Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 86

بدلتا معاشرہ

ستر کی آخری سہہ ماہی کے بعد پاکستان کے معاشرے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو آئی۔ چادروں میں لپٹے ہوئے وی سر آر اور تین کیسٹ والی انڈین فلموں کے ڈھیر تھامے ہوئے ایک گلی سے دوسری لگی بھاگے چلے جارہے ہیں۔ ایک گھر سے کئی کئی گھروں میں تاروں کا جال بچھا ہوا ہے۔ رات رات بھر جاگ جاگ کر فلمیں دیکھی جارہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے نئے فیشن اور حرکتوں کا اضافہ ہوا، کبھی بیل بوٹم تو کبھی ٹیڈی کٹ غرض فیشن کا ایک سیلاب آیا ہوا تھا۔ آزاد خیال گھرانوں میں تو فیشن کی آزادی تھی۔ اور جن گھرانوں میں سختی تھی وہاں کے نوجوان لڑکے لڑکیوں میں نئے فیشن اپنانے کی خواہش تو تھی لیکن اماں کی جھڑکیوں اور باپ کی خطرناک نگاہوں کا خوف بھی تھا۔ لہذا وہ اپنی خواہشیں سینوں میں ہی دبا کر رہ گئے تو اس کے علاوہ کیا کر سکتے تھے۔ دوستوں کو دیکھ کر دل تو کرتا تھا لیکن مجبوری تھی ان دونوں گھرانوں نے کیا کھویا کیا پایا اس کے بارے میں انہوں نے کبھی نہیں سوچا۔ جن لڑکیوں پر سختی تھی وہ زمانے کے ساتھ ساتھ چلنے کی حسرت دل میں ہی لئے بیاہ دی گئیں۔ ان میں سے کچھ ایسی بھی تھیں جنہوں نے شادی کرتے ہی دل میں ٹھان لی تھی کہ اپنے بچوں کے باپ کو اپنے باپ جیسا نہیں بننے دیں گی۔ لہذا ہر موقع پر بچوں کے سامنے د¾ال بن کر کھڑی ہو گئیں اور شوہروں سے کہا جانے لگا، زمانہ اب پہلے جیسا نہیں رہا، بدل گیا ہے اور تم تو دقیانوسی ہو، شور شرابہ طعنے تشنے دے کر باپ کی ان نگاہوں کو اولاد کے سامنے جھکا دیا۔ جن میں بچوں کے لئے خوف کی ضرورت تھی، یہ وہی دور ہے جس میں ہم اور آپ رہ رہے ہیں اور آج آدھے پاکستان کے گھرانوں میں عورت کی حکمرانی ہے اور ان آدھے گھرانوں کی خواتین دوسری خواتین کو بھی اکسا رہی ہیں کہ گھر پر حکمرانی کرو لیکن اس طرح کی صورت حال ہر گھر میں نہیں ہے۔ خواتین نے اپنے گھر کو جنت بھی بنایا ہے اور جہنم بھی۔ بہرحال ان لڑکیوں نے اپنی اولاد کے جوان ہونے کے بعد اپنے دل میں چھپی ہوئی تمام حسرتیں اور خواہشات کو اپنی اولاد میں دبا رہنے نہیں دیا اور ان کو اولاد کی صورت میں حاصل کیا۔ جو خواتین یورپ اور امریکہ منتقل ہو گئیں اور ان میں سے جو پہلے ہی آزاد خیال تھیں وہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑھاپے میں خود بھی یہاں کے رنگ میں ڈھل گئیں اور جو اپنے ملک میں ماں باپ کی وجہ سے زیادہ آزادی حاصل نہ کرسکی تھیں انہوں نے بچوں کی صورت میں اپنے تمام ارمانوں کو عملی جامہ پہنایا۔
گھر میں شوہر کی حکمرانی سے بغاوت کرنے والی خواتین کے پاس شوہر سے لڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی ہے بس بہانہ چاہئے۔ پاکستان میں خواتین کسی بھی حال میں رہ رہی ہوں، اٹھتے بیٹھے شوہر کو طعنے پڑتے ہیں، تم نے کوشش نہیں کی، ورنہ آج ہم سب امریکہ ، یا کینیڈا میں ہوتے، شوہر کہتا ہے یہاں ہم نے پاکستان میں رہ کر کون سا برا وقت گزارا ہے۔ بچے ما شاءاللہ پڑھ لکھ کر انجینئر بن گئے اور کیا چاہئے۔ جواب ملتا ہے خاک انجینئر بن گئے، نوکری ڈھونڈتے ڈھونڈتے جوتے گھس گئے اب جا کر نوکری ملی ہے۔ ہائے ہائے عبدالشکور کے بیوی بچے جب کینیڈا سے آتے ہیں تو دیکھنے والے ٹھاٹ باٹھ ہوتے ہیں۔ ایک تم ہو، بیوی، بچوں کا کوئی خیال نہیں ہے۔ شوہر زچ ہو کر کہتا ہے۔ عبدالشکور باورچی بن کر کینیڈا گیا تھا اب میں کیا بینک کی نوکری چھوڑ کر باورچی بن جاﺅں۔ لیکن بیوی کی منطق کے آگے سر جھکا لیتا ہے۔ بحث کرنے کی اب سکت نہیں رہی۔ امریکہ میں رہنے والے کوئی بھی کام کررہے ہوں ان کو بیوی سے یہی طعنے ملتے ہیں، کوئی اور ڈھنگ کا کام نہیں کر سکتے تھے۔
کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ امریکی قوم اپنے بچوں کو دوست بنا کر رکھتے ہیں اور ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کرتے ہیں یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ نہ صرف امریکہ میں بلکہ کسی بھی ملک کے اچھے اور شریف گھرانوں میں بچوں پر سختی کی جاتی ہے۔ شام کے بعد گھر سے باہر جانے پر پابندی، وقت پر ہوم ورک، وقت پر اسکول کھیل ہر چیز میں پابندی ہے۔ معاشرے اور ماحول پر الزام تراشنے والے دراصل اپنی کوتاہیوں اور غیر ذمہ داریوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔ شروع ہی سے بچوں پر توجہ نہیں دی گئی، اسکول میں داخل ہوتے ہیں۔ بچوں پر کڑی نگاہ کی ضرورت ہے۔ بندش ایک بہتر معاشرے کی تعمیر کا اہم جزو ہے۔ معاشرے کو پرامن رکھنے کے لئے گھر میں والدین کی سختی اسکول میں اساتذہ کی سختی ملک و قوم میں قانون کی سختی بہت ضروری ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنا کردار درست ہونا چاہئے اور بدقسمتی سے معاشرے کا ایک بڑا حصہ ان تمام چیزوں سے محروم ہے۔ اگر ہمارا کردار درست ہو گا تو ہم کسی دوسرے کو یا انی اولاد کو غلط کام سے روک سکتے ہیں۔ خود کو ٹھک نہ کرنے والے جب اپنی اولاد کو بگڑتا دیکھتے ہیں تو پریشان ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جن کے کردار بھی درست ہیں، بچوں کے لئے محنت بھی بہت کی لیکن شروع ہی سے بچوں پر دھیاں نہیں دیا، مصروفیت یا کسی بھی وجہ سے بچوں کو وقت نا دے سکے، ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے، اولاد کو دوست بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ مذہب اور معاشرے نے والدین اور اولاد کا جو رشتہ دیا ہے اسے قائم رہنا چاہئے، اس رشتے میں آخر کیا برائی ہ ے۔ اور جو اصول وضع کئے گئے ہیں ان کو بھی قائم رہنا چاہئے۔ اولاد کے ساتھ والدین کا رویہ عمر کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ پانچ چھ سال تک تو بچوں کے ساتھ کھیلنے کھالنے کا دور ہوتا ہے پھر اسکول جانے کے بعد ان پر گہری نظر رکھنا پڑتی ہے۔ پڑھائی کے لئے تھوڑی بہت سختی کرنا پڑتی ہے۔ ان کے آنے جانے اور دوستوں کے بارے میں علم رکھنا پڑتا ہے اور ان کے کالج اور یونیورسٹی جانے کے بعد ان کے ساتھ ایک محدود حد تک اور تہذیب کے دائرے میں دوستانہ رویہ رکھا جا سکتا ہے۔ نا صرف میرے بلکہ بے شمار لوگوں کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہو گی کہ جن گھرانوں میں اولاد پر سختی کی گئیان کے بچے پڑھ لکھ گئے اور جن لوگوں نے لاڈ پیار میں دوست ہی بنائے رکھا وہ کچھ نہ کر پائے۔
آج میں کسی بھی تعلیم یافتہ اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کا انٹرویو لیتا ہوں تو یہی سننے کو ملتا ہے کہ باپ کی مار پیٹ کھائی ہے، ان سب باتوں سے قطع نظر گزشتہ پچاس سال سے ہمارے معاشرے میں جھوٹ، بے ایمانی، بدعنوانی کا جو زہر سرایت کر گیا ہے اس میں والدین کا یا گھرانوں کا کوئی قصور نہیں تھا، یہ زہر ہمیں حکومتوں سے ملا، حکمران طبقے سے ہوتا ہوا زندگی کے ہر شعبے میں شامل ہوا۔ لوگ بے ایمانی، بدعنوانی سے دولت تو کماتے گئے لیکن معاشرے کو اور ملک کو پستیوں میں دھکیل دیا۔
عمران خان نے یہ عزم کیا تھا کہ وہ ملک سے کرپشن کو ختم کردے گا لیکن نا تو عمران خان کے پاس جادو کی چھڑی تھی اور نا ہی اس بے صبری اور 70 فیصد کرپٹ قوم کا اندازہ تھا۔ پچاس سال میں کرپشن کا زہر بہت آہستگی سے پورے معاشرے میں پھیل گیا، ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق کسی نا کسی بدعنوانی میں ملوث ہے۔ عزم تو کیا تھا لیکن جب عملی طور پر قدم رکھنے کی باری آئی تو کرپشن میں ملوث ایسے ایسے نام سامنے آئے کہ عمران خان کو بھی پسینہ آگیا۔ بڑے بڑے سیاسی لیڈر، وزرائ، اعلیٰ عہدے داروں کے علاوہ عدلیہ کے لوگ۔ فوجی افسران، غرض ہر بڑے شعبے میں موجود افراد ناجائز ذرائع سے دولت کما رہے ہیں۔ ان سب پر ہاتھ ڈالنے کا مطلب پورے ملک کے ڈھانچے کو گرادینا ہے جو کہ ممکن نہیں ہے۔ بڑے بڑے مگرمچھوں کی طرف سے عمران خان پر دباﺅ ہے بلکہ پی ٹی آئی کے اہم نمائندوں کا بھی دباﺅ ہے، کینسر اسپتال تو عمران خان نے بنا دیا، بے شمار لوگوں کا علاج بھی ہوا لیکن یہ کرپشن کا کینسر پورے معاشرے کے جسم میں پھیل چکا ہے، اس کا علاج ممکن نظر نہیں آرہا اور اگر ہے بھی تو اس کے لئے اتنا عرصہ درکار ہے کہ شاید عمران خان اس وقت تک نا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں