Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
قیدی 804 کی یاترا کیوں؟ 17

قیدی 804 کی یاترا کیوں؟

ظالمو اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو
دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے
وہ یقیناً سنے گا صدائیں مری
کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں
خدا کی شان دیکھئے کہ جن دونوں نے مل کر قیدی نمبر 804 پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں، انہیں نا حق جیل میں ڈالا ہوا ہے یعنی حکومت کرنے والے اور حکومتیں بنوانے والے۔۔۔ وہ دونوں کے دونوں اپنی اپنی جان بچانے کے لئے بالواسطہ یا براہ راست ظاہری طور پر یا باطنی طور پر اب ان کی یاترا کررہے ہیں، دونوں اس وقت ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں، پہلے ان دونوں نے اپنی جان بچانے کے لئے قیدی نمبر 804 کی مخالفت میں نہ چاہتے ہوئے ایک غیر فطری اتحاد کرلیا تھا، ایک اس طرح کی ایلفی کی خدمات لے کر حکومت بنانے والوں نے ساری پارٹیوں کو اکھٹا کرلیا تھا، انہیں جوڑ لیا تھا کہ وہ ساری پارتیاں اور انہیں دیکھنے والے سب کے سب حیران بھی تھے اور پریشان بھی تھے اور وہ اس صورتحال کو ” بن بادل برسات“ سے تشبیہہ دے رہے تھے کہ یہ تو بالکل بغیر بادلوں والی برسات کی سی صورتحال ہے لیکن اس طرح کی برسات دھوپ کے ایک جھلک سے ختم بھی ہو جاتی ہے، وہی صورتحال اس موجودہ حکومت اور ان کے بنانے والوں کی ہو گئی ہے، دونوں سے اس وقت صورتحال سنبھلنے نہیں جارہی ہے، ان کی دکان مانند پڑ گئی ہے، نہ ہی گاہک باقی رہے اور نہ ہی دکان میں سازوسامان چاول اور گندم وافر مقدار میں موجود ہے، کوئی خریدار نہیں، پڑے پڑے سڑ رہا ہے، ملک میں زرمبادلہ کہاں سے آئے گا، اس وجہ سے یہ اب آپس میں لڑ پڑے ہیں اور ایک دوسرے پر ملک کی موجودہ تباہی کا الزام لگا رہے ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے پچھلے دنوں حکومتی کارکردگی سے متعلق جو کچھ بھی کہا یقین جانیے اس میں جھوٹ اور الزام برائے الزام کا شائبہ تک نہیں، ان کے سارے کے سارے الزامات اور ساری باتیں حقائق پر مبنی ہے، یہ نظام ناکام ہو گیا ہے، وزیر اعظم چودہ کیا اٹھارہ گھنٹے بھی کام کریں اس سے ملک اور اس نظام کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں، سب سے زیادہ مالی نقصان پنجاب اور سندھ کی حکومتیں وفاق کو پہنچا رہی ہیں، جس سے وفاق کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے اور ملک میں مزید صوبے بننے چاہئے۔ محسن نقوی کے اس سچائی پر حکومتی پارٹیاں ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئیں اور ان سے استعفیٰی تک مطالبہ کرلیا گیا، یہ وہ صورتحال ہے جس کی وجہ سے ہر کسی کو اپنے ظلم اور انتقام کے شکار قیدی نمبر 804 کا خیال آیا کہ وہ بھی اب ایک ایسا نگینہ ہے جو انہیں اس مشکل سے نکال سکتا ہے، اس لئے حکمران پارٹیاں بھی ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کررہی ہیں، اور خود حکومت بنانے والی قوتیں بھی قیدی نمبر 804 سے معافی تلافی کرنے کی کوششیں کررہی ہیں اور اس مقصد کے لئے انہیں قائد اعظم کے پاکستان کی سلامتی اور بقاءکا واسطہ تک دے رہی ہیں۔ پاکستان اس وقت بہت ہی نازک دور سے گزر رہا ہے، 1971ءمیں تو ایک ہی جوالا مکھی پھٹا تھا، جس کے نتیجے میں وطن عزیز دولخت ہوا، اس وقت تو لاتعداد جوالا مکھیاں ہیں جس کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہیں پھر آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ وطن عزیز کا کیال حال ہو گا اس لئے یہ وقت جوش سے تقریریں کرنے اور سیاست کرنے کا نہیں بلکہ ہوش سے بند کمروں میں اہم ترین فیصلے کرنے کا ہے ان فیصلوں کا جس سے اپنی جانب بڑھنے والی تباہی اور بربادی کے اس موت سے کس طرح سے بچا جا سکے، ہر تباہی و بربادی سے بچنے کا پہلا اور واحد علاج انصاف اور توازن ہے اس کے بعد ہی باقی سارے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں، ان ہی صورتحال کو دیکھ کر ہی تو ان دنوں قیدی نمبر 804کی یاترا کی جارہی ہے، حکمرانوں اور ان کی سرپرستوں کو اب اپنی اپنی انا سے نکل کر ملک اور عوام کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔
کاش بقول علامہ اقبال کے
انداز بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کے اتر جائے ترے دل میں مری بات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں