شام سے پہلے آنا.... ٹیلی وژن اور فلم کے گیت نگار--- مُحمد نَاصِر 69

شام سے پہلے آنا…. ٹیلی وژن اور فلم کے گیت نگار— مُحمد نَاصِر

٭….شاہد لطیف کے قلم سے

یہ شام اور تیرا نام دونوں کتنے ملتے جلتے ہیں
تیر ا نام نہیں لوں گا بس تجھ کو شام کہوں گا
شام سے پہلے آنا دھوپ ساری ڈھل چکی ہو
پھول سارے کھل چکے ہوں موسم سارے لے آنا
ہوا ہو ا اے ہوا خوشبو لُٹا دے
کہاں کھلی ہا ں کھلی زلف بتا دے
کہہ دینا آنکھوں سے سمجھ لینا سانسوں سے
کوئی تو رہتا ہے سانسوں میں
پاس آ کر کوئی دیکھے تو پتہ لگتا ہے
دور سے ذخم تو ہر دل کا بھر ا لگتا ہے
میں نے تمہاری گھاگر سے کبھی پانی پیا تھا
پیاسا تھا میں یاد کرو
تم میری آنکھیں ہو میں خواب جیسا ہوں
کبھی اپنے جیسا ہو ں کبھی تیرے جیسا ہوں

یہ مشہور اور مقبول گیت لکھنے والے محمد ناصر ہیں۔آج تک اِس بھید کا علم نہ ہو سکا کہ ہم پاکستانی ایک بیدار قُوم کی حیثےت سے کسی جیتے جاگتے ، چلتے پھرتے شخص کے بارے میں نہ لکھنا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی پڑھنا۔ اِدھر کوئی گزرا نہیں اور اُدھر اُس کی ےاد میں ریفرنس شروع ہوا نہیں۔پرنٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ ایک دو روز، گزرنے والے کی عظمت کے وہ وہ گُن گاتے ہیں کہ ….اُس کے بعد؟ اُس کے بعد آپ جانتے ہی ہیں…. راقِم کو کئی ایک نامور شخصےات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اُن میں سے کچھ دارِ فانی سے کوچ کر گئیں اور کچھ بفضلِ خدا ابھی بقےدِ حےات ہیں۔ 70 19کی آخری دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن نے گلوکار عالمگیر کو گھر گھر پہنچایا۔ اس مشہوری میںاس کی اپنی محنت، قسمت، اچھی دھنیں اور دلوں کے تار چھو لینے والے عام فہم گیت بھی کم اہم نہیں۔ ان میں زیادہ تر نغمات محمد ناصر کے لکھے ہوئے ہیں۔
محمد ناصر سے پہلی ملاقات:
میں نے اکتوبر 1980کے اواخر میں پاکستان ٹیلیوژن کراچی مرکز کے شعبہ پروگرام میں جب ذمہ داریاں سنبھالیں تو اول اول مجھے موسیقی کے پروگرام دیئے گئے جن میں ”ترنگ“، ”امنگ “ ، ”سرسنگم“ اور ” آواز و انداز “ وغیرہ شامل ہیں۔ مجھ کو اُس وقت کے اسکرپٹ ایڈیٹر مُدبر رِضوی صاحب نے شاعر محمد ناصر سے رابطہ کرنے کو کہا ۔ موصوف سے پہلی ملاقات کا احوال بھی دلچسپ ہے۔ ان کے گھر کی اطلاعی گھنٹی پر ایک دبلے سے صاحب برآمد ہوئے۔ جب ان سے محمد ناصر کے بارے میں پوچھا تو کہا کہ وہی محمد ناصر ہیں۔ بےساختہ خاکسار کے مونہہ سے نکلا : ” حیرت ہے!! “۔ انہوں نے پوچھا ” کس بات کی حیرت؟ “ ۔ تب تو کہنا پڑا : ” آپ تو شاعر ہی نہیں لگتے ‘ ‘۔وہ بہت ہنسے۔ در اصل ان کی آواز میں ویسے ہی کھرج ہے اور فون پر کچھ زیادہ ہی بھاری محسوس ہو رہی تھی۔ مگر دیکھنے میں وہ اِس سے بالکل اُلٹ نکلے۔اِن سے قبل جن مشہور شعراءکو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھااُن کے حلیہ، بات چیت، چال ڈھال وغیرہ کے لحا ظ سے یہ حضرت مختلف تھے۔پہلے اُن کا اور میرا ساتھ واجبی اور سرکاری سا رہا مگر پھر بہت جلد یہ بے تکلف دوستی میں بدل گےا۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ تعلق اب بھی قائم ہے۔ پا کستان ٹیلی و ژن کراچی مرکز میں شبی فاروقی(م) اور مُحمد ناصر موسیقار کی دھن پر بہت ہی تےز رفتاری سے بو ل لکھتے تھے ۔ میں خود کئی ایک مرتبہ تخلیق کے اس منظر کا چشم دید گوا ہ ہوں جب دُھن پر ےا ’ ڈمی ‘ بول پر محمد ناصر گیت لکھتے تھے۔ انہوں نے موسیقار نےاز احمد، کریم شہاب الدین، جاوید اللہ دتّہ ، اختر اللہ د تّہ، محبوب اشرف اور دوسرے موسیقاروں کے لئے گیت لکھے ۔ نثار بزمی صاحب کے ساتھ بھی کام کیا حالانکہ بزمی صاحب کے ساتھ کام کرنا بجائے خود بہت مشکل کام تھا ۔وہ کبھی بہترین سے کم پر مطمئن نہیں ہوتے تھے۔
سمیر بمقابلہ محمد ناصر:
اب ذر ا محبوب اشرف صاحبان کا زکر ہو جائے۔ حسن جہانگیر کی آواز میں محمد ناصر کا گیت: ’ ہوا ہوا اے ہوا خوشبو لٹا دے ، کہاں کھلی ہاں کھلی زلف بتا دے ‘ کی طرز محبوب اور اشرف صاحبان المعروف محبوب اشرف نے بنائی تھی۔ یہ گیت مقبول ہو کر سرحد پار بھارت چلا گےا۔وہاں فلم ” انصاف اپنے لہو سے “ ( 1994) میں دوبارہ انہی حسن جہانگیر کی آواز میں موسیقار جوڑی لکشمی کانت پیارے لال نے آکسٹرا کے ساتھ بمبئی کے کسی اسٹوڈیو میں صدا بند کروایا۔ فلم کی تشہیر کے سلسلہ میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈےا میں گلوکار کا نام تو حسن جہانگیر ہی ہے البتہ گیت نگار کا نام سمیر نظر آتا ہے۔ آپ بھی انٹرنیٹ پر مذکورہ فلم کی تفصیل میں یہ دیکھ سکتے ہیں۔ بہرحال اس گیت کی وجہ سے خاصی ہلچل رہی مگر بقول پروین شاکر : ’ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی ‘ ۔ اگر آپ غیر جانب دار ہو کر بہت سے سازوں اور بمبئی کے صفِ اوّل کے اسٹوڈیو میں صدابند کروائے گئے ’ اُس ‘ فِلمی گیت اور پھر محبوب اشرف کا کم سازوں سے ریکارڈ شدہ اصل گیت ساتھ ساتھ سُنیں تو بجا طور پر ہمارا کام اُن سے کہیں بہتر لگے گا۔
کیا قوالی لکھی جا سکتی ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ باتوں باتوں میں ذکر چل نکلا کہ کےا محفلِ سماع کے لئے باقاعدہ قوالی بھی لکھی جا سکتی ہے؟ جواب میں موصوف نے غلام فرید مقبول صابری قوال کے لئے یہ کام کر کے اس سوال کا جواب دے دیا جو پی ٹی وی کراچی مرکزسے نشر بھی ہوئی۔ یہ بہت عجیب سی بات ہے کیوں کہ قوالی میں کوئی شعر کہیں سے کوئی کہیں سے، کوئی دوہے، کوئی حضرت امیر خسرو ؒ رحمة اللہ علیہ کے مشہور گیتوں کے شعر ، تو کوئی حمدیہ شعر، کوئی منقبت کے بند…. اب پاکستان ٹیلی وژن کی25 منٹ کی قوالی میں اگر یہ سب کچھ شامِل ہو جِس کا اوپر کی سطور میں ذکر ہو چکا ہے تو ایسا کام کرنا خاصی ٹیڑھی کھیر ہے۔
یہ 1981 کا زمانہ ہو گا۔ میری رہائش کراچی کے علاقہ حسن اسکوائر، گلشنِ اِقبال میں تھی۔ موصوف شاہ فیصل کالونی میں رہتے تھے اور باقاعدگی سے جوگنگ اور دیگر ورزشوں کے لئے علی الصباح حسن اسکوائر کے قرےب ایک میدان میں آتے۔ پھر وہاں سے میرے غریب خانے آ کر میری والدہ کے ہاتھ کے بنے پراٹھے اور گھر کے دہی سے ناشتہ کر کے واپس اپنے گھر…. وہ اپنا کام دھندہ دِن کے گےارہ بجے کے بعد شروع کرتے تھے۔ وہ بھی کتنے اچھے اور سادگی سے پُر دِن تھے۔ میری و الدہ کو وہ ’ امی جان ‘ کہتے اور میری والدہ مرحومہ کے لئے وہ بیٹوں کی طرح سے تھے۔اِن کو شاےد ہی کبھی پتلون قمیض میں دیکھا ہو گا۔سادہ شلوار قمیض اور دائیں ہاتھ میں ایک بریف کیس جو اُن کی پہچان تھا۔ دائیں ہاتھ میں بریف کیس ہے سامنے سے آپ آ جا ئیں تو نہایت ہی برق رفتاری سے بریف کیس دائیں سے بائیں ہاتھ میں آ جاتا او ر اپنے ہاتھ سے آپ کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ایسی ’ بے تکلفی ‘ سے دباتے کہ اللہ کی پناہ !! بات محمد ناصر بحیثےت شاعر شروع ہو کر کہاں جا اٹکی۔ یہ اہلِ قلم اور فنکار پہلے اِنسان ہوتے ہیں بعد میں کچھ اور …. محمد ناصر کے علاوہ راقِم کا اِس قدر دوستانہ کسی اور شاعر ےا فنکار سے نہیں رہا۔ جلوت اور خلوت میں یہ صلح جو، دھیمے مزاج والے ، وقت کی پابندی میں اپنی مثال آپ۔ زےادہ تر اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان ہیں۔عام طور سے کام کے دوران غصّہ کم کم آتا تھا۔
فلموں کے گیت:
محمد ناصر نے ہدایتکارہ شمیم آرا کی فلم ” کبھی ہاں کبھی نا “ ( 1998) کے تمام گیت لکھے۔موسیقار امجد بوبی تھے۔اِس فلم کا ایک گیت بہت مشہور ہوا تھا: ’ آج میرا ناچے گی….‘۔انہوں نے ہدایتکار فُرقان حیدر کی عید الفطر بروز جمعہ 3 مارچ 1995 نمائش کے لئے پیش ہونے والی فلم ” مسٹر کے 2 “ کے بھی گیت لکھے ۔اس فلم کے موسیقار کمال احمد تھے۔
ٹی وی ڈر ا موں کے ٹائٹل سونگ:
عالمگیر کے منظر سے ہٹنے کے بعد تحسین جاوید، حسن جہانگیر اور کراچی کے دیگرفنکاروں کے سی ڈی البموں کے بیشتر نغمات اِن ہی کے لِکھے ہوئے ہیں۔ پچھلے کئی ایک سال سے آپ ٹی وی ڈراموں کے ” ٹائٹل سونگ “ لکھ رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں اِنہوں نے زےادہ تر موسیقار وقار علی جو گلوکار سجاد علی کے بھائی ہیں، اُن کے لئے لکھے ہیں۔ پچھلے دنوں جیو ٹی وی سے ڈرامہ ” حِنا کی خوشبو “ نشرِ مُکرّر ہو ا ۔اس میں ان کا لکھا ہوا عنوانی گیت ہے۔ موسیقی واجد سعید کی ہے۔ ڈرامے : ” کچھ تو کہا ہوتا “ اور ” چھوٹی سی غلطی “ میں بھی اِ ن کے گیت صدابند ہو چکے ہیں ۔ پی ٹی وی کراچی سے (2016 سے 2018 ) پرانے گیتوں کا پروگرام ” ےادوں کے رنگ گیتوں کے سنگ “ بلال نقوی پیش کرتے تھے ۔اس میں بھی محمد ناصر کے گیت تقریباََ ہر ایک پروگرام میں دیکھنے کو ملے ۔
ایک دلچسپ واقعہ:
1981 کے اواخر میں مجھے کراچی مرکز کے ہفتہ وار موسیقی کے پروگرام ’ آواز و انداز ‘ کو جلد ریکارڈ کر نا تھا۔ اُس وقت آس پاس اختر اللہ دتّہ سب سے موزوں موسیقار دِکھائی دئیے۔شام کو ناصر صاحب کوبتلا دےا گےا کہ صبح 10 بجے وہ اختر صاحب کے گھر آ جائیں جہاں گیت لکھنے ہیں۔ مذکورہ صبح کے سات بھی نہ بجے ہوں گے کہ میری والدہ نے مجھے اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ناصر کب سے آےا بیٹھا ہے۔ جب تمہیں اُس کے ساتھ کہیں جانا تھا تو اب تک کیوں پڑے سورہے ہو؟ اب آپ کر لیں بحث ….حضرت پراٹھوں سے انصاف کرتے جاتے اور کھی کھی کرتے جا رہے تھے۔ ہم دونوں 9 بجے اختر صاحب کے ہاں موجود تھے ۔اِس سے پہلے کہ اختر صاحب گٹار ےا کی بورڈ پکڑتے، ناصر صاحب نے اپنا بریف کیس کھولا قلم اور چند سادا صفحات نکال کر سامنے رکھ لئے ۔اختر صاحب نے کہا کہ عابدہ پروین کے لئے سب سے پہلے لکھتے ہیں۔پڑھنے والوں کے لئے یہ بات ےقیناََ دلچسپی کا باعث ہوگی کہ گلوکارہ عابدہ پروین اِس گیت سے پہلے صرف سِندھی علاقائی پروگراموں تک ہی محدود تھیں ۔ناصر صاحب اُن کو نہیں جانتے تھے۔ جب اُنکو بتلاےا گےا کہ سریلی اور کھلے ’ سبتک ‘ wide octave range والی آواز ہے تو بے ساختہ پہلا لفظ جو اُن کے منہ سے ادا ہوا وہ ’ صبح ‘ تھا۔کہنے لگے سُریلے پرندے اللہ کی ثناء صبح سوےرے شروع کرتے ہیں لہٰذا عابدہ کے لئے گےت کا پہلا لفظ بھی صبح ہی ہو گا۔لیجئے جناب مکھڑا تےارہو گےا:
صبح کی پہلی کرن میری آنکھوں سے ملی
جانے کےا بات کہی نینوں نے میرے
سپنوں سے تیرے
ٍ اُردو میں یہ عابدہ پروین کا پہلا گےت تھا جو پروڈےوسر سلطانہ صدیقی اور میرے پروگرام ’ سُر سنگم ‘ میں 1981 کے در میانی عرصہ میں نشر ہوا ۔ اِس پروگرام میں ایک تجربہ کیا گےا تھا کہ تمام نغمات /گیت /غزل کا دورانیہ ڈھائی منٹ ہو گا ۔یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ گئے زمانے کے گر ا موفون ریکارڈ بھی ڈھائی سے تین منٹ دورانیہ کے تھے۔ بحث آج تک چل رہی ہے کہ گانے کا وہ کیا دورانیہ ہے جِس سے اِنسانی کان لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔اور کہاں سے یہ لطف بتدریج کم ہو کر دماغ پر گراں محسوس ہونے لگتا ہے۔اِس سلسلہ میں امریکی اور برطانوی محققوں نے وہی پرانا دورانیہ ، یعنی ڈھائی سے تین منٹ کا بتلاےا ہے۔چونکہ راقِم نے اپنی عملی زندگی میں اوّل کام گراموفون کمپنی آف پاکِستان EMI Pakistan کراچی اسٹوڈیو سے صدابندی کا ہی سیکھا تھا لہٰذا پی ٹی وی کے پروگرام منیجر سے اجازت لے کر 25 منٹ کے دورانیہ کے پروگرام میں 9 سے 10 گےت رکھے ۔ آےا یہ پروگرام عوام نے پسند کیا ےا مُسترد ؟ یہ شاید کم اہم بات ہو۔زےادہ اہم بات یہ ہے کہ گلوکاروں/ موسیقاروں/شاعروں اور سازندوں کے لئے یہ ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوا۔ کیسے؟ ایسے کہ کہاں تین سے چار گیتوں کا معاوضہ کہاں 10 گیتوں کا !!!
محمد علی شہکی کا کلاسیکل گیت گانا:
اگلا گلوکار محمد علی شہکی تھا۔راقِم نے اختر صاحب سے فرمائش کی کیوں نہ ایک گیت خالص کلاسیکی انگ میں تےار کیا جائے۔راگوں کو اُن کے نام لے کر چھیڑا جانے لگا۔ مثلاََ ایمن، جونپوری، پیلو، دیس، مالکوس، درباری، بہار، میگھ، بھیرو، ملہار، گونڈ سارنگ اور دوسرے۔ کچھ سے تو یہ خاکسار بھی آشنا تھا ۔ سب راگ اپنی اپنی جگہ بھر پور تاثر والے ہوتے ہیں، لیکن کےا کیجئے اُ ن ڈھائی منٹ دورانئے کو …. تب اختر صاحب نے ایک راگ کے بنےادی سُر چھیڑے ےقین مانئے کہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصّہ میں میرے دِل کو گوےا راگ نے اپنی مُٹھی میں جکڑ لیا !! میں نے بےساختہ کہا کہ یہی ہے جسکی تلاش تھی۔ وہ راگ ’ جھنجھوٹی ‘ تھا۔ فیض احمد فیض کی
لکھی اور مہدی حسن کی گائی ہوئی غزل ’ گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے…. ‘ اِسی راگ میں ہے۔فوراََ غزل انگ میں بول لکھے گئے:
تےرے بِن کیسے بیتیں یہ راتیں
نیندیں کہاں ہیں کون بتائے
ڈھائی منٹ کے اِس گےت میں ’ آکار ‘ بھی تھی۔اختر صاحب کے بڑے بھائی ، جاوےد اللہ دتّہ صاحب اپنی مصروفےت میں سے وقت نکال کر صرف اِس گےت کے لئے سِتار بجانے آئے ۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آج بھی اگر آپ یہ گیت ٹی وی پر دیکھیں ےا اِس کا آڈےو سنیں تو ایسا بھر پور ماحول رچتا ہے کہ یہ خاکسار بھی حیران ہو جاتا ہے کہ کتنے کم وقت میں یہ لکھا گےا، طرز بنی ، محمد علی شہکی نے جی توڑ کر محنت کی اور اِس کی صدابندی میں کِس مہارت سے شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کے شریف صاحب نے گلوکار کے اندر سے اِس گیت کی روح کو نچوڑ لیا۔کیا کمال کے لوگ تھے!!
ہاں ! لکھتے وقت اکثر محمدناصر کو ردھم کی ضرورت ہو تی تھی۔ایک اِس کا بھی قصّہ ہو جائے۔اِتفاق سے اِس میں بھی موسیقار اختر صاحب ہی تھے۔ ’ آواز و انداز ‘ میں گلوکارہ مہناز کے لئے گیت لکھنے تھے۔شاعر مشین نہیں کہ اِدھر خام مال ڈالو اُدھر بول تےار ۔ کبھی کبھار گےت میں بولوں کی آمد رُک بھی جاتی ہے۔ ہو ا یوں کہ ایک مُکھڑے کے پہلے مصرعے پر سوئی اٹک گئی۔ حضرت نے فوراََ کہا کہ کسی گُردہ کلیجی یعنی کھٹا کھٹ بنانے والے کے پاس بٹھا دو ، منٹوں میں گیت تےار ہو جائے گا۔مےرے عزیز دوست اور موسیقی سے شغف رکھنے والے عدنان الحق حقّی جِن کے نامور اور قابلِ فخر والدین، جناب شان الحق حقّی اور جناب سلمیٰ حقّی صاحبہ ہیں، اُن دِنوں کراچی میں کارساز کے علاقے میں ’ اِگلو اِن ‘ Igloo Inn کے نام سے ایک فاسٹ فوڈ اور باربی کےو کا کاروبار کرتے تھے۔میں سیدھا اختر اور ناصر صاحبان کو لے کر اُ ن کے پاس پہنچا ۔ ابھی تو شام ٹھیک سے اُتری بھی نہیں تھی۔ کاروبار کی سیج ہی سجائی جا رہی تھی۔بہر حال کھٹا کھٹ والے کو خالی اور ٹھنڈے توے ہی پر کھٹا کھٹ کرنے پر لگا دےا گےا۔ راقِم، عدنان اور اختر صاحبان قریب ایک میز پر بیٹھ گئے۔محمدناصر ےکسوئی سے نظریں خالی صفحہ پر مرکوز کر کے بیٹھ گئے اور چند ہی لمحات میں قلم کاغذ پر دوڑنے لگا اور گےت مکمل ہوا۔گیت کے بول میرے ذہن سے نکل گئے ہیں۔
ایک مر تبہ موصوف سے میں نے سوال کیا: ” پاکستان ٹیلی وژن کے لئے کِس پروگرام کے لئے سب سے پہلے گیت لکھے“۔ انہوں نے جواب دےا : ” کراچی مرکز کے پروگرام ’ نغمہ زار ‘ کے لئے جِس کے پروڈےوسر امیر امام صاحب تھے۔میرا پہلے گیت کا مکھڑا تھا: ’ آج چلی ہوں میں بن ٹھن کے، اپنے پیا کے دیس ‘۔گلو کارہ مہناز اور موسیقار اُستاد نذر حسین تھے ©©“۔ جب پوچھا : ” آپ کے گیتوں میں ’ شام ‘ کا کافی ذکر مِلتا ہے۔یہ اِتفاق ہے ےا کچھ او ر “ ؟ جواب میں کہا: ” میں شام سے بہت متاثر ہوں “ …. پھر اُلٹا مجھ ہی سے پوچھا: ” اگلا سوال کرو “۔
بہرحال اللہ سے دعا ہے کہ محمد ناصر صحت سے آسودہ زندگی گزاریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں