329

سپریم کورٹ: اسحٰق ڈار کی سینیٹ انتخاب میں کامیابی چیلنج

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سابق وزیر خزانہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحٰق ڈار کی سینیٹ انتخاب میں کامیابی کو چیلنج کردیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے امیدوار نوازش پیرزادہ کی جانب سے مفرور اسحٰق ڈار کی نااہلی سے متعلق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔
نوازش پیرزادہ کی جانب سے عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ اسحٰق ڈار کو سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرے۔
خیال رہے کہ 17 فروری کو لاہور ہائی کورٹ کے اپیلیٹ الیکشن ٹریبونل نے سابق وزیر خزانہ کے خلاف ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اسحٰق ڈار کو سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔
بعد ازاں 3 مارچ کو سینیٹ انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اسحٰق ڈار کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ مفرور قرار دیا گیا شخص انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس کی سماعت میں مسلسل غیر حاضری پر سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو مفرور قرار دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 20 اپریل 2017 کو سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کے خاندان اور اسحٰق ڈار کے خلاف تحقیقات کے لیے 6 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) بنائی تھی، جس نے 10 جولائی کو ٹیم نے تحقیقاتی رپورٹ پیش کی تھی جبکہ 28 جولائی کو عدالت نے اپنے فیصلے میں نیب کو ان تمام افراد کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ پہلے ہی یہ بات واضح کرچکی ہے کہ قانون سے بھاگنے پر ان کے وہ حقوق بھی ضائع ہورہے ہیں جو ان کی ذاتی حیثیت اور باضابطہ قوانین کے تحت انہیں دیے جاتے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ اس وضاحت کو دیکھتے ہوئے بھی سینیٹ انتخابات میں پنجاب کی ٹیکنوکریٹ سیٹ سے اسحٰق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوسکتے ہیں اور ان کا انتخاب میں حصہ میں لینے کا فیصلہ بھی معطل قرار دیا جاسکتا ہے۔
اس سے قبل میں مفرور قرار دیے جانے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے اسحٰق ڈار کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں