۔۔۔ جنہیں تصویر بنا آتی ہے 79

خاندانِ غلاماں-2

اس پاکستان کے ساتھ جو کہ مذہب کے نام پر اسرائیل کے بعد دوسرا ملک تھا، حاصل کیا گیا تھا، عجب حادثہ ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بانیءپاکستان کے تصور میں کہیں بھی یہ ایک اسلامی ملک ہو کا تصور نہیں تھا بلکہ پاکستان کی مخالفت سب سے زیادہ مولویوں نے ہی کی تھی جن دیوبند کے علماءپیش پیش تھے اور بڑے بڑے پوسٹرز جن میں درجنوں جید علماءکے نام تھے چسپاں کئے گئے جس کا عنوان تھا ”جناح کافر ہونے کی ساری شرائط پوری کرتا ہے“ اس کے علاوہ ان علماءکا خیال تھا ایک سوٹڈ بوٹڈ انگلینڈ کا پڑھا ہوا وکیل کا مذہب سے کیا واسطہ لہذا علماءدیوبند اور ان کے ماننے والوں نے پاکستان کو دارکفر کا درجہ دے دیا تھا۔ پھر خود جناح صاحب کا نقطہ نظر اس واقعہ سے لگایا جاتا ہے جو محترمہ قراة العین حیدر نے ”کارجہاں دراز ہے“ میں نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ راجہ صاحب محمود آباد نے جنہوں نے تحریک پاکستان کے لئے اپنے مادی انسانی وسائل وقف کردیئے تھے اور اپنی ریاست چھوڑ کر پاکستان آگئے تھے، جناح صاحب سے پوچھا کہ پاکستان میں حکمران کا معیار کیا ہوگا اس پر انہوں نے راجہ صاحب سے کہا کہ آپ بتائیے کیسا ہونا چاہئے، راجہ صاحب نے کہا کہ پاکستان کا حکمران ایک مذہبی پابند صوم و صلوٰة اور دیانت دار شخصیت کو ہونا چاہئے جو عوام کو انصاف اور اس کے جائز حقوق دے سکے۔ اس پر جناح صاحب نے کہا کہ یہ تو آپ نے شیعہ طرز کا حکمران پیش کردیا، پاکستان کا طرز حکومت سیکولر ہو گا۔ یہ سن کر راجہ صاحب کو شدید دھچکا لگا اور ان کے سارے ”سندر سپنے“ ٹوٹ گئے۔
اس سلسلے میں راقم الحروف کو ذاتی طور پر ایک مکالمہ سننے کا اتفاق ہوا جو اس وقت تو سمجھ میں نہیں آیا کیونکہ لڑکپن کا دور تھا مگر ”کارجہاں دراز ہے“ کا واقعہ سفر پڑھ کر سب کچھ سمجھ میں آگیا۔ سکھر میں جہاں ہم لوگ تقسیم کے بعد آکر بسے تھے وہاں مظفر نگر کے ایک انتہائی با اثر سیاسی شخصیت حسن میاں وکیل بھی جو لیاقت علی خاں کے معتمد دوست تھے وہ بھی پاکستان بننے کے بعد سکھر آگئے تھے انہوں نے راجہ صاحب محمود آباد کی دعوت جس کے سلسلے میں راجہ صاحب کے سیکریٹری نے میاں صاحب کو پہلے سے مطلع کردیا تھا کہ کھانے میں چولائی (ساگ کی ایک قسم جو خودرو ہوتا ہے اور غریب غربا کا سالن ہوتا ہے اس کی بھجیا اور بغیر چھنے ہوئے آتے کی روٹی کا بھی اہتمام کیا جائے چنانچہ اس دعوت میں علاقہ کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی مگر راجہ صاحب نے صرف بغیر چھنے آٹا کی روٹی اور چولائی کے ساتھ تناول کی۔ میاں صاحب نے انہیں چیزوں کی طرف متوجہ کیا تو انہوں نے کہا وہ صرف یہی چیز کھاتے ہیں آپ دیگر مہمانوں کی خدمت میں یہ نعمتیں پیش کریں، بہرحال یہ تو درمیان میں ایک بات یاد آگئی، دوسرے دن دوپہر کو راجہ صاحب اور حسن میاں صاحب ایک کمرے میں گفتگو کررہے تھے اس وقت میں اور حسن میاں کے صاحبزادے اور ہمارے دوست مہدی میاں بھی خدمت کے لئے حاضر تھے اس وقت راجہ صاحب کا ایک جملہ کانوں میں پڑا تھا جس کا کئی دہائیوں کے بعد سمجھ میں آیا انہوں نے حسن میاں صاحب سے دوران گفتگو کہا کہ ”میاں ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی“ اس کے بعد راجہ صاحب جو ایک ریاست کے حکمران تھے اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر اور ساری دولت اس پاکستان پر لٹا کر جو ان کے خیال میں ایک مثالی اسلامی ریاست بننے والی تھی کو چھوڑ کر لندن سدھار گئے جہاں ایک کمرے کے فلیٹ میں ساری زندگی گزار دی اور جو کچھ متاع تھا اس سے لندن کا اسلامی مرکز قائم کردیا جو آج بھی ان کی یاد دلاتا ہے۔ لندن میں انتقال ہوا، لندن سے ان کی میت ایران سے خصوصی طیارے سے ایران لے جائی گئی، جہاں وہ مشہد میں امام علی رضاؑ کے روضے کے احاطے میں دفن ہوئے۔
ادھر قائد اعظم نے اپنے پالیسی بیانوں میں کبھی پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کی بات نہیں کی بلکہ اپنی پہلی کابینہ میں جوگندرناتھ منڈل کو وزیر قانون بنانا لہذا آئین کا خاکہ انہوں نے ہی تیار کرنا تھا جب کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کو جو احمدی تھے وزیر خارجہ بنایا تاکہ ساری دنیا تک یہ پیغام پہنچ جائے کہ پاکستان ایک ایسی مملکت ہے جہاں مذہبی رواداری کو سب سے زیادہ اہمیت ہے مگر وہ افراد جنہوں نے اس ملک کو اپنے مفاد کی نظر سے دیکھنا شروع کیا تھا ان لوگوں کو ہضم نہیں کر سکے۔ لیاقت علی خاں کے بعد جنہیں ایک سازش کے تحت قتل کرایا گیا اور قاتلوں کے خاندان کو آج تک سرکاری سرپرستی حاصل ہے یہ عناصر اقتدار پر قابض ہو گئے اور جو اصل حق دار تھے انہیں دودھ میں مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا جس پر سردار عبدالرب نشتر نے لاہور کے جلسہ عام میں کہا کہ
نیرنگئی سیاست دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
ایک فاتر عقل اپاہج غلام محمد کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیا گیا جہاں ایک گوری ان کی غوں غاں کی ترجمانی کرکے احکامات وزراءاور حکام تک پہنچاتی تھی اور پھر اسکرین پر اسکندر مرزا ابھرے جن کی بیگم ناہید اسکندر مرزا کے حسن کے چرچے عام تھا اور اس اسکندر مرزا نے قدرت اللہ شہباب سے ایک دن پوچھا کہ تم زلفی کو جانتے ہو، بڑھا پڑھا لکھا اور ٹیلنٹڈ نوجوان ہے۔ قدرت صاحب نے بتایا کہ وہ ان سے واقف ہیں جس کے ایک دن بعد سوٹڈ بوٹڈ خوبصورت نوجوان ان کے کمرے میں آیا جو اسکندر مرزا ”بلو بوائے“ تھا، ناہید اسکندر مرزا کا اور شہاب صاحب یقیناً بڑے صاحب کی نظر اس نوجوان کی پذیرائی کی ہو گی کہ ایک دن زلفی صاحب جب ان کے کمرے میں آیا تھا کہ سربراہ مملکت اسکندر مرزا سے داخل ہو کر کہا کہ ”زلفی تمہیں اقوام متحدہ کے لئے وفد میں شامل کر لیا گیا ہے اور کہہ کر چلے گئے تو زلفی نے ان کے کمرے میں رقص کے انداز میں دو تین چکر لگائے اس طرح اسلام کے نام پر حاصل کئے ہوئے ملک کے طفیل کے ایک اور حکمران کی انٹری ہو گئی جو بمبئی کی فلمی دنیا میں ایک سندھی وڈیرے کی بگڑی ہوئی اولاد کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ اداکارہ نرگس کے گھر چکر لگاتا تھا اور ”مغل اعظم“ فلم کے سیٹ پر گھنٹوں بیٹھ کر مدھو بالا کو دیکھتا رہتا تھا اور یونٹ والوں کے بقول دسترخوان پ ربھی موجود ہوتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں