Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
دور حاضر کا جنرل ڈائر کون؟ 6

دور حاضر کا جنرل ڈائر کون؟

حضرت علی کا تاریخی قول کہ ”کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں“۔ کیا پاکستان میں کفر کا نظام چل رہا ہے یا پھر ظلم کا یا پھر یہاں پر رسوائے زمانہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز حکمرانی چل رہی ہے جہاں کا ہر چھوٹا یا بڑا سرکاری افسر ہر وقت ”جنرل ڈائر“ بننے کے لئے ذہنی طور پر تیار دکھائی دیتا ہے۔ اس ظلم کے حکومت کی جھوٹی رٹ کو برقرار رکھنے کے لئے۔۔۔ کشمیر اور گلگت میں ان دنوں جنرل ڈائر کی دہشت اور بربریت ہی تو صاف طور پر دکھائی دے رہی ہے کہ کس طرح سے عوامی ووٹوں ان کے خواہشات اور جذبات پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ مزاحمت کرنے والوں کو جنرل ڈائر کے ذریعے ہلاک کروایا جارہا ہے۔ سچ کی آواز کو دبانے کے لئے تاریخ کے ان بدنام کرداروں کو پاکستان میں ہی زندہ رکھا جارہا ہے اس وقت کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وطن عزیز میں آخر ہو کیا رہا ہے۔۔؟ یہاں پر جمہوریت ہے یا آمریت ہے۔۔۔؟ ایک عجیب طرح کی طرز حکمرانی ہے جو اس سے پہلے کبھی بھی پاکستان پر نہیں کی گئی۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک بظاہر یا پس پردہ حکمرانی کرنے والے اتنے بے لباس نہیں ہوئے جتنا انہیں اب ہونا پڑ رہا ہے اور نہ ہی اتنا پہلے کبھی اپنے ہی عوام پر سرکاری اسلحہ تانا گیا اور انہیں دشمن سمجھ کر ہلاک کیا گیا اور نہ ہی اس سے پہلے کبھی ملکی عوام میں اپنے ہی اداروں کے خلاف اتنی نفرت پائی گئی جتنی اس وقت پائی جاتی ہے ملکی دانشوروں کا کہنا ہے کہ اتنی نفرت تو سقوط ڈھاکہ کے وقت بھی ملکی عوام میں اپنے اداروں کے خلاف نہیں تھی جتنی اس وقت ہے جس کا ثبوت وہ ہر الیکشن میں اداروں کے حلف یافتہ جماعتوں کے امیدواروں کے ضمانت منسوخ کروانے کی شکل میں دے رہے ہیں وہ ایک الگ بات ہے کہ بعد میں بندوق کے زور میں عوام کے ہاتھوں دھتکارے ہوئے سیاستدانوں کو بھی جتوا کر ان کے ذریعے حکومت بنائی جاتی ہے جس سے ملکی عوام میں ان سیاستدانوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف ایک بلا کی نفرت پھیل جاتی ہے جو مسلسل برھتی ہی چلی جارہی ہے اور ڈر ہے یہ نفرت ہی خدانخواستہ کسی بہت بڑے اور خونی انقلاب کا پیش خیہ نہ بن جائے ایک اس طرح کا خونی انقلاب جو امام خمینی کی قیادت میں ایران میں آچکا ہے اور اس انقلاب کے ذریعے امریکہ نواز شاہ رضا پہلوی ایران کے پورے خاندان کو وہ خاک و خاشاک کی طرح سے بہا کر لے گیا اسی طرح کا خونی انقلاب پاکستان میں فرنگیوں کے باقیات اس ظالمانہ نظام کو بھی کہیں خاک و خاشاک کی طرح سے نہ لے جائے اگر اس طرح سے ہو گیا تو پھر سوچیے کیا ہو گا پھر کس طرح کا ایک نیا پاکستان موجودہ قائد اعظم کے پاکستان میں سے نمودار ہو گا۔ ارباب اقتدار کو چاہئے کہ وہ اپنے ان بے لگام اداروں کو قابو میں کریں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار دستہ اول کے طور پر ادا کرے یعنی خود کو بھی بالکل اسی طرح سے قانون کا پابند بنائیں جس طرح کی توقع وہ عام لوگوں سے کرتے ہیں، یقین جانیے قانون کی حکمرانی میں ہی پاکستان کی ترقی فلاح اور اس کی سلامتی مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں