Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 162

زوال کا سفر

جب تک انسان کا ایک دوسرے سے سماجی رابطہ نہیں تھا کیونکہ شعور کی اس منزل تک نہیں پہنچا تھا جہاں احساس جاگتے ہیں۔ اس کی زندگی جنگل کے جانوروں سے مختلف نہیں تھا، لباس تو دور کی بات ہے ابھی تک پتوں سے تن ڈھانپنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ جانور جو ہاتھ آسکتے تھے ان کا شکار کرکے کچا ہی کھا جاتا تھا۔ اپنا ٹھکانہ ایسی جگہ بناتا تھا جہاں چھوٹی پہاڑیاں ہوں تاکہ غاروں کے اندر رہ سکے اور قریب میں پانی بھی ہو۔ اتنا شعور تو ہر جانور کے پاس تھا لیکن ایک دوسرے سے رابطے کے لئے انسانی حس سوئی ہوئی تھی۔ حلق سے مختلف آوازیں نکال کر غصے کا اظہار کرنا یا دوسرے انسان کو یا کسی جانور کو ڈرانے کے لئے آوازیں نکالنا بس اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
اجتماعی اور سماجی خوشی محسوس کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا ہر شخص اپنی ذات میں تنہا تھا۔ کوئی شخص زخمی ہو جاتا یا بیمار ہو جاتا تو دوسرے لوگ اسے دیکھتے تو تھے لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کیا جائے لہذا وہ اسے بے یارومددگار تڑپتا چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے، ایک صرف بندر تھا جو انسان کے حلئے اور کچھ حرکات میں ان سے ملتا جلتا تھا لیکن عقل میں پھر بھی انسان سے بہتر ہی ہو گا شاید یہی سب جان کر ڈارون نے نظریہ ارتقاءپیش کیا کہ انسان پہلے بندر تھا اور بندر سے ہی انسان بنا تھا تو باقی جو بندر بچ گئے اور ان کی نسلیں چلی آرہی ہیں ان میں سے انسان کیوں نہیں بنے یا اس زمانے میں ڈارون سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ پھر بندر کس سے بنا تھا؟ کیوں کہ پھر سوالات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا۔ بہرحال ڈارون کے اس نظریے کو موجودہ دور میں باطل قرار دے دیا گیا ہے اور اسکول و کالج کے نصاب سے اسے خارج کردیا گیا ہے کیوں کہ ماہرین اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ انسان اپنی اصل شکل و صورت میں ہی دنیا میں آیا تھا یعنی بات وہیں جا کر ختم ہوتی ہے یعنی حضرت آدم علیہ السلام پر اور حضرت آدم علیہ السلام کی نسل کو زمین پر رہ کر یہ ثبوت دیتا تھا کہ وہ سب ایک آدم کی اولاد ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا تھا، ایک ہی آدم کی اولاد رہنے سے ہی اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے اور اس کے احکامات کی پیروی کرنا تھی لیکن بدقسمتی سے انسان ایک ہی آدم کی اولاد نہیں رہا بلکہ مختلف ٹکڑوں اور جماعتوں میں بٹ گیا ہے تو جب انسان ایک مکمل جنگلی جانور کی زندگی گزار رہا تھا کسی کو ایک دوسرے سے کوئی غرض نہیں تھی اور نا ہی ہمدردی تھی، دوسرے کا شکار یعنی اس کا کھانا چھین کر بھاگ جاتا تھا۔ چھینا جھپٹی کے لئے خطرناک لڑائی لڑتا تھا اور زیادہ تر کمزور سے اس کا کھانا آسانی سی چھین لیتا تھا۔ غرض تمام حرکات وہ تھیں جو اس نے جانوروں کے درمیان رہ کر سیکھی تھیں۔ ہر انسان صرف اپنی ذات تک محدود تھا اگر کوئی چھوٹا سا بھی جانور کسی انسان پر حملہ کر دیتا تو کوئی مدد کو نہیں آتا تھا اور وہ تن و تنہا اس جانور کا مقابلہ کرتا تھا۔
اس زمانے کا انسان تہذیب اور پرامن معاشرے کی تشکیل سے ناواقف تھا اور یہ دور بہت طویل صدیوں در صدیوں تک رہا ہے پھر نا جانے کیسے انسان کو انسان کی ضرورت انسانیت کے ناطے محسوس ہوئی شاید کوئی انسان جو زخمی حالت یا بیماری میں پڑا ہو گا اس کے دل میں خواہش جاگتی ہو گی کہ کاش کوئی اس کی مدد کرے۔ کاش کوئی اسے اٹھا کر محفوظ مقام پر لے جائے، پھر کسی طرح وہ شخص بچ گیا ہو لیکن اس کے دل میں مدد کی چنگاری جل چکی ہو، کبھی اس نے کسی اور کو بعد میں اسی حالت میں دیکھا ہو اور بے اختیار اس کی مدد کو بڑھ گیا ہو اور یہ دیکھ کر دوسرے لوگوں نے بھی اس کی تقلید کی ہو اور پھر ان کو ایک دوسرے کی مدد کرنے میں فائدہ نظر آیا اور اسے خیال آیا کہ وہ بہت سارے اکیلے نہیں کر سکتا اور اسے دوسرے انسان کی مدد کی ضرورت ہے یعنی اس کی انسانی حس آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگی اور وہ شعور کی منزل کی طرف بڑھنے لگا۔ پہلے وہ جانوروں کا شکار صرف لکڑی اور ڈنڈوں سے کرتا تھا پھر جب اسے جانوروں کے شکار کے لئے ہتھیار بنانے کا خیال آیا، دھوپ اور بارش سے بچنے کے لئے چھپر بنانے کا خیال آیا اور جب بہت سارے انسانوں کو ایک گروپ بنا اور مل جل کر کام کرنے لگا تو ایک معاشرہ وجود میں آیا۔ آہستہ آہستہ جہاں جہاں انسان موجود تھے وہ گروپ کی شکل میں آنے لگے تمام علاقوں
میں اپنے اپنے وسائل، زبان، مزاج اور آب و ہوا کے مطابق گروپ بننے لگے اور پھر تیزی سے شعور کی طرف آتے ہوئے ایک دوسرے کے علاقوں اور وسائل پر قبضی کے لئے جنگ و جدل کرنے لگے۔ مکمل تہذیب و تمدن کی منزل ابھی بہت دور تھی لیکن حالات نے کسی حد تک بہتر کر دیا تھا۔ وحشی پن اور جنون موجود تھا۔ طاقتور کی حکمرانی ہمیشہ رہی۔ وہ انسان جو کروڑوں اربوں سال جانور کی زندگی گزارتا رہا جب انسانیت کی طرف آیا تو صرف چند سو سالوں میں ہی تہذیب و ترقی کی طرف ایسے بڑھا کہ پوری دنیا ہی بدل ڈالی۔ شہروں اور ملکوں نے جنم لیا، اصول و قوانین وضع کئے گئے۔ رشتوں نے جنم لیا، رشتوں کا احساس ان کی قدر پیدا ہوئی۔ بچوں پر رحم، غریب کمزور نادار کی مدد اور بزرگوں کا احترام، ذمہ داریوں کا احساس اور امن و انسانیت کے ساتھ خوبصورت معاشرے کی تشکیل اور انسان بہتر زندگی گزارنے لگا پھر انسان کی ذہنی کیفیت بدلنے لگی اور اس نے واپسی کا سفر کردیا۔ عروج سے زوال کی طرف آنے لگا۔ ایک پرامن اور خوبصورت معاشرہ وہ کہلاتا تھا جہاں انسان ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے ان کے خیالات اور حالات یکساں تھے ایک دوسرے کے دکھ درد خوشی غم میں ساتھ ساتھ تھے۔ انسان ایک دوسرے کے قریب اس حد تک آچکا تھا کہ مختلف زبان مختلف قبیلے اور مختلف علاقوں کے لوگ ایک ساتھ رہتے تھے، کوئی تفریق نہیں تھی پھر سب کچھ بدل گیا۔ علاقائی، طبقاتی اور سب سے بڑھ کر ذہنی تقسیم انسان اسی دور کی طرف قدم بڑھا رہا تھا جو غیر تہذیب یافتہ تھا۔ وہ دوبارہ وحشت کی طرف گامزن رہے، پہلے انسان صرف اپنی ذات کے لئے زندہ تھا۔
آج کا انسان بھی خود غرض ہے اور صرف اپنی ذات کے لئے زندہ رہنا چاہتا ہے۔ اس دور جہالت میں رشتوں کا کوئی احساس کوئی قدر نہیں تھی۔ آج انسان پھر رشتوں کو کھوتا جا رہا ہے اسے اپنے خونی رشتوں کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ جائیداد یا صرف انا کے لئے بہن بھائی سب کو بھول جاتا ہے۔ پہلے انسان اپنے کھانے میں کسی کا حصہ قبول نہیں کرتا تھا آج پھر وہی صورت حال ہے، پہلے انسان دوسرے کا نوالہ چھیننے کے لئے اسے جان سے مار دیتا تھا، آج لوٹ مار میں گلا کاٹ دیتا ہے، غرض ہر وہ کام ہو رہا ہے جو دور جہالت میں تھا۔ صرف طریقہ کار تبدیل ہو گیا ہے، اب انسانوں کی آنکھوں میں دوسرے کے لئے نفرت دوسرے سے آگے بڑھنے کا مقابلہ اور نیچا گرانے کی جدوجہد اور اس کے لئے رشتوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ رشتوں کو جوڑنے میں کئی صدیاں گزر گئیں لیکن ٹوٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور نا لگتا ہے۔ توڑنا آسان ہے پر جوڑنا مشکل ہے۔ رشتے ٹوٹنے کی جو وجوہات ہوتی ہیں اگر ان پر غور کیا جائے اور ان سے بچا جائے تو پھر سے ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ رشتے ٹوٹنے کا سب سے بڑا سبب حسد، جلن، اپنے کسی رشتے دار، دوست، محلے دار یہاں تک کے بہن بھائی کو اچھے حالات میں دیکھ کر حسد کا شکار ہو جانا اور اس طرح کی حرکات کرنا کہ نقصان پہنچے۔ دوسری بڑی چیز غلط فہمی ہے اگر دلوں میں پہلے سے کدورت ہو تو ذرا سی غلط فہمی جدائیوں کا سبب بن جاتی ہے، کسی بھی غلط بات پر یقین کر لیا، تحقیق کرنے یا اسے سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، یقین کرکے اور فیصلہ بھی کر لیا۔ یہی کچھ دوریوں، لڑائی جھگڑے اور ایک دوسرے کی شکل نا دیکھنے کا سبب بنتا ہے۔ عفو، درگزر، اخلاص، قربانی یہ تمام چیزیں ناپید ہیں۔ انسان دوبارہ اپنی گزری ہوئی کھوئی ہوئی منزل کی طرف رواں دواں ہے اگر یہی حال رہا تھا اپنا پرانا مقام حاصل کرنے میں زیادہ عرصہ نہیں لگے گا۔ پھر ہو سکتا ہے تہذیب دوبارہ جنم لے لیکن نہیں کہا جا سکتا کہ کتنا عرصے لگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں