Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
نظر اوجھل پہاڑ اوجھل ؟ 115

مولانا کی قلابازیاں؟

مولانا کی غیر معمولی بہادری اور دلیری پر ان کی تعریف تو بنتی ہے نہ صرف تعریف بلکہ ان کی حمایت بھی پاکستان کے سارے حب الوطنوں پر اب واجب ہو گیا ہے کیونکہ جوش خطابت میں انہوں نے جو کچھ بھی کہا یقین جانیے وہ اس وقت پاکستان کے زمینی حقائق کی پوری طرح سے عکاسی کررہا ہے اسے امید کی کرن ہی سمجھی جاسکتی ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے سارے روایتی سیاستدانوں کا ضمیر مراد نہیں ہے بلکہ مولانا کی طرح سے بعض سیاستدانوں کے ضمیر اب بھی زندہ ہیں جس کا ثبوت اس گھٹن زدہ پاکستان کے سیاسی ماحول میں اس طرح کا خطاب کرنا یا پھر اس طرح کا بیان داغنا یقیناً دل اور گردے والوں کا ہی کام ہو سکتا ہے کیونکہ اینٹ سے اینٹ بجانے والے اور ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے اپنی اپنی قیمتیں وصول کرکے خاموشی اختیار کر چکے ہیں اب مولانا فضل الرحمن نے بڑی ہمت اور جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک پر قبضہ کرنے والوں کو بہت ہی صحیح طریقے سے للکارا ہے جس کی وجہ سے ان کے تن من میں ایک آگ سی لگ گئی ہے اور ان کے کانوں سے دھواں نکل رہا ہے ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر بیٹھے بٹھائے مولانا کو کیا سوجی جو اس طرح کا دھماکہ خیز خطاب کر ڈالا۔ سب کو آئینہ دکھا کر انہیں ان کا بدبودار اور گناہ آلود چہرہ دکھا دیا جس سے ان کے چاروں کے چاروں طبق روشن ہو گئے ہیں اور وہ اب مولانا کے اس دھماکے کا جواب اکبر بگٹی کے اس آپریشن کے طرز پر دینے کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کررہے ہیں۔ فی الحال تو حکومت نے اپنے پروپیگنڈہ توپوں کا رخ مولانا کی جانب موڑ کر ان کی تاریخ ساز کردار کشی شروع کردی ہے ان کا بھرپور طریقے سے چھترول کیا جارہا ہے غرض انہیں ڈرانے اور دھماکنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ اپنے اس خطاب سے دستبردار ہو جائیں جو کچھ ان سے بڑے لشکر کی تیاری کے لئے کیا گیا ہے وہ اس پر اچھے بچوں کی طرح سے عمل کریں ورنہ ان کی سیاست کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاکستان سے بوری بسترا لپیٹ دیا جائے گا۔ اس طرح کے دھمکی آمیز پیغامات مشترکہ دوستوں کی جانب سے مولانا کو پہنچا دیئے گئے ان کو کہہ دیا گیا ہے کہ جو حال عمران خان کا کردیا گیا ہے اس سے بھی برا حال ان کا کردیا جائے گا اگر انہوں نے اپنی روش تبدیل نہیں کی اس طرح کی اطلاعات پاکستانی ذرائع ابلاغ اور سیاسی مبصرین اور دانشوروں کے ذریعے سامنے آرہی ہیں، کہا جارہا ہے کہ فی الحال مولانا اپنے بیان پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی بھی طرح سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں دکھائی دے رہے ہیں، یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ مولانا کی مقدمات میں گرفتاری بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے یا پھر ان کے خلاف کرپشن کے نئے مقدمات بھی درج کئے جا سکتے ہیں غرض اس وقت حکمرانوں کے لئے اچھی خاصی مشکلات مولانا نے پیدا کردی ہیں جس کی اصل حکمرانوں کو بالکل بھی کوئی امید نہیں تھی۔ مولانا کے بھائی کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق مولانا کے بھائی کا کہنا ہے کہ حکومت نے اخلاقی برتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے ان کی کردار کشی کو ہی اپنا طرہ امتیاز بنا لیا ہے اس طرح سے معاملات سلجھتے نہیں بلکہ مزید خراب ہو جاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ وہ کسی لشکر سازی کا حصہ نہیں بنیں گے، غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ہمارے سارے پڑوسی ممالک مخالف ہو گئے ہیں، سیاستدانوں کو اپنا کام اور سرحدوں کی رکھوالی کرنے والوں کو اپنا کام کرنا چاہئے اگر اپنی مقبولیت پر اتنا ہی فخر ہے تو الیکشن میں حصہ لے کر معلوم کرلیں، قارئیں صورتحال بہت خراب ہے ایک ایک کرکے ساری سیاسی پارٹیاں ہی اصل حکمرانوں کا شکار ہوتی جارہی ہیں۔ پاکستان کو اس وقت اتحاد و یکجہتی کے علاوہ سیاسی پختگی کی ضرورت ہے۔ ملک کسی اور انارکی یا بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہر کسی کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں