139

مسلمانان بھارت کے لئے آزمائشی وقت ہے

بابری مسجد کو شہید کرکے مندر بنانے کے لئے جب رتھ یاترا نکالی گئی اور اس کے نتیجے میں اس وقت کی نا اہل حکومت کے سامنے مسجد کو شہید کیا گیا تھا تب ہی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے یہ جان گئے تھے کہ اگر مسلمان خواب غفلت سے نہیں جاگیں گے تو حالات آئندہ چل کر بد سے بدتر ہو جائیں گے۔ مسجد کی شہادت کے بعد اگر اصل سازش کا پتہ ہوتا تو نعرے بازی، مقدمہ دائر کرکے یہ اطمینان نہ کرتے کہ مسجد پھر بنے گی۔ ایکشن کمیٹی بنائی گئی جس نے اپنی ساکھ بنانے اور ذاتی مفادات کے حصول کے لئے سنجیدگی کے بجائے جذباتی طرز پر اس مسئلے سے نبٹنے کی کوشش کی۔ اگر مقدمات کرکے عدالتوں سے انصاف کی امید کی بجائے مخالف فریقین سے مذاکرات کرکے کچھ لو اور دو کی بنیاد پر مسئلے کا حل تلاش کیا جاتا اور کوئی سمجھوتہ ہو جاتا، آنے والے دور میں اپنی ساکھ بنی رہتی اور بی جے پی جیسی جماعت کے لئے حصول اقتدار کی راہ ہموار نہ ہوتی۔ آنے والے وقت نے یہ بتایا کہ مسلمان اس پوزیشن میں نہیں کہ صرف اپنے بل بوتے پر کوئی بات منوا سکیں گے۔ جتنے الیکشن مسجد کی شہادت کے بعد ہوئے صحیح پلاننگ نہ ہونے سے مسلمان اپنے ووٹ کی طاقت کا استعمال نہ کرکے بی جے پی کے لئے آسانیاں پیدا کرتے گئے۔ کسی اپوزیشن جماعتوں کو اتحاد کی طرف راغب کر سکے اور نہ یہ کیا کہ مسلمان ووٹ تقسیم نہ ہونے کے لئے صرف کسی ایک غیر بی جے پی امیدوار کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے بلکہ مختلف اپوزیشن جماعتوں نے مسلم اکثریتی علاقوں سے مسلم امیدوار نامزد کرکے بی جے پی کے لئے راستہ صاف کیا۔ افسوس تو یہ ہے کہ جو علاقائی جماعت مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں اس نے بھی غیر دانشمندانہ فیصلے کرکے یہ پتہ ہوتے ہوئے بھی کہ اپنا امیدوار کامیاب نہیں ہو سکتا پھر بھی اپنا امیدوار کھڑا کرکے مسلم ووٹ بانٹے میں مدد کی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس علاقے میں بھی جو اپوزیشن کا امیدوار کی جیت کی توقع ہوتی وہاں اس جماعت کی تائید کرتے تو اس سے دوہرا فائدہ ہوتا ایک تو یہ کہ اس جماعت کے امیدوار کی جیت ہوتی اور اگر جیت نہ بھی ہوتی تو اس تائید کی وہ جماعت قدر کرتی اور مسلم مسائل کے حل میں مثبت رول ادا کرتی۔ بی جے پی نے یہ بخوبی پتہ لگایا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستان کی حکومت حاصل کرنا ہے تو ہندوتوا کا استعمال کرکے اس کارڈ کے ذریعہ جیت حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ صرف ہندوتوا کارڈ کا الیکشن کے وقت بھرپور استعمال کیا بلکہ مسلمانوں کے خلاف عام ہندو عوام کے ذہنوں میں زہر بھر دیا۔ افسوس کہ تمام اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کبھی متحد نہ ہو پاتیں اور بی جے پی کے خلاف صرف ایک مشترکہ امیدوار کسی بھی الیکشن کھڑا کرنے کا فیصلہ نہ ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج پچھلے دو پارلیمانی الیکشن اور کئی ریاستی الیکشن میں اقتدار پر بی جے پی کا قبضہ ہوگیا۔ بی جے پی جو ایک فاشسٹ جماعت ہے اور پچھلی ایک صدی سے جس کا ایجنڈا ہٹلر کی طرح یہ ہے کہ ہندوستان میں صرف ہندو مت کو ماننے والوں کو رہنے کا حق ہے اور جو غیر ہندو یعنی اصل ٹارگٹ مسلمان ہیں ان کو اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں جب تک کہ وہ مرتد ہو کر نعوذ باللہ ہندو نہ بن جائیں۔
بی جے پی جب پہلی بار مرارجی دیسائی کی قیادت میں اقتدار حاصل کی تھی اور اسی وقت مسلمانوں کو نوشتہ دیوار کو پڑھ لینا چاہئے تھا اور غیر بی جے پی جماعتوں کے پرچم تلے جمع ہو کر بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش ہوتی لیکن سارے ملک کے مسلمان اسی بصیرت افروز قیادت سے محروم رہے اور بجائے طویل مدتی پلاننگ کرنے کے مقامی طور پر منتشر اور کنفیوژ رہ کر جذباتی تقریروں اور نعرے لگانے ہی پر مطمئن بیٹھ گئے۔ یہی نہیں بلکہ بی جے پی کو اقتصادی اور معاشی طور پر کمزور کرنے کے لئے اس کے ماننے والے تاجروں کا اقتصادی اور معاشی بائیکاٹ ان سے خرید و فروخت کو بند کرکے نہیں کیا۔ منصوبے مسلمانوں کے قتل عام کے ہو رہے تھے، ہٹلر نے جس طرح معصوم یہودیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے تھے اسی طرح ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کی بھیانک تاریخ رقم ہونے جارہی تھی جس میں پولیس، فوج کا استعمال ان کے خلاف کیا جانے والا تھا یہی نہیں بلکہ عدلیہ بالخصوص سپریم کورٹ یا تو بے بسی سے تماشا دیکھنے والی تھی بلکہ خاموش حمایتی بی جے پی کی بننے والی تھی مگر مسلمان اپنے دین کی اصل تعلیمات کو پس پشت ڈال کر مسجدوں سے دور ہوتے گئے یا مسجدیں آباد بھی کیں تو ہر فرقے نہ اپنی مسجد ضرار قائم کرلی اور ایک دوسرے کے خلاف کافر و بدعتی کے فتوے دینے میں مصروف رہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ خالق اور مالک حقیقی اور ہر ضرورت کو پورا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ عقیدت اور محبت کے نام پر بزرگان دین اور اولیاءاللہ کی قبور پر جا کر منتیں مانگنے، ان سے حاجتیں پوری کرنے کی درخواست کرنے کو ہی اصل دین سمجھ لیا۔ یہی نہیں بلکہ زیارت قبور کی دین میں اجازت کا غلط مفہوم نکال کر سارے ہندوستان میں اولیاءاللہ کے مزارات پر غیر شرعی عمل اور ان مزارات کے متولی، سجادہ گان نے اس اندھی عقیدت کو اپنے لئے آمدنی کا بہترین ذریعہ سمجھا اور معصوم عوام کو یہ نام نہاد مذہبی قائدین اپنی لچھے دار تقریروں سے الفاظ کی بھول بھلیوں میں عام مسلمانوں کو نجات کے پروانے دینے لگے۔ یہی نہیں بلکہ شادیوں کے موقعے پر فضول خرچی، بے جا اور نا مناسب رسومات پر عمل کرکے جہیز کے نام پر ہزاروں لڑکیوں کو کنوارہ ہی دنیا سے رخصت ہونے پر مجبور کیا یا ان کو سبز باغ دکھا کر اور جنسی استحصال کرکے انہیں جسم فروشی یا ماڈرن کلچر کے نام پر نیم عریاں لباس میں ہوٹلوں میں ناچنے یا ٹی وی اور فلم انڈسٹری میں جسم کی نمائش کرکے یہ سمجھنے پر مجبور کیا کہ یہی اصل کلچر ہے۔ مذہب سے دوری ایسی بڑھی کہ غیر مسلم مرد و خواتین سے بیاہ ہونے لگے بلکہ بعض ایسے واقعات بھی ہوئے کہ مرتد ہو کر غیر مسلم بن گئے۔ آج جو مسلمانوں کے خلاف طلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں جس کی ابتداءگائے کشی کے بے بنیاد الزامات لگا کر قتل کرنے سے ہوئی، لَو جہاد کے نام پر مسلم لڑکیوں کو ورغلایا گیا، تین طلاق قانون بنایا گیا۔ کشمیر میں ظلم و بربریت آج کئی ماہ سے جاری ہے پھر یہ نئے نئے قانون مسلمانوں کو حق شہریت سے محروم کرنے کے بنائے گئے ہیں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ ہندوستان بھر میں مسلمان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور نوجوانوں نے یہ مثبت قدم اٹھایا ہے کہ اپنے ساتھ انصاف پسند غیر مسلم افراد کو شامل کر لیا ہے اور اکثر جگہ مسلمانوں کے شانہ بشانہ دلت اور دوسرے بچھڑے طبقات کے علاوہ سمجھدار، صاحب عقل اور انصاف پسند ہندو شامل ہو گئے ہیں جب حکومت نے کشمیر میں دفعہ 370 کو منسوخ کیا اور کشمیری احتجاج کرنے لگے تو دوسرے علاقوں کے مسلمان اس کو صرف کشمیر کا مسئلہ سمجھ کر آرام سے گھروں میں بیٹھے رہے جو اب اپنے سر پر تلوار لٹکنے لگی ہے اور اچھا یہ ہے کہ آہستہ آہست جاگتے جارہے ہیں اور حکومت کی یہ شاطرانہ چال ہے کہ کشمیر میں حالات کو ٹھنڈا کرنے NRC, CAA اور NPR کو لاگو کرنے کے فیصلے کئے جس سے اب کشمیر کی طرف سے ہندوستانی عوام ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر توجہ کم ہوتی جارہی ہے اور بے جے پی کی فاشسٹ حکومت کو یہ اطمینان ہو گیا ہے کہ جس طرح کشمیری ااحتجاج کمزور ہوتا جارہا ہے وہی آج ہو رہے دوسرے احتجاج کے ساتھ ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ بی جے پی اپنے منصوبے میں وقتی طور پر کامیاب ہو جائے لیکن جب تک ساری اپوزیشن جماعتیں متحد نہ ہو جائیں اور کسی بھی الیکشن بی جے پی امیدوار کے خلاف صرف ایک متحدہ امیدوار نہ کھڑا کریں گی تب تک بی جے پی شیطانی اقدامات سے باز نہ آئے گی۔ ریاستی الیکشن ہوں کہ پارلیمانی الیکشن ہوں جب تک بی جے پی کو اقتدار سے محروم نہیں کیا جاتا وہ اپنے شیطانی منصوبوں سے باز نہ آئے گی۔ ہندوستانی مسلمانوں کو سمجھداری کے ساتھ دور اندیشانہ منصوبے بنانے ہوں گے۔ قانونی ماہرین سے مشورہ کرکے اپنے کاغذات ہر مسلمان بنائے اور کوئی ایسا احتجاج نہ کریں کہ جو پرتشدد ہو جائے کیونکہ یہی تو حکومت چاہتی ہے کہ احتجاج کو روکنے کے بہانے معصوم عوام کے خون سے ہاتھ رنگے جائیں۔ مسلمانوں کی جان و مال کا نقصان ہو یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان غیر ضروری طور پر احتجاجات کے دوران پولیس ظلم کے یا کسی شرپسند لیڈر کے بیانات کو سوسل میڈیا پر نہ پھیلائیں تاکہ مسلمان خوفزدہ ہو کر نہ بیٹھ جائیں۔ مسلم صاحب حیثیت افراد شہید ہونے والے مسلمانوں اور زخمی ہونے یا جیل میں بند کئے جانے والے مسلمانوں کی اور ان کے افراد خاندان کی مدد کے لئے آگئے بڑھیں، بیرونی ممالک میں بسنے والے مسلمان ڈرائنگ روم میں چائے کا کپ لے کر سوشل میڈیا پر ظلم و بربیت کے ویڈیو شیئر کرنے کے بجائے تنظیمیں بنا کر فنڈ اکٹھا کریں اور مظلوموں کی مدد کریں سب سے بڑھ کر نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کو بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو مسجدیں آباد کرنی چاہئے جو کہ فرقہ واریت سے پاک ہوں۔ شادی بیاہ اور دوسری تقاریب میں سادگی کو اپنائیں اور اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم سے رشتہ مضبوط کریں ایک دوسرے پر انگلی اٹھانا چھوڑ کر اپنی اصلاح کی کوشش کریں، مانگیں چاہے جو بھی وہ صرف اللہ سے مانگیں، اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں