پھر سندھ کارڈ۔۔۔ 35

ایک اور مقدس گائے

ایک حقیقی کہانی سن لیجئے۔ اس کے بعد اس آئینے میں اپنی تصویر ملاحظہ فرمائیے گا کہ ہم جو دنیا بھر میں نام نہاد ”اسلامی معاشرے“ میں رہتے ہیں، دنیا میں کہاں کھڑے ہیں، ہم جو گفتار کے غازی ساری دنیا کو فتح کرنے کی حماقت آمیز خواب دیکھتے ہیں مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو اپنا ہی دامن اپنے ہی ہاتھوں تار تار کرتے نظر آتے ہیں تو قصہ یوں ہے کہ کارلافے ایک طوائف کے یہاں پیدا ہوئی اس کی ولدیت کے خانے میں اس کی ماں ہی کا نام لکھا گیا (محشر میں بھی انسان اپنے باپ کی جگہ ماں کے نام سے پکارے جائیں گے کہ اللہ عیبوں کے پردے رکھنے والا ہے) گندے ماحول میں عدم توجہ کے باعث آٹھ سال کی عمر اس نے سگریٹ نوشی شروع کردی۔ بمشکل دس سال کی عمر میں اس نے چرس پینا شروع کردیا پھر 1983ءکی وہ رات آگئی جب اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر ایک جوڑے سے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی اور مزاحمت کرنے پر جوڑے کو ہلاک کرکے دونوں فرار ہو گئے لیکن چند ہی ہفتے کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ مقدمہ چلا اور ٹیکساس کی عدالت نے دونوں کو سزائے موت کی سزا سنا دی۔ جس کے بعد اپیلوں کا طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی دوران اس کا بوائے فرینڈ بیمار ہو کر جیل میں انتقال کر گیا جس کے بعد وہ تنہا رہ گئی۔ جیل حکام کو اس حادثے کا کوئی علم نہیں جس نے اس کی زندگی کا رُخ ہی بدل گیا۔
وہ لڑکی جو بات بات پر جیل انتظامیہ کو ننگی ننگی گالیاں دیا کرتی تھی وہ اچانک زیادہ وقت بائبل کے مطالعے میں گزارنے لگی۔ وہ نشئی عورت جو ہر وقت سگریٹ اور شراب کا مطالبہ کرتی رہتی تھی اب زیادہ تر روزے رکھنے لگی اب خدا اور مسیح کے سوا کوئی چیز نام نہ لیتی تھی۔ وہ ایک طوائف زادی اور قاتلہ کی جگہ مبلغہ بن گئی۔ ایک ایسی مبلغہ جس کے ایک ایک لفظ میں تاثیر تھی۔ پھر اس نے جیل میں ہی شادہ کر لی اور تبلیغ کو زندگی کا نصب العین بنا لیا۔
اس کی بدلی ہوئی شخصیت کی مہک جب جیل سے باہر پہنچی تو اخبارات کے رپورٹرز جیل پر ٹوٹ پڑے اور امریکہ کی معاشرتی زندگی میں بھونچال آگیا۔ یہاں تک کہ پوپ جان پال نے بھی زندگی میں پہلی بار عدالت سے کسی قاتلہ کی سزا معاف کرنے کی اپیل کی۔ سزا موت سے پندرہ روز قبل جب لیری کنگ جیل میں ٹکر کا انٹرویو کرنے گیا تو دنیا نے سی این این پر ایک مطمئن اور مسرور چہرہ دیکھا جو پورے اطمینان سے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا۔ لیری نے پوچھا ”تمہیں موت کا خوف محسوس نہیں ہوتا؟“ ٹکر نے مسکرا کر جواب دیا ”نہیں! اب مجھے صرف اور صرف موت کا انتظار ہے، میں جلد از جلد اپنے رب سے ملنا چاہتی ہوں، اپنی کھلی آنکھوں سے اس ہستی کا دیدار کرنا چاہتی ہوں جس نے میری شخصیت کو بدل دیا ہے“۔
انٹرویو نشر ہونے کے دوسرے روز پورے امریکہ نے کہا ”نہیں یہ وہ ٹکر نہیں ہے جس نے دو معصوم شہریوں کو قتل کیا تھا یہ تو ایک فرشتہ ہے جو صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے اور فرشتوں کو سزائے موت دینا انصاف نہیں، ظلم ہے“۔ رحیم کی اپیل ”ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول“ کے سامنے پیش ہوئی، 18 رکنی بورڈ نے کیس سننے کی تاریخ دی تو دو ممبروں نے چھٹی کی درخواست دیدی، باقی سولہ ممبران نے سزا معاف کرنے سے انکار کر دیا۔ بورڈ کا فیصلہ سن کر عوام سڑکوں پر آگئے۔ ٹکر کی درخواست لے کر ٹیکساس کے گورنر ”جارج بش“ کے پاس پہنچ گئے۔ امریکہ کے معزز ترین پادری جیکسن نے بھی ٹکر کی حمایت کردی۔ گورنر نے درخواست میں جیکسن اور ہجوم سے اظہار ہمدردی کیا لیکن آخر میں معذرت کرلی۔
اس نے کہا ”مجھے قانون پر عملدرآمد کرانے کے لئے گورنر بنایا گیا ہے، مجرموں کو معاف کرنے کے لئے نہیں، اگر یہ جرم فرشتے بھی کرتے تو میں انہیں معاف نہ کرتا“۔
موت سے دو روز قبل جب ٹکر کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو چیف جسٹس نے یہ فقرے لکھ کر درخواست واپس کردی ”اگر آج پوری دنیا کہے کہ یہ عورت کارلافے ٹکر نہیں، ایک مقدس ہستی ہے تو بھی امریکی قانون میں اس کے لئے کوئی ریلیف نہیں ہے کیونکہ جس عورت نے قتل کرتے ہوئے دو بے گناہ شہریوں کو رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی منصف رعایت نہیں دے سکتا، ہم خدا سے پہلے ان دو لاشوں کے سامنے جواب دہ ہیں جنہیں اس عورت نے ناحق مار دیا۔ 3 فروری 1998ءکی صبح پونے چھ بجے ایک جیل میں 38 سالہ کارلافے کو زہریلا انجکشن لگا کر سزائے موت دیدی۔
4 فروری کو جب سی این این سے کارلافے ٹکر کی موت کی خبر نشر ہو رہی تھی تو انسانی ضمیر سے سوال کیا کہ وجہ کیا ہے تو اس وقت مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کا قول زرین سامنے آیا کہ ”معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں لیکن نا انصافی کے ساتھ نہیں“۔ جو عدالتیں عوامی احتجاج، نظریہ ضرورت اور مصلحتوں کی بنیاد پر اپنے فیصلے بدل دیں تو وہ عدالتیں نہیں بادبانی کشتیاق ہوتی ہیں جن کی منزلوں کا تعین ملاح نہیں ہوائیں کرتی ہیں۔
اس تحریر کی روشنی میں ذرا اپنی ”اسلامی جمہوریہ مملکت پاکستان کا عدالتی نظام پرکھ لیجئے جہاں قاتلوں کو آزادی پروانے تفویض کئے جاتے ہیں جہاں دن دہاڑے لوگوں کے قاتلوں کو سرکاری تحفظ پر بیرون ملک روانہ کر دیا جاتا ہے۔ یہاں ایک ایسے وزیر اعظم کے قاتل کو جس نے اس مملکت کے خول میں اپنا سب کچھ نثار کردیا، انتہائی شاندار خراج تحسین اس کے خاندان کو پر تعیش زندگی گزارنے کی سہولت فراہم کی گئیں۔ یاد کر لیجئے سید اکبر کو جس نے شہید ملت لیاقت علی خان کو ہزاروں افراد کے سامنے شہید کیا اور اس کے خاندان کو اعلیٰ ترین مراعات دے کر اسی ملک میں رکھا گیا۔ یاد کیجئے راﺅ انوار کو جس پر سینکڑوں افراد کو قتل کے جرم ثابت ہوئے اور کوئی اس کا بال بیکا نہ کر سکا بلکہ اس کی دوستی میں اربوں کا سرمایہ بھی محفوظ ہے۔ یاد کیجئے لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ ہیرو کو جس نے لاتعداد معصوم افراد کو قتل کرائے اور ”معزز عدالتیں“ اسے ہر جرم سے بری کئے جارہی ہیں۔ کیا آپ کو یاد ہے پانچ سالہ زینب اور اس کا بہیمانہ قتل اور اس کے تمام ذمہ داروں کو عدالت نے صاف بری کردیا۔ آج بھی ہماری عدالتیں نہیں بلکہ ضمیر فروشوں کا جمعہ بازار ہے جہاں آئے دن انصاف سولی پر چڑھتا ہے، یہ عدالتیں دنیا کے 128 ممالک میں 121 ویں نمبر پر آتی ہیں اور اگر ان کی کارکردگی برقرار رہی تو یہ 128 وان نمبر حاصل کرلیں گی۔ وہ ججز جو اپنے آقاﺅں کی نمک حلالی کرتے ہوئے انصاف کا خون کررہے ہیں اب فوج کے بعد دوسری مقدس گائے بن چکے ہیں جن سے ان کے جرائم کے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا جا سکے گا۔
وہ ملک جو نام نہاد اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے آج بھی ان ممالک کو کافروں کا معاشرہ کہتا ہے جہاں انصاف کا بول بالا ہے۔ آج بھی کسی کو انصاف کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے اسی اسلامی ملک میں قاتل ”سربراہ حکومت بھی بن سکتا ہے اور قانون اور عدالتیں اس کے در کا غلام ہے“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں