وزیر اعظم کی ناعاقبت اندیشی 39

فرقہ کو بنیاد بنا کر انسانوں کا قتل عام

پرانی کہاوت ہے کہ جب یہودیوں کا ہالوکاسٹ تھا تو دنیا خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہی۔ پھر عیسائیوں کا ظلم و جبر ہوا تو بھی دنیا تماشہ دیکھتی رہی۔ پھر مسلمان پر پوری دنیا تنگ کردی گئی۔ 9/11 نے پوری مسلم امہ کو بندوق کی نوک پر لے کر عراق، شام اور دیگر مسلم ممالک پر پابندیاں عائد کیں جو آج تک جاری ہیں۔ یورپی ممالک، امریکہ اور کینیڈا میں بھی آئے دن مسلمانوں پر حملہ کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں مگر ہم مسلمانوں نے بھی باہمی دشمنی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔
حال ہی میں ہونے والی شیعہ کمیونٹی کے گیارہ افراد کو جس سفاک انداز میں قتل کرکے شیعہ سنی فسادات برپا کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ مسلمان کسی فرقہ کا ہو اسے قتل کرنا یا اس سے اسی کے فرقہ کو بنیاد بنا کر نفرت کرنا قابل مذمت ہے۔ قتل کسی بھی مذہب کے فرد کا ہو یا کسی مسلمان کا خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو۔ انسانیت کا قتل ہے اور اس بات کا فیصلہ خدا کے حضور روز محشر ہی ہو گا کہ کون غازی ٹھہرا، کون شہید۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور یہ ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے تو کیونکر ان اقدامات پر سراپا احتجاج نہ بنا جائے۔ حالات جب ٹھیک ہوں گے۔ جب ہر مرنے والے سنی کے لئے تمام شیعہ اور ہر ذبح ہونے والے شیعہ کے لئے سنی اکھٹے ہو کر باہر نکلیں گے۔ وگرنہ ہم سب
الگ الگ روتے رہیں گے اور ہمارا دشمن ہمارے درمیان نفرتوں کے بیج بوتا رہے گا۔ کیوں نہ آج یہ عہد کیا جائے کہ قتل کسی انسان کا ہو کسی مذہب اور فرقہ کے فرد کا ہو، ہم سب یک جان ہو کر باہر نکلیں گے۔ پھر دیکھیں یہ لوگ کتنے ہی طاقتور ہوں انہیں سر چھپانے کی جگہ نہیں مل سکے گی اور یہ اپنے خطرناک ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
تو آئیے باہر نکلیے اور یہ نہ سوچیے کہ میں تو سنی ہوں یا میں شیعہ ہوں، ہم سب سے پہلے انسان ہیں اور انسانیت کا قتل روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں