Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
مولانا کی قلابازیاں؟ 123

گلگتی الیکشن اور سقوط ڈھاکہ؟

8 فروری 2024ءکی طرح سے اب گلگت بلتستان کے عوام کو بھی ان کے آزادی اظہار رائے کے بعد ووٹ کے آزادانہ استعمال سے روکنے کے لئے انتخابات اور ان کے نتائج پر شب خون مارنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ فصلی بٹیروں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے گلگتی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ انتظامیہ پہلے ہی ان سیاسی فصلی بٹیروں کے لئے راہیں ہموار کر چکی ہیں ان کے پیچ تیار کرلیا ہے اب بس صرف ان کے دوڑنے کی دیر باقی ہے۔ بلتستان گلگت کے پولیس سربراہ کا پہلے سے ہی آرڈر کرلیا گیا ہے تاکہ ان کی دہشت سے تحریک انصاف کے ووٹرز اور سپورٹرز کو ڈرایا دھمکایا جا سکے کہ یہ وہی آئی جی ہیں جو پہلے ہی اسلام آباد میں جنرل ڈائر کا تاریخی ریکارڈ اپنی بربریت اور دہشت گردی کے ذریعے توڑ چکے ہیں۔ پاکستانی عوام کو اس گلگتی عورت کی آہ و پکار والی وڈیو یاد ہو گی جسے کس طرح ظالمانہ طریقے سے اسلام آباد پولیس نے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا تھا اور روتی رہی، چیختی رہی، چلاتی رہی کے اس کے کمسن بچے گھر پر ان کا انتظار کررہے ہیں مگر ان ظالم پولیس افسروں کے پتھر دل کو اس مظلوم عورت کی چیخ و پکار ہی نہ پگھلا سکی۔۔۔ اسی پولیس افسر کو خاص طور سے گلگت پولیس کا سربراہ بنایا گیا اور انہیں یہ خاص طور سے یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد کی طرح سے گلگت میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالو، انہیں اس قابل ہی نہ رہنے دیں کہ وہ الیکشن والے روز تحریک انصاف کو ووٹ دے سکیں، یہ ہی وجہ ہے کہ گلگت پولیس کا یکطرفہ آپریشن صرف تحریک انصاف کے کارکنوں اور عہدیداروں کے خلاف چل رہا ہے۔ انہیں کسی بھی طرح کے جلسہ یا کارنر میٹنگ کرنے کی کوئی اجازت نہیں جب کہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے لئے میدان صاف چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہیں اپنے انتخابی مہم چلانے کی پوری اجازت ہے بلکہ گلگت پولیس کے جوانوں کو ڈیوٹی کے بعد سادے لباس میں مسلم لیگ نون کے جلسوں میں دوستوں یاروں کے ساتھ جا کر کامیاب کروانے تک کی انہیں تاکید کیے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ اس طرح کی دو نمبریاں کرکے گلگت میں خانہ پری کرتے ہوئے الیکشن کا ماحول بنایا جارہا ہے تاکہ وہاں کے انتخابات اور اس کے نتیجے کے ذریعے حقیقی قیادت کو آگے آنے کا موقع بالکل بھی نہ دیا جا سکے ہر کسی کو اس حقیقت کا اچھی طرح سے فہم و ادراک ہے کہ گلگت اور وہاں کے رہنے والوں کے دل صرف اور صرف عمران خان کے لیے ہی دھڑکتے ہیں اسی وجہ سے حکمرانوں کو پولیس سربراہ کی حیثیت سے جنرل ڈائر کی ضرورت پڑی، یہ ہی اس حقیقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ عوامی جذبات اور خواہشات کو کچلنے کے لئے ہی پولیس کو اپنے ہی عوام پر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ایسا کرنے والے آگ سے کھیل رہے ہیں یہ ہی کوشش وہ خیبرپختونخواہ میں بھی کر چکے ہیں۔ کیا ہوا انہیں منہ کی مار کھانا پڑی، اس لئے کہ خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان ایک قوم ہیں وہ کوئی سندھ یا بلوچستان کی طرح سے چوں چوں کا مربع نہیں کہ جس پر لڑاﺅ اور حکومت کرو کا فرسودہ فارمولا استعمال کیا جا سکے۔ اگر یہاں بھی وہی جنرل ڈائر والی دہشت گردی کی پالیسی اختیار کی گئی تو پھر حال بنگال جیسا ہی ہو سکتا ہے اس لئے اپنی خواہشات اور انا کی تسکین کے لئے ملک کے سلامتی سے کھلواڑ کرنے سے گریز کیا جائے۔ ملک کے سلامتی کے اداروں اور اصل سرکار کو دوسروں کے مشوروں سے زیادہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسی میں وطن عزیز کی سلامتی اس کی بقاءاور فلاح مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں