موجودہ صورت حال میں ایران نے عالمی طور پر جس فراست سے ایک مضبوط تشخص پر بحیثیت سیاست خود کو متعین کیا ہے وہ اس کی قدیم تہزیبی تمدنی ورثہ کا ثبوت دیتی نظر آتی ہے ایران یا فارس ایک ایسا ملک تعبیر کیا جاتا ہے جو مشرق وسطیٰ میں واقع ہے جس سرحدیں مشرق میں پاکستان، افغانستان اور مغربی میں ترکی اور عراق سے ملتی ہیں جو جنوب میں خلیج فارس سے خلیج عمان تک پھیلا ہوا ہے ایران دنیا کی قدیم ترین ثقافت اور تہذیبوں میں سے ایک ہے جس کی تاریخ چار ہزار قبل مسیح تک بتائی جاتی ہے یورپ اور ایشیا کے وسط میں ہونے کے باعث جغرافیائی اہمیت رکھنے کے علاوہ قدرتی گیس، تیل اور قیمتی معنیات کی وجہ سے نہ صرف خطہ بلکہ عالمی طور پر بھی انتہائی اہم رہا ہے۔
ایران مشرق وسطیٰ میں ہمیشہ سے اپنا ایک اثر و رسوخ رکھتا ہے جو اسے باقی ماندہ ملکوں کے ساتھ براہ راست مقابلے میں رکھتا ہے جس کی وجوہات میں فرقہ وارانہ اختلافات اور غیر نمائندہ (Proxy) گروہوں کی معاونت شامل نظر آتی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کے درمیان کشیدگی سنی شیعہ کے تناظر میں نظر آتی ہے پھر پروکسی وار جس میں یمن کی حوثیوں کی ایران معاونت بھی ایک وجہ ہے ایران نے لبنان میں حزب اللہ اور دیگر فلسطینی گروہوں جس میں حماس بھی شامل ہے کے ساتھ ہمیشہ تعلقات استوار رکھے ہیں مگر عراق، شام اور لبنان سے اس کے تعلقات رہے ہیں دیگر ممالک کے برعکس قطر کے ساتھ ایران کے مختلف محکموں اور امور میں قریبی روابط موجود ہیں۔
ایران نے ہمیشہ سے اپنی سالمیت کو اول ترین درجہ پر فائز رکھا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار میں مغربی ممالک اور امریکی مخالفت اور پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے اس نے ہر سطح پر دفاعی طور پر خودکفیل ہونے کا فیصلہ کیا اور مختلف ٹیکنالوجی اور دیگر دفاعی شعبوں میں بے پناہ کام شروع کرکے اپنی حفاظت کا بھرپور اور موثر انتظام کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکا اور بارہا اس کا اعادہ کر چکا عالمی طور پر کہ یہ ایک صرف دفاعی عمل ہے خطہ اور دیگر ممالک کے لئے کوئی خطرہ کا سبب نہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام کی بنیاد 1950ءکی دہائی میں رضا شاہ پہلوی کے دور حکومت میں امریکہ کی مدد اور تعاون سے رکھی گئی امریکہ اور ایران تعلقات اس وقت بہترین نظر آتی ہیں مگر جب محمد مصدق ایران کے وزیر اعظم قائم ہوئے تو انہوں نے ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا اعلان کیا یہ امریکہ اور برطانیہ کو ناگوار گزرا۔ مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ 1954ءمیں رضا شاہ پہلوی سے ایسے معاہدے پر دستخط کروالئے گئے جس کے تحت امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو ایران کے تیل کے 40 فیصد کی ملکیت دیدی گئی۔ 1979ءمیں رضا شاہ کی حکومت بھی الٹ دی گئی آیت اللہ خمینی سربراہ قائم ہوئے اور ایران میں امریکہ مخالفت کے دروازے کھل گئے جس کے عوض ایرانی تمام اثاثے منجمد کردیئے گئے اور شدید قسم کی پابندیوں کا اطلاق شروع ہو گیا۔
ایران کے جوہری پروگرام کئی دہائیوں سے بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہا ہے جس کی وجہ سے اسے سخت قسم کی پابندیوں کا سامنا رہا ہے جس نے ایران کی معیشت کو سنگین نقصانات سے دوچار رکھا ہے تیل کی برآمدات کو متاثر کیا ہے اور عالمی مالیاتی نظام کا حصہ بننے کے راستے مسدود کئے ہیں۔ 2015 ءمیں امریکی صدر بارک اوبامہ کے عہد حکومت میں سکیورٹی کونسل اقوام متحدہ کے پانچ ممبران اور یورپی یونین اور جرمنی اور ایران کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ طے پایا جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کچھ شرائط قبول کی جس کے تحت اقتصادی پابندیوں میں نرمی اختیار کرتے ہوئے گنجائش پیدا کی گئی مگر 2018 میں دوبارہ امریکہ نے اس معاہدے سے منکر ہوتے ہوئے پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا اس تمام عرصہ میں ایران نے احساس کے ساتھ کہ خود حفاظتی ناگزیر ہے اپنے جوہری پروگرام کی ترویج جاری رکھی۔
امریکہ اور ایران کی حالیہ جنگ میں اس عمل کو وجہ قرار دیا گیا ہے اور اس شرط پر جنگ بندی پر آمادہ ہونے کا اعلان کیا گیا کہ اگر ایران مکمل طور پر اپنے جوہری پروگرام کو مفلوج کرنے کا اعلان کرے اور امریکہ کی تمام شرائط کو قبول کرے مگر ایران نے اس وقت سپرپاور امریکہ اور اس کے معتبر ترین حامی اسرائیل سے جنگ کرتے ہوئے جس مہارت اور قوت کا مظاہرہ کیا ہے اس نہ صرف مغربی ممالک بلکہ خود امریکہ اور اسرائیل کو حیرت سے دوچار کردیا ہے ایران ایک مضبوط فاتح کے طور پر ابھر کر سامنا آیا ہے اس کی دفاعی اور فوجی منصوبہ بندی نے عالمی سطح پر ایک سراسمیگی کی کیفیت پیدا کی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک جو کئی دہائیوں سے اس خیال میں رہے کہ امریکی مفاہمت اور روابط ان کی بقاءکے لئے کارآمد ہو سکتے ہیں لیکن ایران کا یہ ردعمل انتہائی حیران کن رہا ہے ایران نے یہ واضح کردیا کہ وہ اپنے ہمسایوں سے کویئی پرخاش نہیں رکھتا مگر حملہ آور کو نقصان پہنچائے گا اور اس کے تمام ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی استطاعت رکھتا ہے۔
اس منصوبہ بندی کے تحت ایران نے خلیج فارس اور خلیج کے درمیان آبنائے ہرمز جس کے ذریعے تقریبا دنیا کا بیس فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے کو موثر ترین منصوبہ بندی کے تحت مکمل بند کردیا تھا جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایندھن اور تیل کی کمیابی اور پھر قیمتوں میں اضافے نے یورپی اور دیگر ممالک میں ایک بحران کی کیفیت پیدا کردی یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس نے عالمی سطح پر معیشت کو تنزلی کی طرف دھکیلنے کے تمام راستے وا کردیئے۔ جس امریکہ کو ایک اور شدید تنقید کا نشانہ بنایا گو کہ ایران نے اس سلسلے میں کچھ نرمی کا عندیہ دیا کچھ راستی نکالے تاحال امریکہ اور ایران کسی حتمی فیصلہ پر اس سلسلے میں رضامند نہیں ہوئے ہیں۔
جنگ بندی کے سلسلے میں ایران پوری تیاری کے ساتھ اس سارے تناظر میں سفارتی اور جنگی صورتحال کا سامنا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قدم آگے بڑھا کر سفارتی رابطوں کو وسیع کرنے کا انتظامات کرنے میں مصروف ہے روس، چین اور جنوبی کوریا منظر میں دکھائی دینے لگے ہیں۔
ایران کے عوام ہمیشہ کی طرح اپنی قومی سالمیت کو اپنے اختلافات پر ترجیح دیکر متحد ہونے کا مظاہرہ کررہے ہیں تمام دعوﺅں کے باوجود ایرانی قیادت مضبوط کھڑی ہے اور یہ نئی قیادت ایک مختلف نگاہ اور فکر سے عالمی امور کو تجزیہ کررہی ہے اس کی مناسبت سے فیصلے کررہی ہے کہ ایران کا مذاکرات دستہ پرانے سیاستدانوں پر مشتمل ہے ایران نے اس وقت صرف آبنائے ہرمز کی بات پر اکتفا کیا ہے جوہری پروگرام کے سلسلے میں اس کی خواہش مکمل جنگ بندی پر منحصر ہے مذاکرات میں سنجیدگی وقت کا تقاضا ہے ایران نے عالمی طور پر اپنی حیثیت مستحکم کرلی ہے۔ بین الاقوامی طور پر اس کی تائید کی جارہی ہے، زمینی حقائق یہ ہی ہیں کہ نہ صرف دیگر بلکہ ایران بھی اس وقت شدید معاشی پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے اگر جنگ طول پکڑتی گئی تو یہ ایک عالمی المیہ ہو گا۔ مستقبل فیصلہ کریگا کہ آئندہ دنیا کی سیاسی نوعیت کیا ہو گی۔ حل نکالنا ہو گا۔
7













