اسٹیٹس کو 126

علامہ اقبال سے شکوہ

علامہ اقبال نے قیام پاکستان کے لئے جو خواب دیکھا اس خواب کی ادھوری تعبیر تو پاکستان کی شکل میں سامنے آگئی، کہتے ہیں کبھی کبھی خواب کی تعبیر الٹی بھی ہو جاتی ہے یوں قیام پاکستان کے بعد کے حالات علامہ اقبال کے اس خواب کی الٹی تعبیر پیش کررہے ہیں۔ علامہ اقبال کی ایک نظم اپنے دور میں بہت مقبول ہوئی اس کا نام تھا شکوہ۔ حضرت صبا اکبر آبادی نے قیام پاکستان کے تقریباً بیس سال بعد ایک نظم تحریر کی تھی جس کا عنوان تھا ”علامہ اقبال سے شکوہ“ یوں علامہ اقبال کی نظم شکوہ کے جواب میں انہوں نے ایک تحریر کی۔ اور صبا اکبر ابادی نے علامہ اقبال سے شکوہ نظام تحریر کی۔ صبا اکبر آبادی کے شکوہ کا جواب موجودہ حالات ہیں۔
مولوی انشاءاللہ خان اخبار وطن کے مدیر تھے۔ علامہ اقبال کے پاس اکثر حاضر ہوتے، ان دنوں علامہ اقبال انارکلی بازار میں رہتے تھے، جہاں اکثر طوائفیں بھی آباد تھیں، حکومت نے ان طوائفوں کو دوسرے علاقے میں بسا دیا اس کے بعد مولوی انشاءاللہ خان کئی مرتبہ علامہ اقبال سے ملنے گئے، ہر مرتبہ یہ ہی معلوم ہوا علامہ اقبال نہیں ہیں۔ اتفاق سے ایک دن گھر پر مل گئے، مولوی صاحب نے مزاقاً کہا
”علامہ صاحب جب سے طوائفیں انارکلی سے اٹھوا دی گئی ہیں آپ کا دل یہاں نہیں لگتا“۔
علامہ نے برجستہ کہا ”مولوی صاحب وہ بھی تو وطن کی بہنیں ہیں“۔ علامہ اقبال کا ذوق لطیف بھی بہت بلند تھا اور ان کی علمیت بھی عروج پر تھی۔
اس ہی زمانے میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کی زبوں حالی سے متاثر ہو کر ایک معرکة آراءنظم تحریر کی جو کہ ”شکوہ“ کے نام سے بہت مقبول ہوئی مگر ساتھ ساتھ مولویوں نے اس پر بہت تنقید بھی کی، ان کا منہ بند کرنے کے لئے ایک اور نظم تحریر کی وہ بھی برصغیر میں بہت مقبول ہوئی اس کا نام تھا جواب شکوہ، اس طرح یہ دونوں نظمیں شکوہ اور جواب شکوہ کے نام سے آج بھی اپنے وقت کی موثر عکاسی کرتی ہیں۔
میرے والد حضرت صبا اکبر آبادی نے پاکستان ہجرت کے بعد تقریباً 45 سال اس ملک کی ہر طرح سے خدمت کی، شاعر کی نگاہیں اپنے دور میں بھی اور آنے والے وقت پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں۔ انہوں نے اب سے تقریباً پچاس سال پہلے ایک نظم علامہ اقبال کی نظر کی۔ اس کا عنوان تھا ”علامہ اقبال سے خطاب“ یہ نظم تقریباً 45 بندوں پر مشتمل ہے اس میں سے تقریباً سات بند ہمارے بھائی جان سلطان جمیل نسیم کو یاد تھے باقی نظم بھی والد حضرت صبا اکبر آبادی کی اس عادت کی نذر ہو گئی کہ وہ اپنے کلام کی موثر طور پر انتظام نہیں کرتے تھے۔ میں اس نظم کو علامہ اقبال سے شکوہ کے تحت اپنے قارائین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔

علامہ اقبال سے شکوہ
مجھے بھی اس نظم کے کچھ بند یاد ہیں۔ یہ نظم 45 بندوں پر مشتمل ہے اور عنوان ہے ”علامہ اقبال سے خطاب“۔ جو بند یاد ہیں وہ سن لیجئے۔
دیکھ اے اقبال اپنے خواب کی تعبیر دیکھ
جس کا خاکہ تو نے کھینچا تھا وہی تصویر دیکھ
ہاں نسیم باغ آزادی کی یہ تاثر دیکھ
محو غفلت اس چمن کا ہر جوان و پیر دیکھ
جلب زر ہے رشوتوں کی گرم بازاری بھی ہے
مکر بھی ہے بے ایمانی بھی ریا کاری بھی ہے
٭….٭….٭
حاکموں کو اپنے لہو و لعب سے فرصت کہاں
مصلحوں کو قوم کی اصلاح کی ہمت کہاں
بے حسوں میں حس کہاں عبرت کہاں غیرت کہاں
جو ملازم ہیں انہیں محنت کی عادت کہاں
دفتروں میں رہ کے کنبہ پروری آسان ہے
یہ بزرگوں کا وثیقہ ہے کہ پاکستان ہے
٭….٭….٭
اور پاکستان میں رہتے ہیں جو سرمایہ دار
حق بجانب ہے اگر محنت سے آئے ان کو عار
ان کے قبضے میں تو ہیں مزدوروں کے لیل و نہار
کونسلوں میں ان کی سیٹیں دفتروں میں اقتدار
سود کھانا باعث خیر و نجات ان کے لیے
لفظ مہمل ہے مگر فرض زکوٰة ان کے لیے
٭….٭….٭
جتنے شاعر ہیں انہیں یہ دھن کہ ان کا نام ہو
یا ریاست سے وظیفہ پائیں تو آرام ہو
ریڈیو پر غزلیں گائی جائیں تو کچھ کام ہو
ان کا اک اک شعر مہمل روکش الہام ہو
زلف و محرم کی حدوں سے فکر آگے جائے کیوں
ذہن عالی میں کوئی پھیکا تصور آئے کیوں
٭….٭….٭
جو تجارت پیش ہیں ان کا نیا ہنجار ہے
سٹہ بازی کو سمجھتے ہیں یہی بیوپار ہے
مطلع زریں انہیں ان کا سیہ بازار ہے
دولت ان کی داشتہ سرمایہ خدمت گار ہے
کون جھگڑا مفت کا اک مول لے مل کھول کر
چور بازاروں میں ملتا ہے نفع دل کھول کر
٭….٭….٭
مختصر یہ ہے کہ اے اقبال تیرا نیک خواب
ہو گیا حق ناشناسوں کے سبب سے اک عذاب
اب ضرورت ہے کہ پیدا ان میں ہو کچھ انقلاب
پھر کوئی پیغام دے اے شاعر عظمت ماب
پھر دوا تجویز کردے اے حکیم ان کے لیے
چاہیے پھر شدت ضرب کلیم ان کے لیے
٭….٭….٭
تلخ باتیں یہ جو تیرے لب پہ آئی ہیں صبا
سن کے ہو جائے نہ کوئی بے خبر تجھ سے خفا
اپنے بھی اعمال پر تونے نظر کی ہے ذرا
سچ بتا اب تک کیا ہے بہر پاکستان کیا
تو کبھی خوش ہم کو اے شیریں سخں ملتا نہیں
گھر کراچی میں تجھے اے بے وطن ملتا نہیں
اس پوری نظم میں پاکستان کی سیاسی، اخلاقی، معاشی، معاشرتی اور انتظامی حالت کو تنقید کا ہدف بنایا گیا ہے۔ اس لیے کہ پاکستان کے بارے میں تو ان کا تصور وہ تھا جس کا اظہار انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں بھی کئی نظموں میں کیا ہے۔
ہمارے دوست عزمی صاحب سے ایک مکالمہ بھی ہوا، انہوں نے کہا ”صبا صاحب کو آگرہ میں مجدد سخن کہا جاتا تھا اور یہاں لوگ انہیں کلاسیکی یا روایتی شاعر کہتے ہیں۔ اچھا یہ بتاﺅ جدید شاعر کسے کہتے ہیں؟“۔
میں نے عرض کیا ”کسی صنف کی ہیئت میں تبدیلی تجربہ کہلاتی ہے لیکن اپنے عصر اور اپنے عہد کے لوگوں کی ترجمانی کرنے والا ہی جدید کہلاتا ہے“۔
عزمی صاحب نے کہا۔ بالکل ٹھیک۔ ان تمام نظموں میں صبا صاحب نے اپنے عہد کی اور آنے والے عہد کے لوگوں کی ترجمانی کی ہے اس لیے وہ آج سے نصف صدی پہلے بھی مجدد سخن تھے اور آج بھی مجدد سخن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں