پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں روز بروز خرابی اور کشیدگی برھتی چلی جارہی ہے ملکی سطح پر پاکستان سے کسی بھی طرح کی رعایت نہ کرنے کے عزم پر کارروائیاں شروع کردی گئی ہے جس کی وجہ سے پاکستانی حکمرانوں اور اداروں کو اس وقت بہت سے حساس معاملات میں ضرورت سے زیادہ دشواری اور پریشانی کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔ خاص طور پر بحریہ ٹاﺅن کے روح رواں اور پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے وطن واپسی کی انٹرپول کے ریڈ وارنٹ پر حکومت پاکستان کی درخواست کو یکسر مسترد کرنے سے متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کے مائینڈ سیٹ کا پتہ چل گیا کہ وہ ایران کا سارے کا سارا غصہ ہی پاکستان سے نکال رہے ہیں جیسا کہ ایران کوئی ملک نہ ہو بلکہ پاکستان کا پراکسی ہو اور وہ پاکستان کے اشارے پر ہی متحدہ عرب امارات کے خلاف کارروائی کررہا ہو اسی وجہ سے دوران جنگ دوبئی نے پاکستان سے اپنے قرض کے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔۔۔؟ اب یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان کے دو بڑے سیاسی خاندانوں کی تعلقات شریفوں کے سعودیہ سے اور زرداری کے متحدہ عرب امارات سے چلے آرہے ہیں، دونوں خاندانوں نے اپنی اپنی سرمایہ کاری ان ملکوں میں کر رکھی ہے اور اپنے اپنے بہت سارے محلات بھی وہاں بن رکھے ہیں، خود پر آئے برے وقتوں میں دونوں خاندان روپوشی یا پھر جلاوطنی کی زندگی وہیں شاہانہ انداز میں گزارتے رہے ہیں۔اور اب ایران امریکہ جنگ میں جب حکومت پاکستان نے اپنی واضح پوزیشن لے لی تو اس کی وجہ سے ان دونوں سیاسی خاندانوں میں بھی دوریاں پیدا ہو گئیں اور حکومتی اداروں اور زرداری خاندان میں بھی فاصلے تیزی سے بڑھنا شروع ہو گئے کیونکہ صدر پاکستان ہونے کے باوجود ان کا وزن حکومتی پالیسی کے برعکس دوبئی کے پلڑے میں گرتا ہوا نظر آرہا تھا اسی وجہ سے زرداری اور اس کی جماعت کو ان مذاکرات سے بالکل دور الگ تھلگ رکھا گیا۔۔۔ جس کے بعد سے متحدہ عرب امارات کے تعلقات بھی حکومت پاکستان کے ساتھ تیزی سے خراب ہونا شروع ہو گئے اور پاکستان سے ایک ہزار ارب روپے چند ہی ماہ میں منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بجھوائے گئے غرض ایران امریکہ اسرائیل جنگ سے مشرق وسطیٰ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اس تقسیم کی وجہ سے پاکستان اور اسلام دشمن قوتیں متحد ہو کر وطن عزیز کے شہ رگ کے قریب سے قریب تر پہنچ گئی اور متحدہ عرب امارات سے پاکستان اداروں کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں کھری کرنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے اور ان کی آزادانہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے اسی وجہ سے اب متحدہ عرب امارات بھی ملک دشمنوں اور وطن کے مفروروں اور مطلوبوں کے لئے ایک بہترین اور موثر محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا جس کی ابتداءملک کے مطلب ملک ریاض کی واپسی یا حوالگی میں متحدہ عرب امارات کے رکاوٹ بننے سے کردی گئی ہے۔
پاکستانی اداروں کا خیال ہے متحدہ عرب امارات کی حکومت کے یہ اقدامات کسی کی خواہش یا پھر ایڈوائز کا نتیجہ ہو سکتا ہے اس طرح سے کرکے حکومت کو ٹف ٹائم دے کر ان کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونا ہے اور اب اس طرح کے اقدامات کے بعد بلوچستان اور کراچی کے حالات بھی دوبارہ سے متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان دونوں علاقوں کی ابتر صورتحال سے متحدہ عرب امارات کی ترقی براہ راست جڑی ہوئی ہے اس طرح سے ان معاملات میں ان کی براہ راست یا پھر بالواسطہ مدد کرنے والے ملک دشمن یعنی غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں اسی وجہ سے حکومت اور ملکی ادارے سندھ حکومت اور زرداری ٹولے کے خلاف متحرک ہو چکی ہے۔ وطن عزیز کو ہر طرح کے خطرات سے بچانے کے لئے ملکی اداروں کے یا تو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اسی میں پاکستان کی ترقی فلاح اور سلامتی مضمر ہے۔
9












