Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
امریکی چوہدراہٹ خطرے میں؟ 10

امریکی چوہدراہٹ خطرے میں؟

کیا ایران امریکہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کلی یا پھر جزوی طور پر امریکہ کے ہاتھ سے نکل گیا کیونکہ اس جنگ میں ان عرب ملکوں کو ایرانی حملوں کی وجہ سے زیادہ نقصان پہنچا جہاں امریکی ایئر بیسز موجود تھے۔ ان ایئر بیسز اور ان پر ہونے والے لاکھوں ڈالرز کا بوجھ وہ ممالک اپنی حفاظت کے لئے اٹھا رہے تھے لیکن اس جنگ میں ان ممالک پر یہ بات روز روش کی طرح سے عیاں ہو گئی کہ ”جن بتوں پر انہیں ناز تھا وہی مشکل پڑنے پر نہ صرف ہوا دینے لگے بلکہ اپنی جان بچا کر بھاگ گئے بلکہ ان ملکوں پر یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی کہ ان امریکی ایئر بیسز کی وجہ سے ہی تو ان پر حملے کئے گئے انہیں تہس نہس کیا گیا اسی وجہ سے گلف کے ان تمام ممالک نے امریکی ایئر بیسز سے توبہ کرلی اور اب وہ اپنی دفاع کے لئے پاکستان، ترکی، روس اور چین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان سے تعلقات بڑھا رہے ہیں تاکہ مستقبل قریب میں ایران اسرائیل یا کسی بھی دوسرے کسی سر پھرے ملک کے اس طرح کے وحشیانہ حملوں سے نہ صرف خود کو بچا سکے بلکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا سکے اس تازہ ترین صورتحال سے جہاں امریکہ کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے دھچکہ پہنچا ہے وہیں اس کا رعب دبدبہ اور بھرم بھی زیرو بٹا زیرو ہو گیا ہے اور اب امریکی حکومت پر خود اندرونی طور پر دباﺅ بڑھتا جارہا ہے کہ اپنے بھرم اور دبدبے کو قائم رکھنے کے لئے ہر حالت میں اسے ایران پر حملہ کرکے اسے سبق سکھانا پڑے گا ورنہ مشرق وسطیٰ کے بعد یورپ بھی اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ دنیا نے پہلے ہی امریکی ڈالروں سے منہ موڑ لیا ہے اور کاروبار روسی، چائنیز یا پھر وہ اپنی اپنی کرنسی میں کرنے لگ گئے ہیں یعنی ”امریکہ کی چوہدراہٹ“ اس وقت ڈگمگا رہی ہے اور وہ ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ بن چکی ہے جسے بجھانے کے لئے ہوا کا ایک معمولی جھونکا ہی کافی ہے۔ امریکہ کے پالیسی سازوں کو اس تلخ حقیقت کا اچھی طرح سے فہم و ادراک ہو چکا ہے اس لئے وہ اب ٹرمپ سے لاکھ اختلاف کریق امریکہ کے رعب و دبدبے اور بھرم کو قائم و دائم رکھنے کے لئے نہ صرف ایران پر بھرپور حملے کے لئے اندرون خانہ تیار ہو چکے ہیں بلکہ جنگ کے لئے مزید بجٹ بھی جاری کررہے ہیں۔ اپنی اس انائی جنگ کی وجہ سے اب ایران پر بھرپور حملے کی تیاری کی جارہی ہے اور اگر اس جنگ میں غلطی سے بھی ایٹمی ہتھیاروں کا ستعمال کیا گیا تو اس سے تیسری عالمی ایٹمی جنگ کے شروع ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے اور اس کے بعد جو ہو گا اس کا دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی اپنی پہلی غلطی سے امریکہ نے جاپان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا مگر اس تیسری عالمی ایٹمی جنگ کے نتیجے میں پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔ نہ دنیا اور نہ ہی اس بربادی کی تاریخ لکھنے کے لئے کوئی مورخ بچے گا ان ہی خدشات کو لے کر دنیا کے پرامن ممالک کے حکمران امریکہ اور ایران کو ہر حال میں دوبارہ سے مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے کوششیں کررہی ہیں ہر کوئی اس وقت روس اور چین کو دیکھ رہا ہے کہ وہ اس میں مداخلت کرکے دنیا کو تباہی کی جانب بڑھنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ دنیا کسی اور ہٹلر کی غلطیوں کی اب متحمل نہیں ہو سکتی۔۔۔؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں