اب کی باری میاں صاحب کی باری 81

”نظام فاروقی“

سردی کا زور بہت تھا، تمام لوگ بس اسٹاپ کے شیڈ کے اندر ٹھسے ہوئے تھے اور بس کا انتظار کررہے تھے اور بس کا انتظار کررہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد دور سے بس آتی نظر آئی۔ تمام افراد باہر نکل کر فرٹ پاتھ کے کنارے آکر کھڑے ہو گئے۔ قریب آکر بس آہستہ آہستہ ہماری طرف پڑھنے لگی، فٹ پاتھ کے کنارے کھڑے لوگوں کے پاس آتے آتے ایک بوڑھی خاتون کے قریب اس طرح آکر کھڑی ہوئی کہ بس کا دروازہ عین اس بوڑھی خاتون کے سامنے آگیا۔ ڈرائیور نے دروازہ کھولتے ہی باقی لوگوں کو ٹھہرنے کا اشارہ کیا اور بس کے دروازے کے ایک حصے کو اتنا نیچے کر دیا کہ وہ بوڑھی خاتون آسانی سے دروازے کے ذریعہ اندر آسکے۔
کینیڈا میں برف باری کے موسم میں فٹ پاتھوں کو برف باری رکنے کے بعد فوراً صاف کردیا جاتا تاکہ کوئی برف برف پر پھسل کر نہ گرے اس ہی طرح فٹ پاتھ کو ہموار رکھنے کے لئے ان کی خاص دیکھ بھال کا محکمہ بنایا ہوا ہے۔ جب سے میں اس ملک کینیڈا میں وارد ہوا ہوں مجھے یہاں کے نظام میں حضرت عمرؓ فاروق اعظم کا نظام دکھائی دیتا ہے۔ جو اب سے تقریباً 14 سو سال پر 22 لاکھ مربع میل کی اسلامی حکومت کے نگہبان تھے وہ اس چھوٹی سی بات پر غمزدہ رہتے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یمن کے کسی راستے میں چلتے ہوئے خچر کو راستے کی ناہمواری کی وجہ سے ٹھوکر نہ لگ جائے وہ اپنی ذمہ داریوں کے خوف کی وجہ سے فکرمند رہتے اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر روتے، وہ اتنی کثرت سے روتے رہتے کہ ان کے چہرے پر آنسوﺅں کی وجہ سے دو لکیریں سی بن گئی تھیں۔ خوف اللہ میں اتنے مبتلا تھے کہ کہتے کہ آسمان سے یہ اعلان ہوا کہ سب لوگ جہنم میں ہوں گے سوائے ایک شخص کے، کبھی کبھی مجھے خوف آتا کہ شاید وہ واحد شخص میں نہ ہو حالانکہ وہ تمام امت کے امام تھے، حضرت علیؓ کو اپنا مربی سمجھتے، ان ہی سے ہر طرح کے دلکی بات کرکے مشورے کرتے۔ وہ عشرہ مبشرہ میں شامل ان دس ہستیوںؓ میں شامل تھے جن کی زندگیوں میں جنت کی بشاورت مل چکی تھی، یہ وہ ہستی تھے جن کے بارے میں اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا کہ ”میں نے جنت میں حضرت عمرؓ کا شاندار محل دیکھا ہے“۔ اس کے باوجود ان کی عاجزی اور انکساری کا عالم یہ تھا کہ اپنی بخشش کے لئے فکر مند رہتے۔ یہ وہ ہستیؓ تھے جب خلافت کے منصب سے پہلے ان کے رعب اور دبدبے سے لوگ خائف رہتے، فرماتے تھے کہ میرے نبی کے فرمان کو نہ ماننے والے کے لئے میری تلوار ہے۔ وہ اسلام کو قبول کرنے والوں میں چالیس ویں مسلمان تھے مگر جب آپ نے قبول اسلام کے بعد خانہ کعبہ میں تلوار لے کر اعلان کیا کہ وہ بھی عاشقان نبی میں شامل ہو کر اسلام قبول کر چکے ہیں تو مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اب سے پہلے تمام مسلمان خفیہ طور پر اسلام کا پیغام پہنچا رہے تھے۔ فاروقؓ اعظم کے قبول اسلام کے بعد اسلام کی کھلم کھلا اشاعت شروع ہوئی۔ آپؓ کے لئے جنت کی بشاورت کی روایات کی تعداد 539 ہے۔ آپ کی خلافت کے دوران مملکت اسلامیہ تقریباً 22 لاکھ مربع میل تک پھیل گئی تھی، آپؓ نے بہت سے نظام قائم کئے، جن میں نظام انصاف سب سے نمایاں ہے آپ کے رفیق اور حبیب مولا علیؓ کا فرمان ہے کہ کفر پر مبنی معاشرہ قائم رہ سکتا ہے، انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ آج جب دنیا کے فلاحی ملکوں کے نظام کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے معاشرے کی ترقی میں وہ بنیادیں ہیں جو فاروق اعظمؓ کے نظام حکومت میں تھیں۔ دور فاروقیؓ میں اب سے تقریباً چودہ سو سال پہلے جو مختلف نظام قائم کئے ہوئے تھے انہی نظام ہائے حکومت پر آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ ہمارا نیا ملک کینیڈا بھی ان ہی فلاحی مملکتوں میں ہے جس کی بنیاد فاروق اعظمؓ کے نظام کے مطابق رکھی گئی ہے۔
حضرت صبا اکبر آبادی نے فاروق اعظمؓ کو اس طرح خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
دعائے نبی
مچل کے موجہ زمزم چلا ہے ہونٹو پر
مری زباں سے ابلتا ہے چشمہ کوثر
فرشتے گوش بر آواز اب ہوں کیوں کر
بیان شوق ہے کھلتے ہیں فکر کے جوہر
فضا کو گوہر معنی سے بھر رہا ہوں میں
ثنائے حضرت فاروق کررہا ہوں میں
جو سربکف پے دین خدا رہا وہ عمرؓ
ہر ایک وہم کو جس نے مٹا دیا وہ عمرؓ
مزاج جس کا تھا توحید آشنا وہ عمرؓ
نبی نے جس کے لئے کی تھی خود دعا وہ عمرؓ
عمر سے خدمت دین رسول ہو کے رہی
نبی کے لب کی دعا تھی قبول ہو کے رہی
وہ جانشین پیمبر خلیفہ ثانی
عطا کیا تھا جسے حق نے زور ایمانی
تھی جس کے عدل سے پرنور بزم انسانی
ہے جس کے نام کی ضو سے فضا میں تابانی
ہر ایک معرکہ دیں کو سر کیا جس نے
فضائے کفر کو زیر و زر کیا جس نے
جمال دین نبی میں جلال اس کا ہے
زوال قوت باطل کمال اس کا ہے
اصول نظم جہاں سے مثال اس کا ہے
عروج پرچم بدر و ہلال اس کا ہے
دکھائیں نقش حقیقت میں بجلیاں بھر کے
نمرود قیصر کسریٰ کو سرنگوں کرکے
اس کا عزم تھا دین خدا کا استحکام
اس نے کر دیا روشن نبی کی شرع کا نام
اس کے دم کے پھلا پھولا گلشن اسلام
جسے رسول کا پہلو ملا پئے آرام
نبی کے در پر جوہر سلام جاتا ہے
وہ بارگاہ عمرؓ میں بھی ہو کے آتا ہے
قلم کو روکتا ہوں شوق میں سلام کے ساتھ
رہے گا نام عمرؓ بھی نبی کے نام کے ساتھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں