Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 86

مُردہ خوروں کی بستی

کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ مجھے اپنی لکھی ہوئی ایک پرانی کہانی یاد آگئی جو کہ ایک طویل خواب پر مبنی تھی لیکن آج میں سوچتا ہوں کہ یہ صرف ایک خواب نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ کہیں جاتے ہوئے سنسان راہوں پر راستہ بھول گیا ہوں اور بھٹکتے ہوئے ایک بستی میں پہنچ جاتا ہوں۔ بہت خوبصورت بستی ہے، پرسکون جگہ محسوس ہو رہی ہے لیکن بستی میں داخل ہو کر ایک بے نام سے کیفیت کا شکار ہو گیا ہوں۔ پر اسرار قسم کا ماحول لیکن میں سوچتا ہوں شاید تھکن کی وجہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے پھر میں اس بستی کے باسیوں کو دیکھتا ہوں ان کے چہروں پر بہت سکون اور اطمینان ہے۔ فکر فردا سے آزاد ہنستے مسکراتے خوش اخلاق ملنسار مجھے ان میں بہت اپنایت نظر آئی ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو مختلف علاقوں سے آکر اس بستی میں آباد ہو گئے تھے۔ میں نے متاثر ہو کر جلد ہی یہاں مستقل رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ دن اچھے گزر رہے تھے ان لوگوں کو کام، کھیتی باڑی کرنا، مویشی چرانا اور رات کو لمبی تان کر سو جانا، میرے یہاں کچھ دوست بھی بن گئے کچھ ہی دن میں مجھ پر وہی کیفیت طاری ہونا شروع ہو گئی۔ بے چینی، گھبراہٹ ایک تو یہاں ہر شخص کی آنکھوں میں ایک مخصوص چمک تھی جس کا میں نے پہلے کبھی خیال نہیں کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ حقیقت وہ نہیں ہے جو میں دیکھ رہا ہوں، لوگوں کا خلوص اپنایت مسکراتے چہرے ایک دکھاوہ نظر آرہے تھے۔
انہی سوچوں میں گم میں ٹہلتا ہوا اس بستی سے باہر تھوڑی دور نکل آیا۔ نا جانے میں کہاں چلا جا رہا تھا، ایک جگہ میں رکا تو فاصلے پر ایک اور بستی کے گھر نظر آنے لگے۔ ایک طرف ایک بڑا سا قبرستان تھا۔ برگد کے درخت جنوں کے سائے کی طرح کھڑے تھے، میں تھوڑا سا اور آگے بڑھا، ایک جگہ مجھے تین آدمی بیٹھے آپس میں باتوں میں مشغول نظر آئے، آہٹ سن کر انہوں نے گھوم کر میری طرف دیکھا اور اچانک اُٹھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ میں بڑا حیران ہوا اور مجھے ایسا لگا کہ میرے سینگ نکل ائے ہوں۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ مجھے دیکھ کر یہ لوگ کیوں بھاگے۔ بہرحال میں جیسے جیسے آگے بڑھا، مکانوں کے قریب کھڑے لوگ بھاگ بھاگ کر اپنے گھروں میں گھس گئے اور اندر سے دروازے بند کر لئے۔ یا خدا یہ کیا ماجرہ ہے، یہی کچھ سوچتا ہوا میں واپس پلٹ گیا، اپنی بستی پہنچ کر اپنے دوستوں سے اس واقعے کا ذکر کیا تو وہ ہنسنے لگے، میرا ایک دوست کہنے لگا اس بستی میں سب بے وقوف لوگ رہتے ہیں، تم آئندہ وہاں نہیں جانا لیکن مجھے اطمینان محسوس نہیں ہوا۔ مجھے اس اسرار پر سے پردہ اٹھانا تھا جب تک مجھے حقیقت کا علم نہیں ہو جاتا۔ میں چین سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ آخر وہ کیا وجہ تھی جو کہ بستی والے مجھے دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے لہذا کچھ دن کے بعد میں دوبارہ اس بستی کی طرف چل پڑا۔ فاصلہ کافی طویل تھا، پہنچتے پہچتے چاروں طرف شام کا ملجگا اندھیرا چھا گیا۔ میں قبرستان کے قریب سے گزرنے لگا تو مجھے کچھ آوازیں سنائی دیں۔ میں ٹھٹھک کر رک گیا۔ میں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں مگر مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا شاید میرا وہم ہو کہ یہ آوازیں قبرستان سے آرہی ہیں۔ میں دبے پاﺅں قبرستان میں داخل ہو گیا۔ آوازوں کے قریب پہنچ کر میں نے ایک درخت کی آڑ سے جھانک کر دیکھا، ایک بڑے سے گڑھے میں چار یا پانچ افراد بیٹھے نظر آئے اور جو کچھ میں نے دیکھا وہ میرے رونگٹھے کھڑے کر دینے کے لئے کافی تھا۔ میرا حلق خشک ہونے لگیا۔ خون جیسے رگوں میں جمنے لگا اور جیسے میرے پیروں میں جان نا رہی، وہ اس گڑھے میں بیٹھے کسی مردے کا گوشت کھا رہے تھے۔ میں ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ میری ہی بستی کے لوگ تھے۔ میرے پیٹ میں مروڑ شروع ہو گئی۔ میں نے تھوڑی دیر ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر دم لیا اور پھر بھاگتا ہوا اپنی بستی میں داخل ہوا۔ گھر پہنچ کر میں نے دو تین گلاس پانی پیا اور دھڑام سے بستر پر گر گیا۔ میرے دماغ میں بجلیاں کوند رہی تھیں۔ یاخدا یہ جو کچھ میں نے دیکھا، یہ کوئی خواب تھا یا حقیقت، اب میری سمجھ میں آگیا تھا کہ اس بستی کے لوگ مجھے دیکھ کر خوفزدہ کیوں ہو گئے تھے۔ ساری حقیقت مجھ پر عیاں ہو چکی تھی۔ مجھے اب اس بستی سے خوف آنے لگا تھا۔ اب میں نے سوچنا شروع کیا کہ اس بستی کے لوگ مویشی لیکن کھاتے نہیں تھے، کہیں دور جا کر بیچ آتے تھے، پوری بستی میں کوئی گوشت کی دکان نہیں تھی اور میں بھی آج تک سبزیوں پر ہی گزارہ کررہا تھا، کبھی کبھی میں کسی شخص سے مرغی خرید کر لاتا تھا اور ذبح کر کے پکا لیتا تھا۔ میں نے سوچا کہ میں اپنے دوستوں سے اس بات کا ذکر کروں گا اور جب میں نے ان سے ذکر کیا ان کی آنکھوں میں وہی خطرناک چمک نظر آئی جس سے مجھے خوف آتا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ایک شخص کہنے لگا ہاں یہ کچھ گندے لوگ ہیں جو مردہ انسانوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ مجھے ان کی مسکراہٹ میں ایک عجیب طرح کی شیطانیت نظر آئی۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ ہونے لگی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان کے چہروں پر نا ہی کوئی خوف کے آثار نظر آئے اور نا ہی ان کی باتوں میں کوئی حیرت تھی اس کا مطلب صاف تھا، میں مردہ آدم خوروں کی بستی میں رہ رہا تھا۔ میں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن زمین نے جیسے میرے قدم جکڑ لئے تھے۔ میں خوف سے چلایا اور میری آنکھ کھل گئی، میں پسینے سے شرابور تھا اور دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
اوہ میرے خدا کس قدر بھیانک خواب تھا لیکن آج میں سوچتا ہوں وہ خواب حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ زندہ اور تلخ حقیقت کیونکہ ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں بے شمار لوگ انسانوں کی بستی میں اس ہجوم و اژدھام میں آدم خور بھی بستے ہیں۔ کچھ تو واقعی انسانی گوشت کھاتے ہیں اور کچھ ایسے عوامل سے دوچار ہیں جن کہ بارے میں ہمارا مذہب کہتا ہے کہ یہ عمل انسانی گوشت کھانے سے مشابہہ ہے۔ نام و نمود اور جھوٹی تسکین کی خاطر انسانیت کے معیار سے گر جانا اپنے ذاتی مفاد کی خاطر پیر چومنا چاہے۔ سامنے کتا ہی کیوں نا کھڑا ہو۔ دل توڑنا انسانیت کی تذلیل کرنا، وہ کیا کیا برائیاں نہیں ہیں جو مردہ خور بستی میں ہو سکتی ہیں۔ مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ بن جاتا ہے جو سچ اور حقیقت کو دور رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو دھوکہ دینے والی زندگی کو ہی دنیا کیوں کہا جاتا ہے۔ برائیوں سے نفرت اور سچائی کی زندگی جینے کی خواہش مند بے شمار لوگ اس دنیا میں رہتے ہیں جو دنیا میں امن، آشتی، محبت اور اتحاد دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ سب بکھرے ہوئے ہیں جنہیں اکھٹا ہونے کا موقعہ نہیں دیا جاتا۔ یہ سب یکجا نہیں ہو پاتے۔ ان کے درمیان فاصلہ ہے اور اس فاصلے میں لوگوں کی بھیڑ ہے جو ان سے متفق نہیں ہیں جو سچ اور حقیقت کو پسند نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک وہ شخص بے وقوف ہوتا ہے جو سچ اور حق کے راستے پر چلے لیکن سچ ایک دن ضرور ان کے سامنے آتا ہے اور اس وقت یہ سچ برداشت کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ مجھے ہر لمحے یہ احساس ہوتا ہے کہ میں مردہ خوروں کی بستی میں رہ رہا ہوں۔ جہاں قدم قدم پر دھوکے باز اور فریبی نظر آتے ہیں وہ ایک خواب تھا لیکن یہ اس کی تعبیر ہے۔ لوگ کہتے ہیں تمہیں دنیا کے ساتھ چلنا نہیں آتا۔ کون سی دنیا؟ تم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ارے کون سی کامیابی؟ پتہ نہیں یہ لوگ کس چیز کو کامیابی کہتے ہیں۔ نامعلوم کون سے اعزاز کی بات کرتے ہیں، وہ لوگ جو جھوٹے کاروبار کرنے کے بعد بدعنوانیوں سے بہت سارا مال اکھٹا کرنے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں ان کی بڑی عزت ہے۔ اپنے اردگرد فصلی بٹیروں کو دیکھ کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔ مفلس ہو گئے تو بٹیریں غائب اور دنیا میں اکیلے رہ جاﺅ گے۔ اطمینان تو یہ ہے کہ ضمیر زندہ ہو، لوگ اچھے نام سے یاد رکھیں۔ پتہ نہیں میں اپنی جگہ صحیح ہوں یا غلط کیوں کہ اس کا فیصلہ کرنے والا کبھی بھی مجھے نہیں بتائے گا۔
میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے میں ابھی تک مردہ خوروں کی بستی میں رہ رہا ہوں۔ اپنے گھر میں اپنے کمرے میں قید ہوں۔ کھڑکی سے باہر جھانک کر ان مردہ خوروں کو دیکھ رہا ہوں۔ ہنس رہے ہیں۔ مسکرا رہے ہیں کہ اس کا گوشت کیسا ہو گا اور خواہش کررہے ہیں کہ کاش میں اسے کھا جاﺅں۔ یہ سب مجھ سے بے زار ہیں، میرے عزیز دوست بھی جو اسی بستی کے باسی ہیں، میں ایک دھوکے میں تھا اور اب اپنے خول اپنی ذات میں قید ہوں، نا ان مردہ آدم خوروں کی بھیڑ کم ہو گی اور نا ہی امن کے پیامبر پر خلوص لوگ ملیں گے جو اس بھیڑ کی وجہ سے فاصلے پر ہیں۔ میں کمرے میں تنہا باہر کا شور و غل سن رہا ہوں اور مجھے وحشت ہو رہی ہے۔ بے چارگی میں میری آنکھوں سے دو آنسو ٹپکے اور میرا سامنا نا کر سکے۔ جلدی سے مٹی میں مل گئے۔ کاش آنسو کے یہ دو قطرے بارگاہ الٰہی میں سوال بن کر چمکیں یا خدا یہ میرا خواب اتنا طویل کیوں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں