585

امریکا میں طبی سامان فراہم کرنے والے ڈرون کو اُڑان کی اجازت دینے کا فیصلہ

ٹیکساس: یونیسیف کی جانب سے ویکسی نیشن کی ترسیل کے لیے ڈرون کے استعمال کے بعد امریکا میں بھی اسپتالوں اور جائے حادثہ پر طبی امدادی سامان کی فراہمی کے لیے ڈرون کو اُبرقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ڈرون کسی ایمبولینس یا نجی گاڑی کے مقابلے میں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ جاتے ہیں اسی طرح جنگ زدہ علاقوں میں بھی ان کی آمدورفت نسبتاً آسان رہتی ہے۔
یونیسیف بھی دوردراز علاقوں اور جزیروں میں ویکسی نیشن کی ترسیل کے لیے طبی امدادی سامان سے لیس ڈرون کے استعمال پر غور کر رہی ہے جس کا پہلا تجربہ گزشتہ موسم گرما میں افریقی ملک ملاوی میں کیا گیا تھا جہاں فارما سیوٹیکل کمپنیز اور یونیورسٹیز کے لیے ’ڈرون کوری ڈور‘ فراہم کی گئی تھی تاہم حال ہی میں یونیسیف نے مشرقی آسٹریلیا کے 80 جزیروں میں ویکسی نیشن کی فراہمی کے لیے ’ میڈیکل ڈرون‘ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو مدعو کرلیا ہے۔
یونیسیف کے ’وینچر کیپیٹل آرم‘ کے سربراہ کرسٹوفر فیبیئن کا کہنا ہے کہ ادویات اور ویکسی نیشن کی ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے ترسیل ایک بہترین نظام ہے جس کے لیے ہمیں فراغ دلی سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور ڈرون کی محفوظ اڑان کے لیے فضائی پابندیوں سے متعلق قوانین کو بھی نرم کرنا چاہیے، کسی بھی جدید سہولت کو عوام تک پہنچانا چاہیے۔
امریکا میں بھی طبی ڈرون کی اہمیت کو سراہا جارہا ہے تاہم امریکی حساس ادارے اور محکمہ ایوی ایشن ڈرون کو اڑان بھرنے کی اجازت دینے میں ہچکچاہٹ کا سامنا رہا ہے تاہم چند بنیادی اصول و ضوابط کی پاسداری کے ساتھ طبی کمپنیوں اور اداروں کو میڈیکل سامان سے لیس ڈرون کو ابتدائی طور پر ٹیکساس، فلوریڈا اور پورٹو ریکو میں اڑان کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کے لیے قانون سازی پر غور کیا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں