اقبال لطیف کا تجزیہ 111

اوّل افغان؟

قندھار جو ظاہر شاہ کے زمانے میں اپنے پھلوں کے لئے قندھاری اناروں، سردے اور انگوروں کے لئے مشہور تھا وہاں اب زمینی سرنگوں کی فصل اگی ہوئی تھی۔ باغات میں ہر جگہ سرخ جھنڈیا زمین میں لگی ہیں جس سے نشاندہی کی ہوئی تھی یہاں زیرزمین بارودی سرنگ لگی ہوئی ہیں، لاتعداد بچے پھلوں کے لالچ میں وہاں جاتے ہیں اور پھر ان سرنگوں کے پھتنے سے اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں یا ساری عمر کے لئے معذور ہو جاتے ہیں۔ میں خود انجانے میں ایسی جگہ چلا گیا مگر ایک کوئٹہ کے طالب نے مجھے ان سے بچا کر باہر آنے کے لئے کہا ورنہ۔۔۔؟
المیہ یہ تھا کہ نہ تو وہاں موجود امریکی اور نہ ہی مقامی حکمرانوں نے انہیں صاف کرنے کے لئے کوئی کام کیا اور نہ ہی مقامی آبادی کو محفوظ کرنے کا بندوبست، نتیجہ میں ان کی واحد دولت پھل ضائع ہوتے رہے۔ اس دورے میں جن عناصر سے ملاقاتیں ہوئیں اور بات چیت ہوئی انہیں عوام سے کوئی مطلب نہیں تھا، ان کا سب سے بڑا مسئلہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنا تھا۔ روسیوں کے مقابلے کے لئے جو اسلحہ افغانستان آیا تھا اسے اسمگل کرکے پاکستان میں فروخت کرنا، منشیات اسمگل کرکے دولت حاصل کرنا، جن میں مقامی سردار اور خود امریکی فوجی بھی شامل تھے جب کہ افغانستان سے اسمگل شدہ گاڑیاں پاکستان اسمگل کرنا سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار تھا۔ چمن کی سرحد پر افغان علاقہ اسپن کاریز میں ہزاروں گاڑیاں پاکستان اسمگل کرنے کے لئے موجود رہتی تھیں۔ میں نے وہاں موجود ایک شخص حاجی عمر سے پوچھا کہ اتنی گاڑیاں موجود ہیں، یہ بکتی بھی ہیں؟ ان نے کہا صحیب! ماہانہ پانچ ہزار گاڑیاں پاکستان جاتی ہیں، تو مارے حیرت کے میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اور پھر یہ بھی ہوا کہ اس وقت کے صدر فاروق لغاری کا بیٹا وہاں سے گاڑگیاں منگوا کر اسلام آباد لے گیا جس کی خبر میں نے اسلام آباد ڈیٹ لائن سے اپنے اخبار کے لئے روانہ کی مگر خبر تو نہیں چھپی۔ ایک دن گورنر بلوچستان کے ملٹری سیکریٹری نے فون کرکے مجھے بلوایا جو ایک انتہائی شریف النفس انسان تھے اور مجھ سے خبر کے بارے میں پوچھا میں حیران رہ گیا کہ خبر تو شائع ہی نہیں ہوئی، انہیں کیسے پتہ چلا، کہنے لگے جعفری صاحب! اس خبر کے طفیل آپ کے اخبار کے ایڈیٹر ایک گاڑی لے اڑے، آپ یہی ہمیں بتا کر اور کچھ نہیں تو موٹر سائیکل ہی لے لیتے؟ کیونکہ ہماری اوقات یہی تھی بہرحال اس بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے تھے مگر بات ہے افغانستان کی جہاں پاکستان کے لئے کسی کے پاس کلمہ خیر نہیں تھا، سب جانتے تھے کہ ہر ہر فرد اپنے اپنے مقام پر فوائد حاصل کررہا ہے اور پھر افغان وہ تو شروع ہی دن سے ہندوستان کے والہ شیدا تھا کیونکہ بقول ان کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخواہ) پر پاکستان نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور یہ پختونستان کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں فقیرایپی نے پختونستان کا نعرہ سرحدی گاندھی خان عبدالغفار اور جواہر لال نہرو کے کہنے پر لگایا تھا اور پھر افغانستان جس پر سکھ بھی حکومت کر چکے تھے کچھ ایسے مسلمان نہیں تھے جو اسلام اور مسلمان ہونے کے ناطے پاکستان سے محبت کرتے بلکہ ان کا دھرم ایمان پیسہ اور صرف پیسہ تھا اور اب بھی ہے اور شیخ سعدی سے منسوب یہ مصرع اپنی جگہ حرف با حرف صحیح ہے کہ:
”اوّل افغان، دوئم کمبوہ، سوئم بدذات کشمیر“
یہ تینوں قومیں کسی سے وفا نہیں کرتیں ہیں اور اب تمہیں اس کی تفسیر نظر آرہی ہے۔
ساٹھ کی دہائی ہم چار پانچ دوست پشاور سے قابل فلمیں دیکھنے جاتے تھے کیونکہ 65 کی جنگ کے بعد ہندوستانی فلمیں پاکستان میں بند کردی گئیں تھیں۔ پشاور سے بس کا کرایہ سولہ روپیہ ہوتا تھا، نہ پاسپورٹ نہ ویزا، آزادانہ آمدورفت تھی، کابل میں ہم لوگ جمیل ہوٹل میں ٹھہرتے تھے جہاں فلموں کے بارے میں معلومات ہوتیں تھیں، کس سینما ہاﺅس میں کون سی فلم چل رہی ہے ایک دفعہ ہوٹل میں شادی کی تقریب ہو رہی تھی کہ ہماری میز پر ایک صاحب جو سوٹ میں ملبوس تھے اور کہا کہ میری بیٹی کی شادی میں آپ لوگ بھی شریک ہو جائیں تو خوشی ہو گی کچھ پشتو، کچھ فارسی اور کچھ اردو میں انہوں نے دعوت دی تو ہم سب بخوشی اس ہال میں چلے گئے جہاں شادی کی تقریب ہو رہی تھی۔ وہاں مرد اور خواتین جمع تھے، خواتین اسکرٹس اور بلاﺅز میں اور حضرات سوٹ پہنے ہوئے تھے اور انتہائی جوش و خروش سے رقص اور موسیقی کا بازار گرم تھا۔ تقریب کے بعد ہمارے میزبان نے اپنا تعارف کرایا کہ محکمہ تعلیم میں سیکریٹری ٹائپ عہدیدار تھے اور انہوں نے کہا کہ اگر وہ ان کے گھر تشریف لے چلیں تو خوشی ہو گی لہذا تیسرے دن وہ ہمیں لینے ہوٹل آگئے اور ہمیں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئے جو کہ ایک پہاڑ میں واقع تھا یعنی پہاڑ کاٹ کر گھر بنائے گئے تھے جو اندر دیواروں اور دیوار تا دیوار قالینوں سے مزین تھے وہاں انہوں نے انتہائی پرتکلف ٹھیٹ افغانی کھانوں سے ہماری تواضع کی۔ اب اصل بات کی طرف آتا ہوں جس کے لئے یہ تمہید باندھی ہے۔
ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کی طرف کیوں راغب ہیں انہوں نے سکون کے ساتھ جواب دیا کہ صاحب ہندوستان سے ہمارے روابط صدیوں سے ہیں اور آپ کا پاکستان تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن کا ہے اس کے علاوہ ہمیں پاکستان سے تلخ تجربات ہوئے ہیں انہوں نے ہمارے حصہ پر قبضہ کر رکھا ہے کیونکہ ڈیونڈر لائن کو تسلیم نہیں کرتے یہ انگریزوں نے غصب کرکے پاکستان کو دے دیئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ علاوہ اس کے انہوں جو معرکتہ الارا بات کی وہ یہ تھی کہ ہم افغان ہمیشہ ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں جو ہمیں مالی فوائد پہنچاتے ہیں اور یہ ہماری گھٹی میں پڑا ہوا ہے کیونکہ ہمارے یہاں نہ صنعت ہے، نہ تجارت تو جو ہمیں اقتصادی طور پر فوائد پہنچائے گا ہم ان کے ساتھ ہوں گے۔ آپ بس مذہب مذہب کھیلتے ہیں، باتوں سے پیٹ نہیں بھرا کرتے۔
چنانچہ دیکھ لیجئے آج ہندوستان افغانستان میں جو سرمایہ کاری کررہا ہے اس کا فائدہ بھی وہی اٹھائے گا اور خدانخواستہ پاکستان پر برا وقت آیا تو یہی احسان فراموش افغانی آپ کے پیٹ میں خنجر گھونپیں گے ان سے کبھی وفا کی امید نہ رکھیں کیونکہ شیخ سعدی کے بقول یہ کسی کے یار نہیں ہیں، محض دولت کے پجاری ہیں کیونکہ ان کی اصل ہی یہ ہے کہ یہ یہودی النسل ہیں، وہی عادات و اطوار اور وہی ان کی دغا بازی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں