ریاستیں طاقت سے نہیں بلکہ توازن اور عدل و انصاف سے نہ صرف رواں دواں رہتی ہیں بلکہ ان کی سلامتی بھی یقینی ہو جاتی ہیں۔ جن ملکوں میں انصاف نہیں ہوتا بلکہ ظلم و جبر کی فراوانی ہوتی ہے وہ ممالک جلد ہی خاک و خاشاک کی طرح سے ہواﺅں کے معمولی جھونکوں سے ادھر ادھر ہو جاتے ہیں، اتنی لمبی چوڑی تمہید پاکستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھنے کے بعد اپنے قلم کو اپنے ہی بہتے ہوئے آنسوﺅں میں ڈبو ڈبو کر لکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ پاکستان کا مسئلہ نہ تو معاشی ہے اور نہ ہی سیاسی و عسکری۔۔۔ پاکستان کا مسئلہ یا پھر اس کی بیماری قانون اور انصاف کی روپوشی ہے ان کی غیر موجودگی ہے۔ پاکستان جیسے ہی قانون کی حکمرانی سے دور ہوتا چلا گیا پاکستان کمزور سے کمزور تر اور غیر مستحکم ہوتا چلا گیا۔ اس وقت پاکستان میں نہ تو کسی قانون کا وجود باقی رہا اور نہ ہی کسی انصاف کا۔۔۔ یہ دونوں پاکستان میں بالکل نہ صرف غیر اہم ہو گئے بلکہ پوری طرح سے اجنبی ہی ہو گئے۔ اب انہیں کوئی نہ جانتا ہے اور نہ ہی پہچانتا ہے ان دونوں الفاظ قانون اور انصاف تو پوری طرح سے اپنی معنی اور مفہوم کو بھی بھلا بیٹھے ہیں کہ یہ دونوں کونسے جانوروں کے نام ہیں شاید کبھی پاکستان کے مظلوم اور پھنسے ہوئے لوگ ان ناموں سے نہ صرف آشنا تھے بلکہ یہ ایک طرح سے ان کے لئے ڈھال اور مددگار کا کردار ادا کرتے تھے۔ پاکستان میں بے لگاموں اور مافیاز نے کمزوروں اور لاچاروں سے ان کے ان دونوں ہتھیاروں کو بے وقعت کر چھوڑ دیا ہے۔ قانون اور انصاف کے بے معنی ہونے یا ان کا وجود نہ ہونے کی لاتعداد مثالیں روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں تو سب کو کھل کر نظر آرہا ہے پاکستان کی جیلوں پر بھی اگر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہو گا کہ وہاں کس کی حکمرانی ہے، انصاف اور قانون کی۔۔۔ یا پھر مافیاز کی۔۔۔؟ اب میں ذرا قانونی لحاظ سے اس نقطے کو سمجھانے کی کوششیں کرتا ہوں سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ پاکستان کی تمام جیلیں نہ تو صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی وفاقی حکومت کے۔۔۔ جیل پولیس ضرور صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہوتی ہیں لیکن ان کا کام جیلوں کی حفاظت کرنا ہے، جیلوں میں قیدیوں کے آنے اور جانے کے ساتھ ساتھ ان کی ملاقاتوں سے جیل پولیس کا کسی بھی لحاظ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جیل میں موجود ملزمان اور مجرمان دونوں عدالتوں کی پراپرٹی ہوتی ہیں جیل پولیس کے پاس وہ امانت کے طور پر رکھوائی جاتی ہے کہ وہ ان کی دیکھ بھال قانون کے تحت کرے اور عدالت کے حکم پر ہی وہ قیدی جیل میں لائے جاتے ہیں اور عدالت کے حکم پر ہی جیل سے نکالے جاتے ہیں، جیل پولیس یا ضلعی پولیس نہ تو اپنے طور پر کسی کو جیل میں ڈال سکتی ہے اور نہ ہی جیل سے نکال سکتی ہے اور جیل قانون کے تحت ہائی کورٹس کا جج ہر 15 روز میں جیلوں کا وزٹ کرے گا، قیدیوں سے ملے گا اور باقاعدہ اس کی رپورٹ مرتب کرے گا لیکن قانون اور انصاف سے محروم پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا جن کے پاس قیدیوں کو امانت کے طور پر رکھوایا گیا ہے، وہ بدقسمتی سے ان کے مالک ہو گے اور جن عدالتوں نے اپنی امانتیں رکھوائی ہیں ان کے احکامات کو بھی یہ جیل والے نہیں مانتے اب اسے قانون و انصاف کی بے توقیری نہ کہا جائے تو پھر کیا کہا جائے، پاکستان قانون اور انصاف سے محروم ایک ملک ہے جو مافیاز کے کنٹرول میں ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی سلامتی و بقاءسوالیہ نشان بن گئی ہے، ارباب اقتدار کو ملک میں قانون کی حکمرانی کے لئے راہیں ہموار کرنے کی ضرورت ہے، انہیں اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ یہ تاثر غلط ثابت ہو اس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو آگے برھنا چاہئے، اس میں ملک کی سلامتی مضمر ہے۔
21












