اقبال لطیف کا تجزیہ 36

خدانخواستہ

افغانستان ایک مرتب پھر ”طالبانی اسلام“ کا مرکز بننے جارہا ہے۔ یہ وہ مسلمان ہیں جن کا اپنا وضع کردہ عقیدہ ہے اور ان کی اپنی ہی شریعت ہے۔ ماضی میں بھی دنیا اس کا نمونہ دیکھ چکی ہے اور اب ایک بار پھر یہ اسی طرز کہن کی تجدید کرنے جارہے ہیں انہوں نے حال ہی میں جن علاقوں پر ”اسلامی اماراک افغانستان“ قائم کی ہے وہاں ایک بار پھر شریعی قوانین نافذ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ تنہا خاتون خواہ وہ مکمل طور پر برقعہ میں ہی کیوں نہ ہو کسی ٹیکسی میں سفر کرنے کی اہل نہیں ہوگی۔ لڑکیوں کی تعلیم کا معاملہ بھی ان کا اپنا وضع کردہ ہو گا گویا لڑکیوں کی تعلیم ختم، موسیقی تو پہلے ہی حرام ہے اب مزید سختی کہ اگر سرعام موسیقی بجائی گئی تو کوڑے۔ ہاں کوڑوں کی سزائیں بحال ہو گئیں، غیر شادہ شدہ فریقین کو سو سو کوڑے اور شادی شدہ سنگسار۔ چوری کی سزا ہاتھوں کا کاتنا بحال اور بچوں کے اغواءکی سزا موت، ان سزاﺅں پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں ہے کہ اسے شریعت نے نافذ کیا ہے البتہ دیکھنا یہ ہو گا کہ نظام عدل میں واقعی عدل ہے یا نہیں یا محض ذاتی پسند اور نا سپند یا دشمنیوں کے تحت قوانین استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔
اس سے قبل بھی طالبان کے دور میں مشاہدہ کیا گیا کہ لوگوں کو طالبان سے اپنی ذاتی ایجنٹوں اور دشمنیوں میں انتہائی سزائیں دیں جن میں سزائے موت بھی شامل تھیں اس کے علاوہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالبان بھی اعتقادات کے لحاظ سے مختلف خیالات کے حامل ہیں بعض اپنے والے کسی کو مسلمان سمجھنے کے قائل نہیں ہیں اور اس کا مظاہرہ طالبان کے ماضی کے دور میں ہو چکا ہے کہ ہزارہ برادری جو اہل تشیع ہیں کو چن چن کر مارا گیا بلکہ ملا عمر نے مزار شریف کے ایک امیت اللہ کو جہاز میں گولی مار کر ہلاک کیا جن کے ہاتھ پشت سے بندھے ہوئے تھے اس کے علاوہ ”بامیان“ میں گوتم بدھ کے تاریخی مجسموں کو تباہ کردیا گیا۔ ان واقعات کے تناظر میں ایک مرتبہ پھر ان کے برسر اقتدار آنے کے پیش نظر اگر خطے میں خوف و ہراس ہے اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لئے ہجرت کررہے ہیں تو اس میں حیرت نہیں ہونی چاہئے۔
تاہ ترین خبروں کے مطابق بلخ اور مزار شریف پر طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے اور انہوں نے انتظامات سنبھال کر اپنے حکام مقرر کر دیئے ہیں۔ بلخ میں جلال الدین رومی کا شہر ہے جنہوں نے عالم انسانیت کو امن و سلامتی، رواداری، اور محبت کا پیغام دیا ہے جنہیں سینکڑوں سال سے پوری دنیا انتہائی عقیدت سے یاد کرتی ہے۔ دیکھیں کہ اب طالبان بلخ کی روایات کی پاسداری کرتے ہیں یا پھر انتہائی نظریہ حیات لاگو کرتے ہیں کیونکہ اب تک کے تجربے میں ان میں سے ایک بھی ان کے طرزعمل سے ظاہر نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ گزشتہ دنوں جس بھارتی صحافی ضمیر صدیقی کو طالبان نے جاسوس اور ہندوستانی کہہ کر اس کا چہرہ پر بکتر بند گاڑی چلا کر اسے مسخ کردیا تھا اور اس کی لاش کو کئی دن کی نمائش کے بعد ریڈکراس کے حوالے کیا تھا وہ ایک مسلمان بھی تھا اور انسان بھی۔اس کے بعد ان سے کس انسانیت کی توقع کی جا سکتی ہے جیسے جیسے ان کا افغانستان پر قبضہ ہوتا جائے گا ویسے ہی ان کی رویوں میں مزید سختی آئے گی اور پھر لوگ امریکہ کو یاد کریں گے اور جسے کہنے کا موقع ملے گا کہ ہم نہ کہتے تھے کہ طالبان خدا کا قمر ہیں جو تم پر نازل ہوا ہے اگر طالبان واقعی ملک و قوم کے خیرخواہ ہیں تو انہیں ملک میں ایسا نظام قائم کرنا چاہئے کہ ساری دنیا کے لئے مثال بن جائیں اور مسلمان فخر سے کہہ سکیں کہ یہ ہے اسلامی نظام حکومت اور نظام عدل۔
آج ملک میں افلاس اپنے عروج پر ہے، روزگار نام کیکوئی چیز نہیں ہے۔ نظم و نسق تباہ ہو چکا ہے اب اگر بھوکے لوٹ مار نہ کریں تو کیا کریں گے تو آپ ہاتھ کاٹتے رہیں، پورا ملک ”ٹنڈا“ ہو جائے گا۔ آج لوگوں کے سر کاٹتے رہیں تو کیا اس سے انصاف ہو گا کیونکہ کل کو آپ خود بھی قاتلوں کی صف میں ہوں گے۔ جس فحاشی کے نام پر آپ سنگسار کررہے ہیں اور سو سو کوڑے مار رہے ہیں اس کی زد میں تو آپ خود بھی آتے ہیں، آپ میں ہم جنس پرستی تو قومی مزاج بن چکی ہے خود آپ کے راہنما اس علت بد کا شکار ہیں جو کہتے ہیں کہ جو کچھ ان کے ساتھ مدرسوں میں ہوا وہی اب وہ کررہے ہیں۔
افغانستان جو ظاہر شاہ کے دور میں ایک ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ ملک تھا جہاں یونیورسٹیوں کی تعلیم عام تھی، لڑکیاں اور لڑکے ساتھ پڑھتے تھے، وہاں کبھی یہ مسائل پیدا نہیں ہوئے اور نہ ہی اس قسم کی سزائیں نافذ تھیں، ہاں یہ البتہ تھا کہ معمولی جرائم کے قیدیوں کو گڑیوں کی شکل میں پیروں میں زنجیریں ڈال کر بازاروں میں چھوڑ دیا جاتا تھا کہ خود مانگیں اور کھائیں اور رات کو جیلوں میں بند کر دیتے تھے اس کے علاوہ ایک اور سزا یہ تھی کہ کڑے جرم کے مجرم کو گڑھا کھود کر اسے پنڈلیوں تک اس میں کھڑا کرکے اس کو سیمنٹ سے بھر دیتے تھے اور جب سیمنٹ خشک ہو جاتا تھا تو اس کی پنڈلیوں کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی تھیں جس سے لوگوں کو عبرت ہوتی تھی مگر آج کل جو سزائیں دی جارہی ہیں وہ شریعی لحاظ سے سر آنکھوں پر مگر پہلے آپ وہ عوامل تو ختم کریں جن کے باعث جرم کئے جاتے ہیں اور اس پر بھی لوگ ان کا ارتکاب کریں تو یہ سزائیں برحق ہیں۔ افغانستان میں ہونے والے واقعات کے اثرات لازمی طور پر اس کے پڑوس میں بھی پڑیں گے اور اس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر پڑے گا جہاں کے ”طالبان“ اور ان کے مذہبی، سیاسی راہنما اس تاک میں ہیں کہ افغانستان کے بعد اس ”انقلاب“ کو پاکستان میں بھی امپورٹ کریں۔ کیونکہ یہاں طالبان کی نرسریاں ان ہزاروں مدارس میں تیار ہیں جن کو سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی مالی امداد سے ایک مخصوص عقیدت کی ترویج کے لئے قائم کیا گیا تھا گو کہ سعودی عرب نے جو اس عقیدت کی تعلیم و ترویج سے الگ کرلیا ہے مگر پاکستان میں اس کے لگائے ہوئے پودے تناور درخت بن چکے ہیں جن میں تعصب، نفرت اور مذہبی عصبیت کے تلخ پھل آرہے ہیں جو اپنے علاوہ سب کو قابل گردن زدنی قرار دیتے ہیں جو ذاتی مفادات کے تحت لوگوں کو قتل کررہے ہیں، جائیدادوں پر قبضے کررہے ہیں، دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو مسمار کررہے ہیں، وہ اس موقع کی تلاش میں ہیں اور پاکستان میں اقتدار کے بھوکے سیاستدان غیر ملکی آقاﺅں کے اشارے پر یہاں بھی افغانی ماحول پیدا کررہے ہیں تاکہ یہ ملک خود کو ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کہتا ہے، افغانستان کی طرح طلم و ستم اور نفرت کے گرداب میں پھنس جائے۔
پس نوشت: طالبان افغانستان میں فتح مند ہو گئے ہیں فی الحال ان کا رویہ ماضی کے مقابلے میں تبدیل شدہ ہے اب یہ دیکھنا یہ ہے کہ اقتدار کے حصول کے بعد ان کا طرز عمل کیا ہوگا اگر وہ ماضی سے سبق حاصل کرکے ایک صحیح اسلامی معاشرہ تشکیل دیتے ہیں تو ایران کے بعد وہ ایک مثالی ملک بن کر دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں اور اگر مذہبی تنگ نظری اور خود کے وضع کردے غیر انسانی روئیے پر عمل درآمد کرتے ہیں تو انجام پھ رایک نہ ختم ہونے والی خونریزی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں