۔۔۔ جنہیں تصویر بنا آتی ہے 22

لو کرلو احتساب

بائیس کروڑ گونگے، بہروں اور اندھوں کو ”مبارک“ ہو، بدھائی ہو کہ پاکستان کی تاریخ کا ”تاریخ ساز“ ترین نہ انہوں نے سنا نہ دیکھا اور نہ بولے کہ چوروں اور ڈاکوﺅں نے تاریخ رقم کردی۔ قانون کی ایسی تیسی کردی، آئین کو روندھ ڈالا اور سب سیاسہ ترین دھوبے کے بیٹے، این آر او نمبر 2 سے نہار چاند جیسے بیٹے ہو گئے۔ یہ پھر ایسے ہو گئے کہ ان کی ماﺅں نے انہیں آج ہی جنا ہے۔ ان چھٹے ہوئے لٹیروں نے نیب کی 34 شقیں ختم کرکے خود کو فرشتہ بنا لیا ہے اس ترمیم پر صدر مملکت نے دستخط نہیں کئے مگر آئین کی ایک شق کی آڑ لے کر یہ قانون خود بخود قابل اطلاق ہو گیا۔ چور زندہ باد، لٹیرے پائندہ آباد۔
لوٹو اور خوب لوٹو، کوئی قانون تمہارا بال بھی باکا نہیں کر سکتا۔ شریف خاندان اور زرداری خاندان کے تمام جرائم معاف اور کرپشن کے کیسز داخل دفتر، نیب اب ایسی پر کٹی ہو گئی کہ اس کی پرواز ختم اب زمین پر رینگتی رہے۔ یہ قومی المیہ ہے کہ جس کا جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ نیب قوانین میں چھ ترامیم کی خوبصورتی یہ ہے کہ لوٹو اور نکل جاﺅ، پہلی ترمیم جو کہ یکم جنوری 85ءسے لاگو ہوں گی اس کا فائدہ تمام ملزمان کو ہوگا۔ دوسری ترمیم اہل خانہ کے اثاثے ملزم کے اثاثے تصور نہیں ہں گے، اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں تمام لوٹ مار کو اہل خانہ کے نام کردو، تیسری ترمیم اثاثوں کو ناجائز ثابت کرنے کی ذمہ داری نیب پر ملزم جوابدہ نہیں، سبحان اللہ، چوتھی ترمیم۔ ملزم کی جائیداد کی قیمت مارکیٹ کے بجائے ڈی سی ریٹ پر ہو گی اربوں کی جائیداد کروڑوں میں ظاہر کرو اور نکل جاﺅ۔ پانچویں ترمیم۔ دوران مقدمہ متنازعہ جائیداد ملزم فروخت کر سکتا ہے، چھٹی ترمیم۔ کیس ثابت نہ ہو تو نیب افسر کو پانچ سال کی سزا، اب کون پاگل افسر ہو گا جو اس پھڈے میں ٹانگ اڑائے کہ خود اس کی آزادی کے لالے پڑ جائیں۔ اب چوروں کے سارے راستے صاف ہو چکے ہیں یہی نہیں بلکہ سارے ملک کی ڈکیٹ بھنگڑہ ڈال رہے ہیں کہ سیاں بھٹے کوتوال نہیں ڈر کا ہے کا۔
یہ دراصل پی ڈی ایم کا ایجنڈا ہے، جو عوام کا درد لے کر آئے تھے۔ 50 کرور سے کم کی کرپشن کا کیس نیب میں نہیں چلے گا، سو اب 49 کروڑ 99 لاکھ 99 ہزار 99 روپیہ کی چوری کیجئے اور مزے کیجئے۔ 100 سے کم افراد کے ساتھ فراڈ کا کیس بھی نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اس پر بھی اوپر دیا گیا فارمولا اپنائیے اور سرخرو ہو جائیے۔ ان بے حس پاکستانیوں نے اتنے بڑے فیصلہ پر دم بھی نہیں مارا جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری قوم ہی ان ڈکیتوں کے ساتھ ہے۔ پاکستان کا سارا پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے، کوئی نہیں بولا، سب کو سانپ سونگھ گیا، امریکہ کی غلامی پر لوگ خاموش رہے کہ غلاموں کو احساس غلام ختم ہو چکا ہے۔ اب اس ملک میں ڈاکے ڈالنا اور قومی دولت کو باہر لے جانا کوئی جرم نہیں ہے۔ ایک دوسرے کو ماضی میں چور کہنے والے اور ثابت کرنے والے آپس میں شیر و شکر ہو گئے ہیں۔ اب کوئی کسی کے خلاف نہیں بولتا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ ایک وہ بڑبولے تھے کہ کہتے تھے کہ اگر حکومت ملی تو زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور ان کے پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکالیں گے اور اب ”امداد باہمی چوراں“ کے تحت نہ میں تیری کہوں اور نہ تو میری والی بات ہو گئی ہے۔ لوٹا ہوا مال ان دونوں چوروں پر حلال ہو گیا ہے اور تو اور وہ خود ساختہ مذہبی رہنما جو خود کو مولی کہلواتا ہے امریکی کے کہنے پر پاکستان کا ایئربیس کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر استعمال کرتے رہنے پر کچھ نہیں بولا جب کے ردعمل کے طور پر اس کے ہمراہ افغانی طالبان پاکستانی افواج کے جوانوں کو شہید کررہے ہیں۔ اور یہ بے غیرت خاموش ہے۔ آج وہ افراد جو آئی ایم ایف سے قرضے لے لے کر اپنے اکاﺅنٹس بھرتے رہے اور ملک کو قرضے کی دلدل میں دھکیلتے رہے، بالکل خاموش ہیں اور جب ایک شخص بولا تو سب مافیا والے اس کے خلاف ہو گئے۔ اسے یہودیوں کا ایجنٹ کہا اور غیر ملکی ایجنٹ کا خطاب دیا۔ آج یہ سب اپنے ان آقاﺅں کے رونے پر خاموش ہیں جو پاکستان کو مجبور کررہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرو ورنہ ہم سے آئندہ کوئی امید نہ رکھنا اور یہ بے حس قوم جس نے ملک کو دولخت ہوتے دیکھا، چوروں اور ڈاکوﺅں کو برداشت کیا اب بھی خاموش رہے گی اور عنقریب اسرائیلی پرچم اسلام آباد میں لہرا دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں