اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تقاضوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ نافذ العمل ہے اور پاکستان معاہدے کے تقاضوں کے مطابق کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال پاکستان اور کسی فریق کے درمیان اس نوعیت کی کسی تجویز یا معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کا دو طرفہ دفاعی معاہدہ بھی ہے اور دونوں سہ ملکی معاہدے میں بھی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور خطے کی سلامتی کو بنیادی طور پر ڈیٹرنس کے ذریعے یقینی بنانے کے لیے ایک دفاعی اتحاد ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ موجودہ مکہ معاہدے میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں، جو معاہدے کے تحت باقاعدگی سے ملاقاتیں اور مختلف سطحوں پر مشاورت کر رہے ہیں۔ تینوں ممالک مسلسل ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کو اپنی تنظیم اور تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ بعد ازاں مکہ معاہدہ ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہوگا جو یکساں مو¿قف، سوچ اور ضروریات رکھتے ہوں، تاہم فی الحال مکہ معاہدے میں توسیع کی بات نہیں ہو رہی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابھی تینوں بانی ممالک مکہ معاہدے کے حوالے سے جزئیات طے کر رہے ہیں۔ معاہدے کے بنیادی نکات طے ہونے کے بعد توسیع کی بات ہوگی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت کے معاہدوں پر پاکستان اپنے قومی مفاد میں فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے ایران کو وارننگ دینے کے حوالے سے رائٹرز کی رپورٹ بے بنیاد ہے۔












