غلامی کی طرف 153

دیدئہ عبرت نگاہ

بنگلہ دیش اپنی 50 ویں سالگرہ یعنی پاکستان سے علیحدگی کے بعد نصف صدی مکمل ہونے پر جشن منانے کی تیاری کررہا ہے اس سلسلے میں بنگلہ دیش نے ایک اشتہار شائع کی اہے جس پاکستان کے ساتھ ایک تقالی جائزہ پیش کیا گیا ہے جسے ہمارا ”جمہوری پسند طبقہ“ بغلیں بجا بجا کر پاکستان کا ”لو لو“ پیٹ رہا ہے ان میں پیش پیش وہ عناصر ہیں جو ہر بات میں پاکستان کی تذلیل کرنے کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اس اشتہار میں کہا گیا ہے۔
گولڈن جوبلی آف بنگلہ دیش۔ بنگلہ دیش نے پاکستان کو ہر لحاظ سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
بنگلہ دیش————————————————- پاکستان
فی کس آمدنی 2064 ڈالر————————— 1130 ڈالر
آمدنی ۔ دوران کرونا 5.2—————————– 0.4
اوسط عمر 72 سال————————————- 67 سال
سال سے کم بچوں کی موت 25 فی ہزار——— 59 فی ہزار
پرائمری تعلیم 98 فیصد—————————– 72 فیصد
اس تقابلی جائزے سے اندازہ لگای اجا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش نے ہر میدان میں ترقی کی ہے اور پاکستان ہر میدان میں اس سے کم تر رہا ہے۔ یہ بات ان جمہوریت پسند طبقے کے لئے پاکستان کے وجود کو غیر فطری قرار دینے کا جواز مل جاتا ہے اور ان میں پیش پیش وہ افراد ہیں جو آج بھی پاکستان کے ہر اس ملک، فرد اور نظریہ کو سلام کرتے ہیں جو پاکستان
کہ وہ افراد ہیں جو خود کو جمہوریت کے علمبردار کہلاتے ہیں، سیکولر ازم ان کا ایمان ہے اور ہر مذہبی روایت اور اقدار ان کے نزدیک جہالت ہے اب ذرا بنگلہ دیش کی تخلیق کا جائزہ لیں تو مغربی پاکستان کی بیوروکریسی اور فوج نے کبھی بھی مشرقی پاکستان کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھا اور اسے ایک کالونی کا درجہ دیا ان میں مغربی پاکستان کے وہ سیاست دان بھی شامل تھے جو خود کو پورے ملک کا وارث و مالک سمجھتے تھے اور یہ رویہ قائد اعظم اور لیاقت علی خاں کے انتقال کے فوری بعد شروع ہو گیا تھا چنانچہ مرکزی وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل جنہیں قائد اعظم نے مقرر کیا تھا دلبرداشتہ ہو کر وزارت چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے تھے یہی نہیں بلکہ کابینہ کے اجلاسوں میں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے وزراءکی رائے کی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی اور بعض اجلاسوں میں انہیں شریک بھی نہیں کیا جاتا ہے اس کے بعد جب ملک میں فوجی حکومتیں قائم ہونی شروع ہوئیں تو اس خطہ وطن کو بالکل ایک مقبوضہ علاقے کی طرح تصور کیا جانے لگا جب کہ مشرقی پاکستان کا مزاج اس کی سیاسی بالغ نظری کے باعث خالص جمہوری تھا اور اس کی مثال یہ بھی ہے کہ پاکستان کے قیام کے لئے سب سے پہلی قرار داد مولوی فضل الحق نے ہی پیش کی جن پر اسی پاکستان نے غداری کا الزام لگایا گیا بلکہ حسین شہید سہروردی، مولانا بھاشانی بھی اسی غداری کے لقب سے سرفراز کئے گئے مگر ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان کے رہنماﺅں نے ابھی تک اسے علیحدہ کرنے کی بات نہیں کی تھی حتیٰ کہ شیخ مجیب الرحمن جن پر بغاوت کیس بنایا گیا اور چھ نکات پیش کرنے پر گرفتار کیا گیا نے بھی کبھی آزاد بنگلہ دیش کا نعرہ نہیں لگایا بلکہ جب انہیں رہا کیا گیا اور وہ مغربی پاکستان آئے تو میں نے ان سے شکارپور کے علاقے سلطان کوٹ میں آغا غلام نبی کی رہائش گاہ پر ایک انٹرویو کیا جس میں، میں نے پوچھا کہ ”آپ پر الزام ہے کہ آپ مشرقی پاکستان کو بھارت سے مل کر بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں“ تو انہوں نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میرے سر پر سات قرآن رکھ دو میں ان کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی ایسا نہیں کہا بلکہ یہ تمہارے لیڈر ہیں جو ہمیں مجبور کررہے ہیں، ہم کیوں الگ ہوں گے آج تک کوئی اکثریت اقلیت سے الگ ہوئی ہے؟ مشرقی پاکستان 56 فیصد اور مغربی پاکستان 44 فیصد آبادی تھا اور بعد میں کیا ہوا کہ جب پاکستان کے غالباً پہلے صاف شفاف انتخابات ہوئے اس میں پورے مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی پارٹی نے ایک کے علاوہ ساری نشستوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی نے اکثریت حاصل کی مگر اس نام نہاد جمہوریت پسند پارٹی کے بانی راہنما نے مشرقی پاکستان کی اکثریت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اس دوران جرنل یحییٰ خان کے ساتھ مل کر وہ گھناﺅنا کھیل شروع کردیا جسے اس نے اپنے اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا اور یحییٰ خان سے لاڑکانہ میں الذوالفقار میں ”انڈر دی مینگو ٹری“ کے عنوان سے ایک ملاقات کو جنم دیا جس میں وہ جنرل یحییٰ کے ساتھ آم کے درخت کے نیچے ملاقات کررہا ہے اس جمہوریت پسند نے نہ صرف مشرقی پاکستان کی اکثریت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ ڈھاکہ میں آئین کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں مغربی پاکستان کے منتخب اراکین اسمبلی کو شرکت کرنے سے روک دیا اور کہا کہ اگر وہ وہاں گئے تو ان کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ اس طرح اس غدار وطن نے ملک کو دو ٹکڑے کرنے کی بنیاد رکھ دی جو اس کی زندگی کا مقصد تھا اس کی ابتداءاس نے 65ءکی جنگ کے بعد تاشقند میں صدر ایوب اور لال بہادر شاستری کے درمیان ہونے والے ملاقات کے دوران ہی رکھ دی تھی وہ اس ملک کا وزیر خارجہ تھا اور اپنے ہی صدر کے خلاف باتیں کرتا رہتا تھا اس کی ایک مثال یہ تھی کہ جب تاشقند میں لال بہادر شاستری کا انتقال ہوا تو اسے وفد کے ایک رکن نے ٹیلی فون کیا کہ ”باسٹرڈ مر گیا“ جو جواب میں اس نے کہا کہ کون سا؟ یعنی شاستری یا ایوب خان۔ یہ تھی اس کی اس شخص کے بارے میں اس کے خیالات تھے۔ وہ ”ڈیڈی“ کہتا تھا اس کے بعد اس نے معاہدہ تاشقند کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرکے ملک میں انتشار پھیلایا وہ آج تک جاری ہے اور اس طرح مشرقی پاکستان میں جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ میں پولینڈ کی قرار داد جسے روس سمیت اکثریت کی حمایت حاصل تھی کو اس غاصب نے پھاڑ کر ملک کی 56 فیصد آبادی کو علیحدہ کردیا اور اس سے بھارت کو وہاں فوجی مداخلت کا جواز مل گیا اس غدار بھٹو نے جلسہ عام میں مشرقی پاکستان کے عوام کو ”الو کے پٹھے“ اور ”غدار“ جیسے الفاظ سے مخاطب کیا یہ سب کچھ اس نے محض اپنے ذاتی اقتدار کے حصول کے لئے کیا اور بعد میں اسے مجیب الرحمن کو بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کی حیثیت سے استقبال کیا۔
یہ ہے کہانی ایک ملک کو دولخت کرنے والے کی جسے آج اس کے حامی اور جمہوریت کے چیمپئن اس کی بیٹی بے نظیر بابائے جمہوریت کہہ کر یاد کرتے ہیں مگر اس کا یہ مکروہ چہرہ اور کردار تاریخ کا حصہ ہے اگر کبھی حمود الرحمن رپورٹ شائع ہوئی تو اس کا کردار سب کے سامنے آجائے گا اور اس کا خاندان (اب وہ رہا ہی کہاں ہے ایک زنخا نواسہ خود کو بھٹو کھلواتا ہے) کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا مگر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے والوں کا عبرتناک انجام سب کے سامنے ہے۔ (مجیب الرحمن پورے خاندان سمیت قتل، اندرا گاندھی قتل، بھٹو پھانسی پر چڑھا، یحییٰ خان راندہ درگاہ)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں