۔۔۔ اس کے بعد؟ 43

ماضی میں جھانک لو

ماضی بڑی ظالم چیز ہے یہ گزر تو جاتا ہے مگر تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے اس میں شہرت کے نشان بھی ہوتے ہیں اس میں بشارتیں بھی ہوتی ہیں اور اس میں تنبیہہ بھی ہوتے ہیں یہ انسانوں کو کچوچکے دے کر بتاتے ہیں کہ تم سے پہلے والوں پر کیا گزری اور یہ بھی پوچھتی ہیں کہ کیا تم نے ان سے سبق حاصل کیا۔ یہ کہتی ہیں کہ کیا خواب خرگوش سے جاگ گئے یا ابھی تک خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔ یہ انسانوں کو ان کے گزرے ہوئے کل کی تصویریں دکھاتی ہے یہ بڑی ظالم چیز ہے کسی سے رو رعایت نہیں کرتی بلکہ تلخ حقیقتوں کو کھول کر بیان کرتی ہے یہ بلاجھجھک کے انسان کے راز فاش کرتی ہے یہ بزرگوں کی غلطیوں کی نشاندہی کر کر حال کے انسانوں کو انہیں دہرانے کی تلقین کرتی ہے۔ یہ ماضی ہی ہے جو حال کو بہتر یا بہتر بنانے کا پیمانہ متعین کرتی ہے جس انسان یا قومیں انہیں اپنا مستقبل روش یا تاریک تر بنا سکتے ہیں جن افراد اور اقوام نے اپنے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا وہ تباہ و برباد ہو گئیں اور تاریخ پارینہ بن گئیں آج دنیا کے سامنے ماضی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اقوام کے عروج و زوال کے اسباب کیا تھے وہ اقوام جنہوں نے دنیا کو مسخر کیا ان پر کیا بیتی یا ان کے کیا اسباب تھے جو زوال کی اتاہ گگہرائیوں میں نابود ہو گئیں۔ وہ کون سے فاتح تھے جنہوں نے دنیا کو فتح کیا اور پھر مفتوح ہو کر اندھیرے میں گم ہو گئے۔ یہ ماضی ہی بتاتا ہے کہ وہ اقوام جنہیں ساری دنیا نے کم تر جانا اور جنہیں اپنا جیسا سمجھنا بھی تصور نہیں کیا انہوں نے کس طرح عروج حاصل کرکے اقوام عالم کو مسخر کیا اور اپنے عمل اور کردار سے اقوام عالم پر چھا گئے۔ آج اپ کو ماضی کی ایک جھلک دکھا دی جائے۔
عباسیہ حکومت کے آخری دور میں ایک وقت ایسا آیا کہ وہ عباسیہ مملکت جس نے اپنی فتوحات، علم و ادب، تہذیب و تمدن اور رویوں، کردار اور رواداری میں اقوام عالم میں ممتاز ترین مقام حاصل کیا تھا، جہاں دنیا بھر سے لوگ علم کے حصول کے لئے آتے تھے، جہاں کی لائبریریاں لاکھوں کتب سے آراستہ تھیں، جہاں علم و فن کی آبیاری ہوتی تھی، جہاں کے حکمرانوں کی سخاوت ضرب المثل تھی، جہاں راتوں میں علم و ادب کی محافل سجتی تھیں اور دن میں جدید علوم، تحقیقات اور نت نئے افکار سے لاکھوں افراد سیراب ہوتے تھے، جب مسلمانوں کے دارالخلافہ بغداد میں ہر دوسرے دن کسی نہ کسی دینی مسئلہ پر مناظرے ہونے لگے۔ جلد ہی وہ وقت بھی آگیا جب ایک ساتھ ایک ہی دن بغداد کے الگ الگ چوراہوں پر الگ الگ مناظرے ہورہے تھے۔ پہلا مناظرہ اس بات پر تھا کہ ’ایک وقت میں سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں؟“ دوسرا مناظرہ اس اہم موضوع پر کہ ”کوا حلال ہے کہ حرام؟“ تیسرے منظرے کا موضوع تھا کہ اور اصرار ہو رہا تھا اور تکرار چل رہی تھی ”مسواک کا شرعی سائز کتنا ہونا چاہئے؟“ ایک گروہ کا خیال تھا کہ ایک بالشت سے چھوٹی مسواک بھی جائز ہے۔
ابھی یہ مناظرے چل ہی رہے تھے کہ ہلاکو خان کی قیادت میں تاتاری فوج بغداد ی گلیوں میں داخل ہو گئی اور سب کچھ تہس نہس کرگئی۔ مسواک کی حرمت بچانے والے لوگ خود ہی بوٹی بوٹی ہو گئے۔ سوئی کی نک پر فرشتے بٹھانے والے اور فرشتے گننے والے کھوپڑیوں کے مینار بن گئے، جنہیں گننا بھی ممکن نہیں تھا۔کوئے کے گوشت پر بحث کرنے والوں کے مردہ جسم کوئے نوچ نوچ کر کھا رہے تھے۔ آج ہلاکو خان کو بغداد کو تباہ کئے سینکڑوں سال ہو گئے مگر قسم لے لیجئے جو مسلمانوں نے ماضے سے رتی بھر بھی سبق لیا ہو۔
آج ہم مسلمان پھر ویسے ہی مناظرے سوشل میڈیا پر یا اپنی محفلوں، جلسوں اور مسجدوں کے ممبر سے کررہے ہیں ”کہ داڑھی کی لمبائی کتنی ہونی چاہئے؟ یا پھر پاجامہ یا شلوار کی لمبائی ٹخنے سے کتنی نیچی یا کتنی اوپر شرعی اعتبار سے ہونی چاہئے؟ مردہ سن سکتا ہے یا نہیں سن سکتا؟ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا جائز ہے کہ نہیں؟ قوالی اور مشاعرے کرنا ہمارے مذہبی فرائض میں شامل ہونے لگے، فرقے اور مسلک کے ہمارے جھنڈا بردار اور ڈنڈہ بردار صرف اور صرف اپنے اپنے فرقوں کو جنت میں لے جانے کے دعوے کررہے
ہیں۔ ادھر دور جدید حاضر کا ہلاکو خان ایک ایک کرکے مسلم ممالک کو نیست و نابود کررہا ہے اور آگے بڑھتا چلا جارہا ہے۔
افغانستان، لیبیا، عراق کے بعد شامی بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں کی گنتی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ بے گناہوں کی کھوپڑیوں کے مینار پھر بنائے جارہے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر کی حالت زار ایسی ہے کہ زار و قطار رو کر بھی دل ہلکا نہیں ہوتا۔ آدم علیہ السلام کی نسل کے نوجوانوں، بوڑھے، اور بزرگوں کی لاشوں کو کوئے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں اور قوم کی بیٹیاق اپنی عصمت چھپائے امت کا چادر کا کونہ تلاش کررہی ہیں جی ہاں اور ہم خاموشی سے اپنی باری آنے کا انتظار کررہے ہیں۔ اگر ہم انہی بے معنی باتوں میں الجھے رہے تو دشمن نے یہ نہیں دیکھا کہ کس کی داڑھی چھوٹی ہے اور کس کا پاجامہ شلوار تخنوں سے اوپر ہے یا نیچی۔ جنگ میں دشمن کی گولی شیعہ، سنی، دیوبندی، اہل حدیث، بریلویکا فرق نہیں کرتی خدارا سوچئے اب بھی وقت ایک ہونے کا، اتفاق و اتحاد پیدا کرنے کے لئے اپنی رائے قربان کرنے کا، مگر قوم اتفاق و اتحاد پیدا کرنا تو درکنار اب ان باتوں پر باہم دست گریباں ہیں جو اگر دنیا کو معلوم ہو جائیں تو ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جائیں ایک گرہ کہہ رہا ہے کہ فلاں رنگ کی ٹوپی والے جنتی ہیں باقی دوزخ کے ایندھن تو دوسرا اپنی پگڑی کے رنگ کو جنت میں جانے کی چابی قرار دے رہا ہے گویا یہ اپنی باتوں سے جگ ہنسائی کے سامان پیدا کررہے ہیں اور ہمارے مخالف ان کے دینی بھائیوں کو نیست و نابود کررہے ہیں اور ہم ہیں کہ ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدن کی زندہ تصویر بنے ہوئے ہیں۔ تف ہے ہم پر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں