکہ کے بجائے دوسری طاقتور کی جانب دیکھ رہا ہے اور اس سارے فساد میں متحدہ عرب امارات کا اصل کردار بھی سامنے آگیا ہے کہ اس اسلامی ملک کا جھکاﺅ کسی کی جانب ہے وہ کتنا پاکستان کا خیر خواہ ہے پاکستان پر آئے مشکل گھڑی میں وہ پاکستان کا کتنا ساتھ دے سکتا ہے وہ بھی سب نے دیکھ لیا اور اس کے بعد جس طرح کے ردعمل کا سامنا خود یو اے ای کے حکمرانوں کو کرنا پرا وہ بھی دنیا کے سامنے ہے کہ اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان ہی معاشی اور کاروباری لحاظ سے متحدہ عرب مارات کو پہنچا اور ان مذاکرات میں انہیں کسی نے خاطر میں ہی نہیں لایا بلکہ دودھ میں سے مکھی کی طرح سے انہیں نکال باہر کردیا گیا اور ایران امریکہ مذاکرات پاکستان میں ہو بھی گئے اور دوسرا دور کی بھی وقت متوقع ہے ایران امریکہ جنگ اور اس کے نتائج دنیا کا پاور گیم تبدیل کرنے کا باعث بننے جارہا ہے جس کے شواہد دھیرے دھیرے سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں اب پاور سیکٹر تبدیل ہو رہے ہیں عالمی کرنسی اور عالمی زبان بھی تبدیل ہونے جارہی ہے اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے جارہا ہے پاکستان ایک اہم کھلاڑی کی حیثیت سے منظرعام پر آگیا ہے اور خود ملک میں سیاستدانوں کی اصلیت بھی سامنے آچکی ہے اب حکمرانوں کو اپنے صفوں سے غداروں کو نکالنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے اسی میں پاکستان کی فلاح ترقی اور سلامتی مضمر ہے۔
6












