اس وقت پاکستان میں صوبہ سازی کی سیاست زوروں پر ہے کوئی اس صوبہ سازی خود کو مستحکم کرنے کی کوشش کررہا ہے اور کوئی صوبہ سازی کو اپنی تباہی و بربادی سے تشبیہ دے رہا ہے غرض اس ایک ایشو سے پاکستانی سیاست میں ایک غدر سی مچ چکی ہے اور ہر کوئی ادھر ادھر بھاگنے میں لگا ہوا ہے دونوں حکمراں پارٹیوں کے سربراہ پہلے ہی کسی نہ کسی بہانے ملک سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور ان کی لندن میں وفاقی وزیر داخلہ سے بھی اسی سلسلے میں اہم ترین ملاقات بھی ہوچکی ہے اور وہ ملاقات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئی جس کی وجہ سے اس ایشو میں مزید شدت پیدا ہوگئی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں حکمراں پارٹیوں کو صوبہ سازی سے کیا پریشانی ہے انہیں کیوں ایک ڈرسا لگا ہوا ہے کہ صوبہ سازی انکے خلاف ایک سازش ہے ایک تو وہ ویسے ہی عمران خان اور انکی پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے دکھی ہیں باقی رہی سہی کسر صوبہ سازی کے ذریعے نکالی جارہی ہے اسی وجہ سے وہ ملک میں نئے صوبوں کے بنائے جانے کے سخت خلاف ہیں اور وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ آخری حد تک صوبوں کے قیام کی نہ صرف مخالفت کرتے رہیں گے بلکہ اس کی مزاحمت بھی کرینگے اس سلسلے میں بہت سارے مفروضے اور رقصے پاکستانی سیاست میں سننے کو مل رہے ہیں کسی کا کہنا ہے کہ صوبوں کا ایشو خود ان حکمراں پارٹیوں کا اپنا پیدا کردہ ہے اس طرح سے کرکے ایک تو وہ عوام کی توجہ تحریک انصاف سے ہٹانا چاہتی تھی تاکہ لوگ صوبوں کے چکر میں پڑجائیں اور اس کے بعد دونوں جماعتیں اس پر سیاست کرتے ہوئے حکومت کو صوبہ سازی سے نوراں کارروائی کے ذریعے روکنے میں کامیاب ہوجائیں گی اور اس طرح سے عوام میں انکی بلے بلے ہوجائے گی جبکہ دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ کوئی مذاق نہیں ہے صوبے بنیں گے اور ضرور بنیں گے چاہے کوئی مانے یا نہ مانے اس مقصد کیلئے اصل سرکار کسی بھی حد تک جانے کا پہلے ہی اعلان کرچکی ہے جس کی وجہ سے زرداری اور شریفوں کی حالت غیر ہوگئی ہے مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ محسن نقوی نے جو اجلاس کے خاتمے پر یہ بات کہی تھی کہ وہ رہیں یا نہ رہیں مگر نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے چاہے انہیں استعفیٰ کیوں نہ دینا پڑے، محسن نقوسی کی اس دھمکی کا صاف طور پر مطلب یہ ہے کہ وہ اس وقت منسٹر ہیں اور منسٹر وزیر اعظم نہیں بن سکتا اس کے لیے انہیں پنجاب کے کسی علاقے سے ضمنی الیکشن لڑواکر ایم این اے بنایا جائے گا اور اسطرح سے وہ پھر با آسانی وزیر اعظم بنادیے جائیں گے بلکل شوکت عزیز کی طرح سے….. اور ایسا کرنا پاکستان میں کوئی مشکل کام نہیں……. اور اس صورت میں پاکستان میں نئے انتظامی یونٹ بن کر ہی رہیں گے…..؟ اگر کراچی الگ صوبہ بن جاتا ہے تو پھر سمجھ لیں کہ زرداریوں کی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی اسی طرح سے جنوبی پنجاب میں اگر کوئی صوبہ بن جاتا ہے تو شریفوں کی سیاست کا جنازہ دھوم دھام سے نکل جائے گا ان دونوں جماعتوں کی سیاست تو پہلے ہی عمران خان ختم کرچکے ہیں تابوت میں آخری کیل اصل سرکار کی جانب سے صوبہ سازی کے ذریعے ٹھوکنے کی تیاریاں کی جارہی ہے جسکی وجہ سے چالیس سالوں سے بار باری پاکستان میں حکمرانی کرنیوالے دونوں جماعتوں کی سیاست ختم ہونے جارہی ہے اسطرح کی صورتحال میں انکا چیخننا اور شورو غوغا کرنا ایک فطری امر ہے مگر معاملہ ملک کی سلامتی اور اس میں رہنے والے 30کروڑ انسانوں کی فلاح کا ہے نہ صرف نئے انتظامی یونٹ بننے چاہئے بلکہ اختیارات اور فنڈز بھی نچلی سطح تک منتقل ہونا چاہیے تاکہ اسکا استعمال جائز طریقے سے عوام کی فلاح پر ہوسکے عوام کے مسائل اور شکایتیں حل ہوسکے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جاسکے اس میں پاکستان سے مورثی اور کرپٹ سیاست کا خاتمہ ممکن ہے اور اسی میں خود پاکستان کی سلامتی اور ترقی بھی مٖضمر ہے۔
3












