42

قطر ایک استبدادی ریاست ہے، غیر ملکیوں کے ساتھ برتائو بھی خراب ہے: کینیڈین میڈیا

کینیڈا کے نیوز ٹی وی چینل CBC نے قطر پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ یہ تنقید قطر کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں وہاں مقیم کینیڈا کے شہریوں کو سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ملازمین کو دھمکی دی گئی ہے کہ موسم گرما کی تعطیلات میں اپنے ملکوں کا سفر کرنے کی صورت میں انہیں ملازمتوں سے علاحدہ کر دیا جائے گا۔
مذکورہ چینل نے قطر کو ایک استبدادی ریاست قرار دیا جو کرونا وائرس کا ایک گڑھ بن چکی ہے۔ یہاں آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دنیا بھر متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ “The College of the North Atlantic” کے کیمپس میں کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ملازمین یہ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ استبدادی ریاست میں محصور ہیں”۔ یہ کالج کینیڈا میں قائم ہے اور قطر میں اس کا ایک کیمپس واقع ہے۔
قطر اس وقت کرونا وائرس سے نمٹنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے۔ ملک کی آبادی 28 لاکھ ہے جب کہ یہاں روزانہ کرونا کے 1000 سے زیادہ کیس سامنے آ رہے ہیں۔
کینیڈا سے تعلق رکھنے والے کئی ملازمین نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر “CBS” نیوز سے بات چیت کی۔ ان افراد کو اندیشہ تھا کہ شناخت ظاہر ہونے پر قطر کی حکومت انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتے ہوئے ملازمت سے علاحدہ کر سکتی ہے۔
جمعے کی دوپہر جاری ایک بیان میں کینیڈا کے کالج کے قطر کیمپس نے تصدیق کر دی کہ ملازمین اپنی ذاتی ذمے داری پر سفر کے نتائج برداشت کریں گے۔ مقررہ وقت کے اندر وطن واپس نہ لوٹنے کی صورت میں انہیں ملازمت کے معاہدے سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ یہ کالم قطر کی ملکیت شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے 650 ملازمین اور 4500 طلبہ ہیں۔ ملازمین کی اکثریت کا تعلق کینیڈا سے ہے۔
کالج کا کیمپس بند ہونے اور انٹرنیٹ کے ذریعے تدریسی سیمسٹر کے اختتام پذیر ہونے کے بعد زیادہ تر ملازمین نے موسم گرما میں اپنے گھروں کو واپس لوٹنے کی کوشش کی۔ اس کا مقصد قطر کی شدید گرمی سے اجتناب برتنا تھا جو بسا اوقات 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔
چینل کی رپورٹ کے مطابق قطر غیر ملکیوں کے ساتھ برا برتاو¿ کر رہا ہے۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے افراد کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ قطر واپسی پر انہیں اپنے خرچے پر 14 دن تک کسی ہوٹل میں قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔ اس واسطے قطر سے روانگی سے قبل ہی انہیں ہوٹل کا کمرہ بک کرا لینا ہو گا! رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 14 روز کے قرنطینہ کے لیے تقریبا 5 ہزار ڈالر خرچ آئے گا۔
ایک ملازم پیشہ کینیڈین شہری نے بتایا کہ ہمارے پاس قطر میں اچھی رہائش گاہ ہے جہاں قرنطینہ میں رہا جا سکتا ہے. افسوس کی بات یہ ہے کہ واپس نہ آنے کی صورت میں کالج کی طرف سے ہمیں کام سے علاحدہ کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے”۔
رپورٹ کے مطابق قطر میں جمعے کی صبح تک کرونا وائرس کے 85000 سے زیادہ مصدقہ کیس سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں سے 93 افراد موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ جمعے کے روز مزید 7 افراد کی ہلاکت اور 1021 نئے کیسوں کے اندراج کا اعلان کیا گیا۔
ایک دن کے اندر 1000 سے زیادہ متاثرین کا انکشاف ہونے کا سلسلہ جاری رہنے کے باوجود قطر شاپنگ سینڑز جیسے عوامی مقامات دوبارہ کھولنے کے درپے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں