کیا عمران خان کو عدالت سے ملنے والا ریلیف واقعی انصاف کی کامیابی ہے یا پھر جنبشوں کے لرزش کا نتیجہ ہے اور ایک تیر سے بہت سارے شکار ایک ساتھ کر ڈالے ہیں اس کا درست جواب تو خود وقت میں ہی مضمر ہے۔ جو وقت گزرنے کے بعد خود ہی آشکار ہو جایے گا ویسے مجھے یہ کہنے کی بالکل بھی کوئی ضرورت نہیں کہ پاکستان میں انصاف اور قانون کی حیثیت کیا ہے؟ یہ کتنے فیصد آزاد و خود مختار ہیں لیکن اس موجودہ عدالتی فیصلے سے پاکستان کی سیاست میں ایک ہل چل مچ چکی ہے۔ انتظامی ڈھانچہ بہت ہی بری طرح سے لرز چکا ہےٍ دونوں حکمراں سیاسی پارٹیوں کے پیروں تلے زمین کھسک چکی ہے اس فیصلے سے وہاں ایک بلا کی سی خاموشی چھا گئی ہے جیسے کسی کی ماں مر گئی ہےٍٍ، مسلم لیگ نون اور زرداری کی پیپلزپارٹی دونوں ہی اس وقت پریشان ہیں ان کی سٹی گم ہو گئی ہے کہ بیٹھے بٹھائے یہ کیا ہو گیا، وزیر قانون اعظم تارڑ کی حالت بہت ہی غیر ہو گئی ہے ان کے نزدیک یہ عدالتی فیصلہ کسی بھی لحاظ سے کسی سرپرائز سے کم نہیں کیونکہ فیصلہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس فیصلے کا انصاف کے عین مطابق ہونے سے زیادہ مرضی کے مطابق ہونا زیادہ نظر آرہا ہے یہ فیصلہ، فیصلہ نہیں بلکہ ایک طرح سے حکمراں پارٹیوں کے لئے موت کا پیغام ہے کہ ابھی بھی وقت ہے ٬٬بندے کے پتر بن جاﺅ،، جو کہا جا رہا ہے اس پر اچھے بچوں کی طرح سے عمل کرو ورنہ ورنہ۔۔۔۔
یہ عدالتی فیصلہ تو۔۔۔ بقول شاعر کے
ابتداءعشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
اس فیصلے کو 28 ویں ترمین کے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے، کیا یہ بم شیل 28 ویں ترمیم کو بغیر کسی چوں چراں کے پاس کروانے کے لئے پھینکا گیا ہے اور کیا یہ عدالتی فیصلہ تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو کیے جانے والے ملک گیر احتجاجی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے دیا گیا ہے، کالم کے ابتدائیہ میں، میں نے یہ کہا تھا کہ اس فیصلے کے ذریعے ایک تیر سے بہت سارے شکار کیے گئے ہیں جس کسی کے بھی ذہن کی یہ اختراع ہے وہ صورتحال کو اچھی طرح سے سمجھتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے اس لئے انہوں نے موقع کی نزاکت سے عدالتی کاندھا استعمال کرتے ہوئے ترپ کا یہ پتہ پھینکا ہے حالانکہ ریلیف دینے اور ریلیف لینے والوں اور اس سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کو اس بات کا اچھی طرح سے فھم و ادراک ہے کہ یہ عدالتی ڈور کہاں سے ہلائی ہوئی ہو گی کس کے کہنے پر لوگوں کے سوئے ہوئے ضمیر اچانک بیدار ہو گئے، اچانک انہیں عمران خان کی بیماری کا بھی احساس ہو گیا اور ان سے بہنوں کی ملاقات کروانے کا بھی انہیں خیال آیا اور حکمراں پارٹیوں کو بھی اس حقیقت کا علم ہے کہ اصل سرکار ان کے ساتھ کون سا کھیل، کھیل رہی ہے۔ عمران خان کو بھوت بنا کر انہیں ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے اور ان کے ہاتھوں ان سے اس طرح کے کام کروائے جارہے ہیں کہ جس کے کرنے سے ان کی سیاست بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی اور کسی کو منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہیں گے لیکن کریں بھی تو کیا کریں ان کے پاس اب کوئی آپشن ہی باقی نہ رہا، کیونکہ آگے کنواں پیچھے کھائی والی صورتحال بن گئی ہے، اس عدالتی حکم کے بعد حکومت اس کے خلاف اپیل میں چلی گئی اور اس عدالتی حکم کو چیلنج کردیا گیا، ایسا کرتے ہوئے ذرا بھی گریباں میں وفاقی وزیر قانون نے نہیں جھانکا کہ ان کا اپنا لیڈر ان ہی عدالتوں سے بیماری کے نام پر تاریخی ریلیف لے کر 50 روپے کے اسٹامپ پیپر پر لندن چلا گیا تھا، پھر لوٹ کر نہیں آیا، اب اس عدالتی حکم کے آخری اور سب سے خطرناک چال پر بات کرتے ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ خدانخواستہ عمران خان کو اس طرح کا زہر کھانے میں دے دیا گیا ہو جس کے اثرات آنے کا وقت آگیا ہو، اس لئے اسے فوری طور پر عدالتی حکم کے ذریعے پہلے ہسپتال اور اس کے بعد بنی گالہ منتقل کیا جائے اگر انہیں کچھ بھی ہو جائے تو اسے قدرتی کہنے میں آسانی ہو یعنی حکومت اس صورتحال کا سامنا کرنے سے گھبرا رہی ہے، اس لئے اب عدالتی کاندھا استعمال کیا گیا ہے، سیاست کو سیاست ہی تک رہنے میں ہی ملک کی بہتری ہے، ملک کسی بھی سیاسی حادثے کا اب متحمل نہیںہو سکتا، ایسا ہونے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے، اس سے بچنے میں ہی ملک کی سلامتی مضمر ہے۔
8












