اب کی باری میاں صاحب کی باری 225

آپی میری آپی مجھے چھوڑ گئیں

وہ نوخیر کلی جو اپنی شگفتگی اور شادابی سے اپنے اطراف کو مہکتی خوشبوﺅں سے مخمور کررہی تھی اس کے حسین رنگ برنگ انداز اپنی معصومیت کی بدولت اپنی سنگھی ساتھیوں سہیلیوں میں اس کو نمایاں کررہی تھیں وہ ان تمام چیزوں سے بے بنیاد اپنی مستی کے حسین رنگوں میں مست خاندان میں اپنی معصومیت کی پہچان لئے سب سے بے خبر اپنی کم سنی کے باوجود بہن بھائیوں کے لاڈ پیار کے ساتھ اپنے حسین خیالات کی دنیا میں مگن حسن سلوک سے ساتھیوں میں اپنی نوخیز زندگی کے ابتدائی سالوں میں ہی خاندان کی گھریلو ذمہ داریوں کو بھی نباہ رہی تھی۔ وہ خاندان کی ان بچیوں میں شمار ہوتی تھیں جو اپنے فطرتی حسن و خوبصورتی کی بدولت ہم عمر بچیوں میں دور سے ہی پہچانی جاتی تھی۔ ابھی عمر کے اس ابتدائی حصے میں تھی جب خوابوں میں حسین شہزادے شہزادیوں کی کہانی کبھی کبھی دھندلے دھندلے انداز میں آتی تو وہ سوتے سوتے ان خوابوں کی دنیا کی سیر کرتی اور ان خوابوں کی دنیا میں اپنے دل میں چھپی خواہشات کو عملی طور پر پورا ہوتے دیکھتے دیکھتے مسکراتی۔ یہ مسکراہٹ جاگنے کے بعد بھی دیر تک ان کے چہرے سے غیر ارادی طور پر ظاہر ہوتی رہتی۔ وہ شاید ان ہی خوابوں کے لئے راتوں میں انتظار کرتے کرتے دیر تک جاگتی رہتی اور دن ان تصورات میں گزارتی جو اس کے خوابوں کی تعبیر کو اس کے رنگ برنگ مستقبل کا خاکہ سجاتا۔ دن کا بڑا حصہ گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں انتھک محنت کرتے گزر جاتا۔ ان کے ہاتھ ان کاموں کو انجام دینے میں مصروف رہتے مگر اس دل اور دماغ ان تصورات میں گم رہتا جو دن میں ان کے وقت کو بھرپور زندگی سے شاداب کرتے، راتیں ان کے حسین خوابوں کو اس میں زندگی نئی امنگ اور شادابی پیدا کرتے اس پر چھوٹی ننھی سی کلی اپنے چھوٹے سے باغیچہ میں تمام پھولوں اور کلیوں میں سب سے زیادہ حسین خوبصورت اور نمایاں دکھائی دیتی۔ مجھ سے وہ عمر میں بارہ پندرہ سال بڑی تھیں جب ان کو دیکھا میں ان کی گود میں تھا۔
انہوں نے ہی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے میری پرورش کی۔ تھیں تو وہ میری بڑی بہن لیکن انہوں نے مجھے ماں کی طرح پالا۔ ہماری ماں جو ہمارے دیگر بہن بھائیوں کی پرورش میں ہی زیادہ وقت گزارتی یا ہم سے چھوٹے بہن بھائیوں کی آمد کے مراحل سے گزر رہی ہوتی اس لئے مزید چھوٹے بہن بھائی اپنے بڑے بہنوں اور بھائیوں کی ذمہ داریاں بن جاتے تھے۔
وہ ہمارے بہن بھائیوں میں سب سے درمیان میں تھیں ان سے بڑے بھائی جو پورے خاندان کی ذمہ داریوں کو نبھانے کی وجہ سے خاندان میں سب سے نرالے سمجھے جاتے تھے اور سب سے بڑے بھائی جو سب کے دلارے تھے وہ والد سے ملی ہوئی فنکارانہ طبعیت کے باعث اپنی ابتدائی زندگی کو فنکارانہ رنگ ڈھنگ میں ڈھال چکے تھے جس کی خاطر وہ گھر سے بیگانہ ادبی علمی سرگرمیوں میں مصروف رہتے۔ باقی وقت ریڈیو پاکستان میں اپنی مخصوص فطرتی خوبصورت آواز کی صدا کاری سے وہاں کا اہم حصہ بن چکے تھے مگر میں صرف شہزادوں کے طرز پر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے لاڈ پیار اٹھواتے گھریلو ذمہ داریاں اپنے سے چھوٹے بھائی کے کاندھوں پر ڈال کر خود اپنی دنیا میں مگن رہنے والا کیونکہ گھر سے دور نانا کے ساتھ تجارتی معاملات میں مصروف رہتے۔ بھائی جان سے چھوٹی باجی اپنی بیماری کے سبب گھر کے کام کاج میں اس کا ساتھ نہ دے سکنے پر سارا گھریلو بوجھ آپ کے ذمہ داریوں میں اضافہ کا باعث ہوتا۔
امی بھی آپی کو ہر وقت مصروف رکھنے کے لئے ان کو ہر روز نئے نئے کاموں پر معمور کر دیتیں۔ وہ گھریلو خانہ داری میں اپنی کمسنی کے باوجود وقت سے پہلے ہی ماہر ہوتی جارہی تھیں۔ شعور حاصل ہونے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ امی خاص طور پر ان کو گھر میں مصروف اس لئے رکھتی تھیں کہ وہ گھر سے کم سے کم باہر نکلیں کیونکہ ان کو اپنے گڈری میں چھپے لعل کی حفاظت مقصود تھی۔ وہ اپنی سب سے حسین اور قیمتی دولت کو لوگوں کی نظروں سے چھپا کر رکھنا چاہتی تھیں۔ وہ ان نظروں کو اچھی طرح پہچانتی تھیں اس ہی لئے وہ اس حسین دولت کو گھر کے مختلف کاموں میں لگا کر محدود رکھنا چاہتی تھیں یہ بھی گھر کے تمام کام نبٹا کر اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں جانے کو بے چین رہتی۔ سہیلیاں بھی ان کو اپنے ساتھ رکھ کر فخر محسوس کرتی پھر بھی امی باہر نکلنے پر پابندی لگا دیتی تو وہ ہمارے گھر کی دوسری منزل کی کھڑکیوں سے جو چاروں طرف کھلی رہتی تھیں اپنی سہیلیوں سے باتیں کرتیں۔ دور ہونے کی وجہ سے اپنی آواز میں باتیں ہوتیں جو بعد میں ان کی عادتوں کا حصہ بن گئیں۔
باوجود ان پابندیوں کے جب بھی ان کا باہر نکلنا ناگیر ہوتا تو امی خود ان کے ساتھ ہوتی اور ان کو سیاہ برقے میں چھپا کر نکلتیں لیکن دیکھنے والوں کی نظریں ان کو برقے کے پردے کے پیچھے سے بھی ان کی جھلک دیکھنے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔ ہماری والدہ نے بہت کم اپنے بچوں کی پٹائی کی، کبھی بہت ہی غصہ آیا تو وہ اپنے بچوں کے کان کھینچنے کے بجائے گال نوچ لیتی تھیں۔ یہ عمل آپ کے گالوں پر بارہا دہرایا گیا۔
جب بھی بڑی باجی کے رشتہ کے لئے کوئی گھر آتا سب آپی سے پہلے آپی کو چھپا کر رکھنے کی تدبیریں ہوتیں کیونکہ اکثر یہ ہوا کہ رشتہ کے لئے آنے والے تو باجی کے لئے آتے اور رشتہ آپی کے لئے آ جاتا اور جب بھی ایسا کسی بھی وجہ سے ہوتا گال آپی کا ہی کھنچتا۔ جب میں تھوڑا بڑا ہونا شروع ہوا تو آپی کے باہر نکلتے وقت مجھے ہی ساتھ بھیجا جاتا کیونکہ آپی کا لاڈلہ ہونے کی وجہ سے اور ساتھ ساتھ امی کا جاسوس ہونے کے یعنی ڈبل ایجنٹ اس لئے گھر واپس آنے پر امی کو تمام رپورٹیں خاموشی سے میں ہی پہنچاتا یعنی کن کن سہیلیوں سے ملی اور کہاں گئی امی مطمئن ہو جاتیں اور رات کو ہم سب کو بٹھا کر اخلاق آمیز کہانیاں سنتے۔ آپی امی سے آخیر میں شہزادے شہزادیوں کی کہانیں ضرور سنتیں۔ جس میں خوبصورت شہزادہ شہزادی کو دیو سے آزاد کراکر اپنے محل میں لے جاتا جہاں آخیر میں شہزادہ اور شہزادی آپس میں محبت سے زندگی گزارتے۔ ایک روز امی سے کہانی سن کر رات گئے تک جاگنے کے بعد جب صبح دیر تک سوتی رہیں تو امی نے زبردستی ان کو جگایا۔ کافی دیر تک کسمسانے کے بعد انہوں نے اپنی خوبصورت آنکھیں کھولیں پھر مسکرا کر امی کے گلے میں اپنی بانہیں ڈال کر کہا کہ امی میں نے خواب میں شہزادے کو دیکھا لیکن وہ بچارہ شہزادہ بہت غریب تھا لیکن بہت حسین۔
امی ہنس پڑیں اور کہا کہ شہزادہ غریب تھوڑی ہوتا ہے، نہیں امی وہ اڑن کھٹولے پر بیٹھ کر آیا تھا وہ بہت غریب تھا یہ سن کر سب ہنس دیتے۔ یوں ایک روز وہ خوبصورت غریب شہزادہ اڑن کھٹولے پر بیٹھ کر ان کا ہاتھ تھامنے آگیا۔ یوں آپی کی شادی اس شہزادے سے سب گھر والی کی ہنسی خوشی مطابق ہو گئی وہ حسین شہزادہ بیاہ کر اپنے چھوٹے سے نیم پختہ مکان میں لے گیا وہ اس شہزادی کے ساتھ اس گھر میں زندگی گزارنے میں مگن ہو گئیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں چھ بھانجی بھانیوں کا ماموں بن گیا۔
آپی اور بچوں کا زیادہ وقت ہمارے گھر میں گزرتا تو تمام بھانجے بھانجیاں مجھ سے ہی فرمائش کرتے کیونکہ ان کے والد کی بحری سرحدوں کی ذمہ داریوں کو نبھانے میں مشغول رہتے گھر پر ان کا وقت کم سے کم ہی گزرتا تھا۔
آپی بھی اپنے دل کی باتیں گھر میں مجھے ہی آکر بتاتیں اور میں سب کے سامنے آپی کی پر زور وکالت کرتا۔ میں ان سب بچوں کو لے کر گھومتا پھرتا۔ تمام بچے مجھ سے زیادہ مانوس ہوتے چلے گئے۔ آپی نے بھی اپنے خوابوں کی دنیا کے شہزادے شہزادیاں صرف اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو بنا لیا ان کی خواہش یہ ہی ہوتی کہ ان کے بچے بھی شہزادے شہزادیوں جیسی زندگیاں گزاریں۔ ان کا اپنا شہزادہ بھی وہ توجہ حاصل نہ کر سکا جو انہوں نے اپنے تمام بچوں پر مرکوز کی ہوتی تھی۔
اس کے باوجود اپنے بچوں کی تمام باتیں اور شہزادے کی شکاتیں صرف مجھ سے ہی کرتیں جب ان کے دل کی بھڑاس نکل جاتی تو وہ نئی دنیا میں اپنے بچوں کے ساتھ مگن ہو جاتیں اپنی ذات سے کسی اپنے یا غیر کو کبھی تکلیف نہیں دی۔ وہ اپنی آواز میں اپنی بات کہہ کر خاموش ہو جاتیں، تھوڑی دیر بعد سب کچھ بھول بھال کر اپنے شہزادوں شہزادیوں میں مگن ہو جاتیں۔ بچے جب بڑے ہو گئے۔ میں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو وہ مجھ سے کہنے لگیں پیارے بھائی ہمیں چھوڑ کر نہ جاﺅ۔ میں پھر بھی یہ سوچ کر ان کو چھوڑ کر آگیا جب میں پاکستان واپس جاﺅں گا تو ان کے ساتھ رہوں گا اور آتا جاتا رہوں گا۔ ان کے بچے اب بڑے ہو چکے ہیں وہ ان میں مصروف رہیں گی۔ مگر وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئیں، واپس نہ آنے کے لئے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ مجھے اتنی جلدی چھوڑ جائیں گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں