اوّل افغان؟ 31

تیرا یا میرا

لوگوں کا خیال ہے کہ اس طرح سے لوگوں کی ہلاکتوں کو اجاگر کرنے سے آپس میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ لہذا اس سلسلے کو ہوا نہ دی جائے۔ لوگوں کے نازک طبع پر مظلوموںکو پیش کرنا دراصل ظالموں کو مزید تحریک دینا ہے اور بات درست بھی ہے کہ جو مر گیا وہ مرگیا۔ اب اس پر واویلا کرنے کا کیا جواز ہے۔ یہ طرز فکر کوئی نئی بات نہیں ہے اب مرنے والے کے متعلق یہ پوچھنا پڑتا ہے کہ یہ کس فرقے، مذہب یا فقہے سے تھا اور اس کے حساب سے جذبات کو ظاہر کرنا فرض ہے اور پھر بھائی میں اس مرنے والے پر کیوں اپنا افسوس ضائع کروں جس کا تعلق میرے معاملات سے نہیں تھا۔ اس سلسلے میں یہ کوئی قصہ نہیں ہے بلکہ ذاتی تجربہ ہے اور میرا ذاتی المیہ یہی ہے میرے ایک عزیز دوست جو اپنے وقت کا بیشتر حصہ ٹی وی کے روبرو گزارتے ہیں کیونکہ ریٹائر زندگی کے مزے لے رہے ہیں اور جو ایک بار ان کا بائی پاس ہو چکا ہے، مسلکی اعتبار سے اہل سنت و الجماعت میں ایک وسیع دل کے مالک بلکہ ایک کھلے دل کے انسان ہیں انہوں نے جب ان ہزاروں کے ”قتل“ کی خبر سنی اور یہ بھی سنا کہ کس طرح انہیں ذبح کیا گیا تو انہیں ایک شدید ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ بچوں نے فوراً لیاقت نیشنل اسپتال میں انہیں داخل کرادیا اور ان کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی، دو تین کے بعد انہیں کچھ ہوش آیا تو ان کی یادداشت ختم ہو چکی تھی اور کسی کو پہچان نہیں پا رہے تھے گویا وہ اس وقت اس حالت میں تھے کہ نہ کوئی غم اور نہ کوئی فکر جو ایک کے دور میں ایک حساس آدمی کے لئے ایک نعمت ہے چنانچہ وہ ابھی اسپتال میں ہی ہیں۔ میں نے اس بات کا تذکرہ اپنے ایک مشترکہ جاننے والے سے اس لحاظ سے کیا کہ انہیں اس حادثے سے مطلع کردیا جائے اور انہیں تفصیل سے یہ واقعہ سنایا کہ کس طرح پیش آیا اب ان کا سوال سنیئے، کہنے لگے کہ ہزاروں کے قتال کی خبر سن کر دورہ پڑ گیا مگر ان دوست کا نام لے کر کہا کہ ”مگر وہ تو شیعہ نہیں ہے“ یہ سن کر میں سناٹے میں آگیا اور صرف اتنا کہہ سکا کہ ہاں یار وہ شیعہ تو نہیں ہے مگر آج معلوم ہوا کہ وہ ”انسان“ ہے اب ہمیں مرنے والے، قتل ہونے والے، ذبح ہونے والے، بم سے اڑائے جانے والے کے متعلق یہ جان کر افسوس کرنا ہو گا کہ وہ کس فرقے، کس مسلک اور کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اس میں کہیں نہیں کہا کہ ایک مسلمان، ایک سنی، ایک شیعہ اور کسی بھی مسلک کے انسان کا قتل انسانیت کا قتل ہے۔ میں اگر کسی کے مرنے پر دل میں افسوس، صدمہ یا ملال محسوس کروں تو فوراً دل کو سمجھاﺅں کہ پاگل ہو گیا ہے، میرا کیا واسطہ، وہ مجھ میں سے تو نہیں تھا۔ اب اگر تاریخ کے تناظر میں جائیں تو غالباً یہ رونے ہمیں ورثے میں ملے ہیں جب کربلا کا واقعہ ہو چکا اور حکومت وقت کے اعمال نے فوجوں سے کہا کہ اس معاملے کو جلدی سے نمٹاﺅ کہ عصر کی نماز کا وقت تنگ ہو رہا ہے اور بوڑھوں، جوانوں، بچوں کے گلے کاٹ کر فارغ ہوئے تو جس نبی کے نام سے اذان دے کر نماز شروع کی اور شکر ادا کیا کہ ہم نے اپنے امیر یزید کے دشمن کو ختم کردیا اور بچوں، عورتوں اور ایک بیمار کو اونٹوں کی ننگی پیٹھ پر بیٹھا کر اور رسیوں سے جکڑ کر شام کی طرف سفر شروع کیا جن کے آگے آگے نیزوں پر مرنے والوں کے سر تھے۔ قافلہ روانہ ہوا تو بازار شام میں جہاں جشن کا سماں تھا کہ آج ”باغیوں“ کو گرفتار کرکے لایا جارہا ہے تو ایک نووارد نے جو اس بازار میں مجمع کے ساتھ شامل تھا کہ کسی سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جن کے سر ہیں اور یہ کون خواتین اور بچے ہیں جو بغیر کاجلوں کے اونٹوں پر رسیوں سے بندھے ہوئے ہیں تو اس آدمی نے کہا کہ ان لوگوں نے امیر شام یزید کے خلاف خروج کیا تھا یہ انہی کا قافلہ ہے ابھی رسول کو دنیا سے گئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے ابھی اسلام کو آئے صدیاں نہیں گزری تھیں اور ابھی وہ لوگ موجود تھے جنہوں نے نبی کی محافل میں شرکت کی تھی انہوں نے نبی کی زبان سے اپنی آل اولاد کی فضیلت سنی تھی مگر آج وہ ”خارجی“ بن گئے اور امیر شام یزید امیر المومنین بن گیا۔ سو آج اگر لوگوں کے روئیے بھی اپنے حاکموں کے رویوں کی طرح ہیں تو ان میں ان کا کیا قصور، یہ بات کو آن ریکارڈ آچکی ہے کہ حاکم وقت اپنی رعایا کے جنازوں پر تقریب کے لئے جائے تو بلیک میلروں کی شرط کہتا ہے جب کہ اس کے وزراءکہتے ہیں کہ اس میں کون سی بڑی بات ہو گئی، ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ مرنے والوں کے پس ماندگان سے پوچھو کہ کتنے کتنے پیسے چاہئیں اب انسانی زندگی کا مول اور اس کا نرخ نامہ بھی مرتب کیا جائے گا کہ کس فرقے اور کس مسلک کے مرنے والے کو کتنی رقم خرید کر معاملے کو نبٹایا جائے گا۔
شکر کریں شیعہ کہ ان مردوں کا تو کچھ دل دلیا ہو گیا ہے جب غریب دیگر اقلیتوں کے گنہگاروں کے جنازے بھی آگ کی نذر اور انہیں گنتی یا شمار میں نہیں لایا جاتا بلکہ ان قاتلوں کو ہیرو بنا کر ان کے مزاروں کو مرجع خلائن بنا دیا جاتا ہے ایک گورنر کو محض اس بنیاد پر قتل کرنے والا کہ حکام صوبے نے اس مظلوم لڑکی دادرسی کی بات کی تھی کہ ”رضی اللہ عنہ‘ کے درجے پر پہنچا دیا گیا ایک قاتل کو ایک جج کے قتل پر قومی ہیرو کا درجہ دیدیا گیا ہے مگر کوئی وقت جاتا ہے کہ اپنے مسلک کے علاوہ لوگوں کے قتل مساجد میں مباح قرار دیدیئے جائیں گے اور اب بہتر فرقے ایک دوسرے کو قتل کرکے اپنی اپنی جنتوں میں چلے جائیں گے یا شاید کوئی ہلاکو خان بغداد کی طرح آکر انہیں بغیر پوچھے کہ میاں کس فرقے سے ہو؟ ان کے سروں کے مینار بنا کر انہیں دنیا کے لئے عبرت بنا دے اور تاریخ لکھے کہ
”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں