۔۔۔ بڑی غلطی ہو گئی (قند مکرّر) 84

داخلی / خارجی محاذ

پاکستان میں آج جو کچھ ہو رہا ہے اور مفاد پرست جس طرح سے ایک جگہ جمع ہو کر جہلا کو بھیڑ اور برکیوں کی طرح ہانک رہے ہیں انہیں دیکھ کر ایک تحریر سامنے آ جاتی ہے کہ کس طرح جاہل قوم کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو ”انعام“ ملتا ہے۔ محمد کریم مصر پر حکمران تھا کہ فرانس کے بادشاہ نیپولین نے مصر پر حملہ کردیا، محمد کریم اپنے ملک کے لئے جس قدر لڑ سکتا تھا لڑا مگر بدقسمتی سے اسے شکست ہوئی، مصر پر نیپولین کا قبضہ ہو گیا، محمد کریم کو زنجیروں میں جکڑ کر نیپولین کے سامنے پیش کیا گیا تو نیپولین نے کہا کہ تم نے میرے بہت سے فوجیوں کو مارا ہے تاہم جس دلیری اور جانبازی سے تم نے ملک بچانے کے لئے جدوجہد کی ہے میں اس کی قدر کرتا ہوں اور میں تمہیں ایک موقعہ اور دینا چاہتا ہوں کہ تم نے میرے جتنے فوجی مارے ہیں ان کا فدیہ ادا کردو۔ فرانس کے فوجی محمد کریم کو زنجیروں میں جکڑ کر مصر کے بڑے بڑے تاجروں کے پاس لے گئے جن کے متعلق محمد کریم سمجھتا تھا کہ میں نے ان کے لئے جو کچھ کیا ہے اس کے بدلے میں وہ میری مدد کریں گے کیونکہ میں ملک بچانے کے لئے جنگ لڑی ہے مگر سارے مصری تاجروں نے اپنے منہ پھیر لئے اور فدیہ کی رقم دینے سے انکار کردیا۔ شام کو محمد کریم کو نیپولین کے سامنے پیش کیا گیا تو اس کا سر شرم سے جھکا ہوا تھا۔ نیپولین نے کہا کہ میں اس لئے سزائے موت نہیں دوں گا کہ تم نے میرے بے شمار فوجی مارے بلکہ تمہیں سزائے موت اسی لئے دوں گا کہ ”تم ایک جاہل اور احسان فراموش قوم کے لئے لڑتے رہے“۔
آج عمران خان کو دیکھ کر مصر کا عبدالکریم سامنے آجاتا ہے۔ عمران خان بھی ا یک جاہل قوم کے لئے لڑ رہا ہے، ایک ایسی قوم کے لئے جس کے نزدیک قوم کا سارا پیسہ چوری کر لینا اور 35 سال حکومت ملنے کے باوجود قوم کو غریب سے غریب تر بنا دینا کوئی جرم نہیں۔ آج بھی ”میاں دے نعرے“ اور ”زرداری سب پہ بھاری“ کے فلک شگاف نعرے لگانے والوں کی کمی نہیں ہے اور دس سال تک کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رہنے والا فضل الرحمن کشمیر کے نام پر اپنا نام نہاد آزادی مارچ شروع کرے گا۔
کیا عوام واقعی اتنے جاہل ہیں کہ جو اسلام کو اسلام آباد کے لئے استعمال کرنے والا وہاں پہنچ کر قومی مجرموں کا ساتھی بن جاتا ہے اور ان کے ایجنڈے کا ساتھ دیتا ہے۔ اب ایجنڈا آہستہ آہستہ سامنے آرہا ہے جن عناصر نے پاکستان بنانے کی مخالفت کی تھی اس کے بعد ان کی اولادوں نے اپنے بزرگوں کے مشن کو آگے بڑھانے کا کام شروع کردیا ہے اور مخالف قوتوں نے نہ صرف ان کی سازشوں کو کامیاب بنانے کے لئے ظاہری طور پر حمایت کی بلکہ درپردہ انہیں مالی وسائل بھی فراہم کئے۔ آج اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ کس طرح پاکستان کے وجود کو خاکم بدہن ختم کرنے کی تحریکیں شروع ہوئیں اور ان میں پاکستان پر حکمرانی کرنے والے شامل رہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کو دولخت کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر نے پاکستان اور ہندوستان کی کنفیڈریشن کے بارے میں اپنا وژن پیش کیا جسے پاکستان کے مخالفین نہ صرف سراہا بلکہ اس پر کام بھی کیا۔ بے نظیر نے دونوں ممالک کی مشترکہ کرنسی، تجارت اور کنفیڈریشن بنانے کی بات کی۔ بظاہر اس وقت یہ بات عجیب لگتی تھی لیکن بعدازاں نواز شریف بھی اس راستہ پر چل پڑا۔
نواز شریف نے کشمیر پر تھرڈ آپشن اور شہباز شریف نے دونوں پنجابوں کے درمیان تجارت کی بات کی اور مشرقی پنجاب کا دورہ بھی کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے خیال میں بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات، آبادی کے ٹائم بم اور زبوں حال معیشت کے بعد پاکستان کے پاس کوئی راستہ باقی نہیں بچتا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ کنفیڈریشن بنالیں اسی کے ساتھ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ (دونوں بھائی) کہ کشمیر کو بزور طاقت ہم حاصل نہیں کر سکتے بلکہ ایک طرح ہم کشمیر کو سرینڈر کرچکے ہیں لہذا زرخرید ٹی وی اینکر کے ذریعے غلط پروپیگنڈا کراکر قوم کو مزید بے وقوف بنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کنفیڈریشن بنالیں تو ترقی یافتہ ملکوں کے برابر پہنچ سکتے ہیں اور اس طرح ملک سے انتہا پسندی بھی ختم ہو جائے گی۔ ان کے بڑوں نے بھی یہ تصور دیا تھا کہ ”جناح نے پاکستان صرف معاشی وجوہات کی بنیاد پر بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں ہی ملک کو مذہب کے بجائے سیکولر اسٹیٹ قرار دیدیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تقسیم کے ساتھ ہی دو قومی نظریہ ختم ہو گیا لہذا ایک مزہبی پاکستان کا علیحدہ کوئی جواز نہیں ہے“۔
اس سوچ کو اگر ایک طرف وہ سیاستدان آگے بڑھا رہے ہیں جن کا مقصد مالی مفادات حاصل کرنا اور اقتدار کو روٹی بنانا ہے جس کی دو مثالیں سب کے سامنے ہیں کہ جنہوں نے اپنے بعد اپنی اولادوں کو اقتدار میں لانا اور اپنے جیسے ہی سیاستدانوں کے ساتھ اشتراک عمل کرکے خود کو کسی بھی احتساب سے بچنا ہو اور جب ان جیسے دوسرے اقتدار میں آجائیں تو انہیں بھی یہی سہولتیں فراہم کرنا ہے گویا نہ تو میری پول کھول اور نہ میں تیری۔ اس کے علاوہ ایک نیا طبقہ جو ابھرا ہے یہ وہ نام نہاد مذہبی عالم اور سیاستدان ہیں جو حصول دنیا کے لئے مذہب کو استعمال کرتے ہیں یہ سب سے زیادہ خطرناک فتنہ ہے جو جاہل عوام کو مذہب کے نام پر استعمال کرتا ہے۔ یہ بیشتر وہ عناصر ہیں جس کا اباﺅاجداد پاکستان کے وجود میں لانے کے ہی مخالف تھے اور جو قائد اعظم کو کافر اعظم کے خطاب سے ”نوازتے“ تھے اور جو بھی پاکستان کی حمایت کرے انہیں بشارت دیتے تھے کہ ان کی بیویاں ان کے نکاح سے نکل گئیں اور پھر جب پاکستان بن گیا تو یہ گرگٹ رنگ بدل کر یہاں کافر بنانے کی فیکٹریاں لگانے لگے اور ملک میں فرقہ پرستی کا بیج بویا تاکہ ان کا اپنا حلوہ مانڈہ چلتا رہے اس کے بعد انہیں پاکستان مخالف قوتوں نے اپنے لئے استعمال کرنا شروع کردیا اور ان پر سرمایہ کاری شروع کردی اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ہے۔ بعض مسلمان ممالک اور ہندوستان ان پر دولت صرف کرکے ملک میں افراتفری پھیلا رہے ہیں جس کی مثال ملک میں دوسرے عقائد رکھنے والوں کو قتل، انہیں توہین رسالت کے جھوٹے الزامات کے ذریعہ ہراساں کرنا شامل ہے اور ان مذہبی دہشت گردوں نے بھی ہندو شدت پسندوں کی طرح اپنے بظاہر لاٹھی بردار اور درحقیقت تربیت یافتہ مسلح افراد تیار کرلئے ہیں جنہیں اب وہ فوج سے لڑانے اور جیلیں توڑنے کے لئے بھی استعمال سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس بات سے ہمارے دشمن جس قدر خوش ہیں اس کا اندازہ ہندوستان کے میڈیا سے لگایا جا سکتا ہے جو اب کھلم کھلا کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں مخالف جماعتوں اور خصوصاً مذہبی شدت پسندوں کو بھاری رقومات دے کر انہیں حکومت اور خصوصی طور پر پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا جارہا ہے اور بدقسمتی سے کچھ مسلمان ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ مل کر ہندوستان کے اس ایجنڈے کو کامیاب بنانے میں معاونت کررہے ہیں۔ ان سب کارروائیوں کے پس پشت ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان کو کسی بھی حالت میں خودکفالت کی طرف نہ جانے دیں۔ ملک میں واحد منظم ادارے فوج کو کمزور سے کمزور تر کردیں۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ختم کردیں اور ملک کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کو روک دیں اور ”سی پیک“ منصوبوں کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ اس ملک کو بھی ایک ایسا طفیلی ملک بنا دیں جو ہندوستان کا دست نگر ہو کر اس کی ایک کالونی بن جائے اور اس گندی سازش کو ملک کے اندر کے دشمن ان کے دست راس ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں