Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 250 سال 8

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 250 سال

4 جولائی 2026ءکو ریاستہائے متحدہ امریکہ کو آزاد ہوئے 250 سال مکمل ہو گئے۔ 1764 میں امریکہ کی 13 کالونیوں نے باقاعدہ طور پر تخت برطانیہ سے بنیادی طور پر اس امر پر احتجاج کی ابتدا کی کہ برطانیہ اپنی مختلف جنگوں کے قرضے چکانے کے لئے نو آبادیات پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کے باوجود اسے برطانوی پارلیمنٹ اور انتظامیہ میں شرکت کی اجازت سے گریزاں تھا۔ اس کے علاوہ برطانوی قوانین کے مطابق نو آبادیات کے باشندوں پر پابندی عائد تھی کہ وہ علاوہ برطانوی کمپنیوں کے کسی اور سے تجارت نہیں کر سکتے۔ 1773 میں واقع ہونے والی مشہور زمانہ ”بوسٹن ٹی پارٹی“ اسی احتجاج کے سلسلے کی ایک کڑی تھی جب چائے کی پتیوں سے بھرے ہوئے 334 ڈبے سمندر کی نظر کر دیئے گئے جن کی مالیت 10 لاکھ ڈالرز کے قریب تھی۔ امریکی جنگ آزادی 1775 سے لے کر 1783 تک 13 امریکی کالونیوں اور برطانوی راج کے درمیان جاری رہی۔ 4 جولائی 1776 کو تھامس جیفرسن نے Declaration of Independence کو باقاعدہ طور پر منظور کر لیا جس کے نتیجے میں انجام پانے والی جنگوں میں فرانس، اسپین اور نیدرلینڈ نے برطانیہ کے خلاف امریکی کالونیوں کی مدد کی۔ 1783 میں برطانیہ نے با ضابطہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کی آزادی کو تسلیم کر لیا۔ امریکہ کی ابتدائی 13 ریاستیں مشرقی ساحل پر موجود تھیں باقی 37 ریاستیں مختلف معاہدوں اور خریداری کے ذریعے 1791 سے 1959 کے درمیان امریکہ میں شامل ہوئیں۔ امریکہ کا پہلا آئین 1787 فلاڈیفا میں منعقد ہونے والے کنونشن میں مرتب کیا گیا یہ آئین بنیادی طور پر جیمز میڈیسن اور الیگزینڈر ہیملٹن نے لکھا۔ کنونشن میں 55 مندوبین نے شرکت کی اور جارج واشنگٹن سمیت 39 رہنماﺅں نے اس پر دستخط کئے۔
امریکہ نے عالمی طور پر اپنے لئے ایک مستحکم ساکھ قائم کی جس میں اس کے مربوط اور مضبوط آئین کے ذریعے جمہوری اقدار نے اہم کردار کیا۔ امریکی آئین اپنے شہریوں کو بنیادی شخصی حقوق کا تحفظ فراہم کرتاہے جس کی پاسداری تمام انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اقتدار کی پرامن منتقلی جمہوریت کو استحکام عطا کرتی ہے۔ امریکہ اب تک رائے عامہ کے ذریعے 45 صدور منتخب کرچکا ہے اور ہر نئے صدر کو بصد احترام منصب پر فائز کرنے کی روایت قائم کی گئی۔ امریکہ کا عدالتی نظام مکمل طور پر گرفت رکھتا ہے کہ آئین شکنی سے اجتناب برتا جائے اور کوئی ایسی ترمیم نہ کی جائے جس سے کسی فرد یا گروہ کے بنیادی حقوق پامال ہوتے ہوں جس میں تعلیم، صحت، کفالت اور دیگر امور شامل ہیں۔ آئین پابند کرتا ہے کہ ہر حکومتی یا ریاستی ادارہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیتا رہے۔
امریکہ کی تاریخ کے اوراق مختلف قسم کے طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ نسلی تعصب اور تفریق کے کثیر ابواب نظر آتے ہیں طویل اور مختصر جنگوں کے علاوہ بھی بے شمار ایسے واقعات کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے عالمی طور پر کئی ریاستوں اور ممالک کی سیاست کو اثر انداز کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کو ایک بڑی طاقت کے طور پر تسلیم کرلیا گیا مگر سوویت یونین کسی نہ کسی طور اس کے مقابل رہا۔ تاہم 1991 میں سوویت یونین کے منتشر ہونے کے بعد وہ بلاشرکت دنیا کا سب سے مضبوط ملک تسلیم کرلیا گیا۔ اس کی فوجی طاقت عالمی طور پر مقتدر مانی گئی، جس کا فائدہ اس نے بھرپور طور پر اٹھایا اور بے شمار ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا رویہ قائم کیا۔ کئی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا۔ جس کا خمیازہ امریکہ کو خود بھی شدید ہزیمت کی صورت میں کئی بار اٹھانا پڑا۔
داخلی طور پر امریکہ نے مربوط آئینی تحفظ کے ذریعے ایک ایسا معاشرتی ماحول تشکیل دیا جس کے اصولوں نے مختلف شعبہ جات میں ترقی کے راستے کھولے اور عالمی سطح پر امریکہ کو ایک ترقی پذیر سرزمین کے طور پر متعارف کروایا جس کی وجہ سے دنیا کے طول و عرض سے با صلاحیت اور ہنر مند افراد نے اس سرزمین کی طرف رخ کرنا شروع کیا اور امریکہ ترقی یافتہ ہوتا چلا گیا۔ امریکہ کی ترقی میں اس کی سمت ہجرت کرنے والوں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ اعلیٰ ترین درسگاہیں، تکنیکی ادارے، معاشی مراکز، بے شمار جدید پیشہ وارانہ اصلاحات اور مواقع دریافت ہوتے چلے گئے اور باہر سے آنے والے کو قدم جمانے کی آسانیاں میسر ہوتی گئیں اور امریکہ کی آبادی میں مختلف تہذیبی معاشرتی اور مذہب کے عکس نمایاں ہونے لگے۔ امریکی آئین انتہائی مستعدی کے ساتھ بنیادی حقوق کی پابندی کرتا ہے۔ جس نے اس کی طرف ہجرت کرنے والوں کو یہ اعتماد فراہم کیا کہ وہ سرحدوں میں اپنی مرضی کی آزادانہ زندگی گزار سکیں گے۔ یہاں کا قانون ہر طور سے ان کو تحفظ فراہم کرے گا۔ امریکی آئین آزادی رائے کو بنیادی انسانی حق قرار دیتا ہے اور ہر شہری کو اس امر کی اجازت دیتا ہے جس سے کسی دوسرے کی آزادی سلب نہ ہوتی ہو یا اس کی وجہ سے دوسرے کو نقصان نہ پہنچے۔ اسے مکمل طور پر انتظامی امور میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سیاسی افق پر مختلف رنگ و نسل و مذاہب کی شخصیات نظر آتی ہیں۔ قانون کی بالادستی ہونے کے باوجود امریکہ بھی جرائم کی ارتکاب سے محفوظ نہیں۔ یہاں بھی وہ ہی انسان قیام پذیر ہیں جو دنیا کے دوسرے ممالک میں ہیں اور خاص کر جب دنیا کے بہترین ذہن جہاں موجود ہوں وہاں جرائم کی نوعیت بھی اعلیٰ پایہ کی ہوتی ہے مگر قانون کا سخت نفاذ اور عملداری سب کو یکساں فراہم کرتے ہوئے معاشرہ کو محفوظ بنانے کا ایک ذریعہ ضرور ہے۔
امریکہ اب مہاجر نسلوں کا ٹھکانہ بن چکا ہے۔ یہاں آنے والے اپنے ساتھ ثقافت اور تہذیبی ورثہ ساتھ لے کر آئے ہیں۔ مختلف تہذیبوں کی آمیزش سے امریکہ اب ایک اجنبی سرزمین کے بجائے ایک ایسی تمدنی آمیزش کے معاشرہ میں ڈھل چکا ہے جس میں رنگ و نسل کی تفریق معدوم ہوئی جاتی ہے۔ مختلف معاشروں نے امریکہ کے ماحول پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔
امریکہ میں باہر سے آنے والوں کا تناسب امریکہ کی کل آبادی کا 14.6 فیصد ہے۔ جس میں ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک سے آنے والوں کی اکثریت ہے جو ایک محفوظ اور خوشحال زندگی کی خواہاں ہوتے ہوئے مختلف ہجرتی قوانین کا سہارا لیتے ہوئے امریکہ پہنچتے ہیں امریکہ عالمی طور پر Land of Opportunity کے نام سے جانا جاتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کے طول و عرض سے لوگ اس سے فائدہ اٹھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جہاں امریکہ داخلی طور پر مثبت رویے رکھنے پر مانا جاتا وہیں اس کے کئی لائحہ عمل داخلی اور بیرونی طور پر شدید تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ موجودہ امریکی اور ایرانی جنگ نے امریکہ کی ساکھ کو بے طرح نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی طور پر وہ تقریباً تنہائی کا شکار ہے۔ امریکی رویہ مذاکرات میں تعطل پیدا کرنے کا سبب گردانا جارہا ہے۔ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفاہمت کی طرف بڑھنے کی ضرورت شدید ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں