Muhammad Nadeem Columnist and Chief Editor at Times Chicago and Toronto 575

شام میں ظلم کی انتہا اور مسلم اُمہ

اسلامی تاریخ کو دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کا نزول ہونے کے باوجود خود کو بے سروپا کرکے رکھ دیا ہے۔ نہ جانے یورپی ممالک کی طرح مسلمان ممالک نے بھی ہوش کے ناخن کیوں نہیں لئے۔ اپنے باہمی فرقوں کے جھگڑوں میں پڑنے سے قبل یہ کیوں نہیں سوچا کہ یہ دشمنوں کی چال ہے اور جب تمام یورپی ممالک امریکہ اور روس عقاب کی طرح مسلمانوں پر جھپٹ سکتے ہیں اور مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح یوں کاٹ رہے ہیں کہ نہ ہسپتال محفوظ ہیں نہ اسکول، نہ عورتیں اور نہ معصوم بچے مگر صرف طیب اردگان کے علاوہ کون ہے جس نے اس سفاکی کے خلاف آواز بلند کی ہو۔ حد تو یہ ہے کہ سکھ برادری کے لوگ شام میں لٹے پٹے مسلمانوں کو کھانے پینے کی اشیاءپہنچا رہے ہیں مگر دولت سے مالا مال سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک چپ سادھے خاموش تماشائی بنے سب کچھ تباہ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ عقل حیران ہے کہ پاکستان میں ذرا سی بات پر امریکی جھنڈے جلانے والے، احتجاج کرنے والے آج کہاں جا سوئے ہیں۔ بیرون ملک مقیم مسلمان کیوں خاموش تماشائی ہیں، کوئی ایسا نہیں کہ چند بینر لے کر اس ظلم اور جبر کے خلاف احتجاج کرے۔ مسلمانوں کی تاریخ اٹھائیں تو بنو امیہ اور بنو عباس کے مابین ہونے والی جنگ اور پھر تخت و تاج کی لالچ اور عیاشیوںکے غیر مسلم حریف حکمرانوں کے سامنے مسلمانوں کو مجبور و لاچار کرکے رکھ دیا۔ کہیں ہلاکو خان نے طویل عباسی خلافت کا نہایت بے دردی سے خاتمہ کردیا۔ پھر خلافت عثمانیہ قائم ہوئی تو مسلمانوں کا دور سنہری شروع ہوا مگر پھر بھی عربی اور عجمی کی تقسیم نے مسلمانوں کو ٹکڑیوں میں بانٹ دیا اور سعودی عرب سے ترک حکمرانوں کو نکلوا کر وہاں کے بھوکے اور ننگ دھڑنگ عرب قبیلے کے افراد میں بندر بانٹ کردی گئی اور وہ علاقہ سعودی عرب کہلانے کے بعد سے غیر ملکیوں کے زیر تسلط ہے۔ موجودہ دور تو سعودی عرب کو ایک ایسے اندھے کنویں میں دھکیلنے جارہا ہے کہ جس کے بعد مسلمانوں کے کعبة اللہ اور ہمارے رسول مقبول کے تقدس اور فرمودات کا جنازہ نکال کے رکھ دیا گیا ہے اور ماڈرن اسلام کی اصطلاح اپنائی جارہی ہے۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ جس پاکستان کے لئے ہندوستان کے مسلمانوں نے قربانیاں دیں، ایک اسلامی مملکت قائم ہوئی، وہاں بھی قومیت کے پرستاروں نے وہ گل کھلائے کہ آج پاکستان نہ صرف فرقوں میں بلکہ علاقوں اور زبانوں کی بنیاد پر بٹ کے رہ گیا ہے۔ جہاں یہ سمجھنا اور جاننا مشکل ہے کہ کون حب الوطن ہے اور کون غدار۔ فرنگی نہایت کامیابی سے اپنی چالیں چل رہے ہیں اور مسلمان ان کے دام میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔ پہلے صدام حسین پھر معمر قذافی اور اب شام۔۔۔ کاش مسلمان جان سکتے اور اپنے حکمرانوں کی حفاظت کرنا جانتے، سازشوں کا حصہ نہ بنتے تو آج شام یوں خون میں نہ نہاتا۔ آخر شام کے غریب عوام کا کیا قصور ہے؟ مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو شام کے بارے میں ایک لفظ کہنا گوارا نہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور بھارت کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔ مساجد کی حرمت کو مسمار کرنے والوں کے لئے مندر تعمیر کروا رہے ہیں اور یوں حالات گمبھیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ کاش یہ ہم جان سکتے کہ شام کے بعد اگلا نمبر ہمارا ہے اور ہماری آج کی خاموشی کل کے طوفان کا پیش خیمہ بنے گی۔ شام تو برباد ہو چکا ہے وہاں کے لاکھوں بچے یتیم ہو چکے ہیں، ہزاروں خواتین بیوہ ہو چکی ہیں، صرف ترکی ہی ہے جس نے عملی طور پر شام کے مسلمانوں کے لئے آواز بلند کی ہے۔ 2023ءمیں مغرب اور ترکی کا سو سالہ معاہدہ بھی ختم ہونے والا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس معاہدہ کے خاتمے سے قبل کیا کیا ختم ہوتا ہے؟ اور ترکی کے لئے مغربی ممالک معاہدے کی رو سے کیا چھوڑتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں